جیکب آباد ایجوکیشن ورکس میں ’’جون کلوزنگ‘‘ کا میگا اسکینڈل

جیکب آباد (نمائندہ جسارت)جیکب آباد ایجوکیشن ورکس میں ‘جون کلوزنگ’ کا میگا اسکینڈل! اسکولز کی مرمت کے نام پر5کروڑ23 لاکھ سے زائد ہضم،صرف ایک ہی ماہ (جون) کے اندر عبدالنبی ایسوسی ایٹس، محمد شریف، علی محمد مہر اور ایم اے جمالی انٹرپرائزز کو کروڑوں کی اندھا دھند ادائیگیاں!ایکسین اور اے ای این کا دہرا چارج رکھنے والیایک ہی شخص کی جادوگری؛ کس اسکول کی مرمت ہوئی؟ ریکارڈ بتانے سے صاف انکاری!کاغذی تعمیرات اور جعلی بلنگ کا گورکھ دھندا! نیب اور اینٹی کرپشن سے ۵ کروڑ ۳۲ لاکھ کے کھاتے کی فوری تفتیش کا زوردار مطالبہ تفصیلات کے مطابق ضلع جیکب آباد کے شعبہ ایجوکیشن ورکس میں مالی سال کے آخری مہینے (جون) میں سرکاری فنڈز پر سفاکانہ ڈاکا ڈال دیا گیا! تباہ حال اور بنیادی سہولیات سے محروم اسکولوں کی نام نہاد مرمت و بحالی کا ڈرامہ رچا کر چیدہ چیدہ من پسند ٹھیکیداروں اور کمپنیوں کو5 کروڑ 23لاکھ16 ہزار روپے سے زائد کی خطیر رقم خاموشی سے جاری کر دی گئی ہے۔ زمینی حقائق کے برعکس کاغذی کارروائی کے ذریعے اربوں کے فنڈز اڑانے والے اس میگا اسکینڈل نے ضلع کی تعلیمی عمارتوں کی ناقص صورتحال پر گہرے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ محکمہ ایجوکیشن ورکس کے شاہانہ فنڈز کو جون کے محض30 دنوں کے اندر فرضی بلوں کی بنا پر مندرجہ ذیل منظورِ نظر وینڈرز اور کمپنیوں کے کھاتوں میں منتقل کیا گیاجن میں عبدالنبی ایسوسی ایٹس،محمد شریف ، علی محمد مہر ، ایم اے جمالی انٹرپرائزز ، عبدالغفور اور دیگر ٹھیکیدارشامل ہیںحیرت انگیز امر یہ ہے کہ جون کے شدید گرم اور تعلیمی تعطیلات والے مہینے میں ضلع کے کون سے اسکولوں کی اتنی بڑی سطح پر مرمت کی گئی کہ5 کروڑ 23لاکھ روپے ایک ہی لمحے میں ساہا ہو گئے؟اس تمام تر مالی ہیر پھیر میں سب سے مرکزی اور متنازع کردار غلام یاسین جکھرانی کا سامنے آیا ہے، جو بیک وقت ایکسین اور اے ای این دونوں اہم عہدوں کے چارج پر براجمان ہیں۔جب میڈیا اور صحافیوں کی جانب سے موصوف سے ان5کروڑ 23لاکھ روپے کی ادائیگیاں وصول کرنے والے اسکولوں کی فہرست، مرمتی کام کی نوعیت اور موقع پر معائنے کی تفصیلات طلب کی گئیں، تو ایکشن غلام یاسین جکھرانی نے معلومات فراہم کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ ایکسین کی اس مجرمانہ خاموشی نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ تمام تر خطیر بجٹ بغیر کسی فزیکل کام کے صرف ‘کاغذوں کا پیٹ بھر کر’ ہڑپ کیا گیا ہے۔جیکب آباد کے عوامی و تعلیمی حلقوں، اساتذہ تنظیموں اور سول سوسائٹی نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک طرف ضلع کے بوائز اور گرلز اسکول چھتوں، چار دیواری، واش رومز اور پینے کے پانی سے محروم ہیں، جبکہ دوسری طرف ایجوکیشن ورکس کے افسران اور ٹھیکیداروں کا گٹھ جوڑ ہر سال جون میں کروڑوں روپے مرمت کے نام پر ڈکار جاتا ہے۔اہلِ جیکب آباد نے نیب سکھر، ڈائریکٹر اینٹی کرپشن سندھ، وزیرِ تعلیم سندھ اور چیف سیکرٹری سے فوری طور پرغیر جانبدارنہ تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے ایکسین اور اے ای این کا ناجائز دہرا چارج سنبھال کر شفافیت کی دھجیاں اڑانے والے افسر غلام یاسین جکھرانی کو فوری طور پر عہدے سے ہٹایا جائے۔جن اسکولوں کا نام دکھا کر رقم نکالی گئی ان کا معائنہ کیا جائے اور کاغذی بل پاس کرنے والے افسران اور تمام نامزد ٹھیکیداروں کے خلاف مقدمات درج کر کے قومی خزانے کا پیسہ واپس لیا جائے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *