امریکا اور ایران: مراکز ثقل کا ٹکرائو
(1)
امریکا ایران جنگ کا پانچواں مہینہ گزر رہا ہے۔ یہ عجیب جنگ ہے۔ ایران جنگ جیت نہیں سکتا مگر جنگ ہارا بھی نہیں ہے۔ امریکا ہار نہیں رہا ہے مگر جنگ جیتا بھی نہیں ہے۔ کسی ایک فریق کو واضح طور پر فاتح قرار دینا ممکن نہیں ہے۔ اگر جنگ کا معیار صرف خالص فوجی میٹرکس، فضائی برتری اور انفرا اسٹرکچر کی تباہی کو قرار دیا جائے تو امریکا واضح طور پر آگے ہے۔ امریکی اور اسرائیلی جنگی کارروائیوں میں ایران کے نقصانات بے پناہ ہیں لیکن جن اہداف کے تعاقب میں امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تھا وہ ابھی تک ان کے حصول میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔ امریکا کا بنیادی مقصد ایران میں حکومت کی تبدیلی (Regime Change) یا اس کے عزم کو توڑنا تھا۔ شدید ترین حملوں اور نقصانات کے باوجود تہران کا نظام قائم ہے اور وہ امریکا کے مقابل پیچھے ہٹ جائیں! ثابت ہوا یہ بھی خیال ہے، محال ہے اور جنوں ہے۔
امریکا کے پاس اتنی فوجی اور ایٹمی طاقت ہے کہ وہ کسی بھی ملک کو نقشے سے مٹا سکتا ہے، اور ایران کے پاس بھی اتنی صلاحیت ہے کہ وہ پورے مڈل ایسٹ کو آگ لگا دے لیکن دونوں ایسا نہیں کر رہے ہیں۔ جب بھی کوئی بڑا حملہ ہوتا ہے (جیسے ماضی میں جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت یا حالیہ جنگیں)، دونوں فریقین کے حملے نپے تلے ہوتے ہیں تاکہ بات ایک ایسی جنگ تک نہ پہنچے جسے سنبھالنا ناممکن ہو جائے۔ سیاسی عقل (Political Rationality) نے ابھی تک ’’مکمل یا مطلق جنگ‘‘ (Total War) کے جن کو بوتل میں بند کر رکھا ہے۔
دونوں ممالک کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ ایک دوسرے سے بات کرسکیں۔ اس سے ان کے عوام کی نظر میں ان کی کمزوری ظا ہر ہوگی۔ جنگ کے دوران جو سیاست جاری رہتی ہے اس سیاست کے لیے ایک ثالث یا پیغام رساں کی ضرورت ہوتی ہے۔ پاکستان کی صورت فریقین کو ایک ایسا ثالث میسر ہے جس پر دونوں اعتماد کرسکتے ہیں۔ ایک دوسرے کو اپنی ریڈ لائنز بتا سکتے ہیں تاکہ جنگ حد سے آگے بڑھ کر ’’مطلق جنگ‘‘ میں تبدیل نہ ہو جائے جیسے دوسری جنگ عظیم میں امریکا اور جاپان کی جنگ۔ جس میں تشدد کے استعمال کی سابقہ تمام حدیں پھلانگ دی گئی تھیں۔ جس میں ہدف کو نشانہ بنانے کے بجائے فریقین ایک دوسرے کی عسکری اور سیاسی قوت مکمل توڑنا چاہتے تھے۔
امریکا اور ایران کے درمیان جاری تصادم محض ہتھیاروں کی جنگ نہیں رہی۔ اس تزویراتی شطرنج میںکچھ معلوم مراکز ثقل اور طاقت کے منبع موجود ہیں تو دوسری طرف فریقین کے سیاسی اور معاشی عزائم پر جنگ کا ایک گہرا غبار چھایا ہوا ہے۔ جس کے پار دیکھنا فی الحال ان کے لیے ممکن نہیں۔ جس نے تذبذب کی وہ فضا پیدا کردی ہے کہ فریقین ایک دوسرے کی ظاہری جنگی طاقت سے باخبر ہونے کے باوجود پو شیدہ عسکری صلاحیتوں اور اگلے تزویراتی عزائم سے پوری طرح آگاہ نہیں ہیں۔
امریکی فوج کا اپنے ملک سے ہزاروں میل دور مشرق وسطیٰ میں جنگ لڑنا اس کے جدید کلائوڈ ڈیٹا سینٹر، سپلائی لا ئنز اور تیکنیکی برتری کا مرہون منت ہے۔ اس کے علاوہ امریکا کی طاقت اور مرکز ثقل دنیا میں بچھائے ہوئے اس کے جال میں ہے۔ اگر مشرق وسطیٰ (اسرائیل اور خلیجی ممالک) یا ناٹو کے اتحادیوں کا امریکی تحفظ اور اس کے وعدوں پر سے اعتماد اٹھ جائے تو امریکا کی ورلڈ سپر پاور کی حیثیت کا خاتمہ ہو جائے گا۔
امریکا کسی جنگ میں جب ہی حصہ لے سکتا ہے جب تک امریکی عوام اور کا نگریس اس کی اجازت دیں۔ اگر جنگ طویل ہو جائے، امریکی فوجیوں کا جانی نقصان ’’ایک آدھ‘‘ فوجی کی حد سے آگے بڑھ جائے یا معیشت متاثر ہو تو افغانستان اور ویت نام کی جنگ کی طرح امریکا پسپا ہونے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
ایران کا مرکز ثقل اور اس کی اصل قوت روایتی فوج سے ہٹ کر لڑنے میں ہے۔ ایران ایک غیر متناسب (Asymmetric War) جنگ لڑرہا ہے جس میں فریقین کی عسکری، مالی اور تیکنیکی طاقت میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ اس جنگ میں کمزور فریق یعنی ایران مضبوط فریق یعنی امریکا کی طاقت کا مقابلہ غیر روایتی اور غیر متوقع طریقے سے کررہا ہے۔ ایران کا مقصد امریکا کو ہراکر واشنگٹن پر ’’ایران کی پانچ ہزار سالہ پرانی تہذیب‘‘ کا پرچم لہرانا نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد امریکا کو اس حدتک تھکانا اور مالی نقصان پہنچانا ہے کہ وہ تنگ آکر خود مشرق وسطیٰ سے پیچھے ہٹ جائے۔ اس طریق جنگ میں ایران کا صرف بقا حاصل کر لینا ہی اس کی فتح مانی جائے گی۔
ایران کی اصل طاقت اس کے باقاعدہ عسکری اور انٹیلی جنس نیٹ ورک خاص طور پر سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی (IRGC) ہے۔ یہ وہ بنیادی قوت ہے جس نے ملک کے اندر سیاسی استحکام برقرار رکھا ہوا ہے اور سرحدوں سے باہر سیاسی اثر ورسوخ کو۔ ملک سے باہر ایران کا سب سے بڑا اور جارحانہ ہتھیار اس کا پراکسی نیٹ ورک (حزب اللہ، حوثی اور عراقی مزاحمتی گروپ) ہیں جو ایران کو یہ صلاحیت دیتے ہیں کہ وہ اپنی سرزمین کو براہ راست جنگ سے بچاتے ہوئے دور بیٹھ کر دشمن کو جنگ میں الجھا سکتے ہیں۔
جہاں تک آبنائے ہر مز کا تعلق ہے یہ ایران کا سب سے بڑا معاشی اور عسکری سینٹر آف گریویٹی ہے۔ دنیا کے بیس فی صد تیل کی سپلائی یہاں سے ہوتی ہے۔ یہ ایران کے پاس وہ طاقت، وہ چوک پوائنٹ ہے جس کو بند کرکے وہ عالمی معیشت اور منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ جو امریکا اور دنیا کے لیے ایک ڈرائو نا خواب بن چکا ہے۔
باب المندب اگرچہ ایران کا اپنا جغرافیائی مرکز ثقل نہیں ہے مگر یہ ایران سے ہزاروں میل دور بحیرۂ احمر (Red Sea) کے دہانے پر واقع اس کا وہ ’’دست غائب The invisible Hand‘‘ اور پوشیدہ ہاتھ ہے، جو اس کی طاقت کا سب سے بڑا مر کز بن چکا ہے۔ ایران نے یمن کے حوثی باغیوں (انصاراللہ) کو جدید ترین میزائل اور ڈرون فراہم کرکے باب المندب کی اس اہم ترین عالمی گزرگاہ پر ایک مضبوط بالادستی قائم کررکھی ہے۔ ایران جب چاہے اس گزرگاہ کے ذریعے عالمی تجارت خصوصاً اسرائیل، امریکا اور یورپ جانے والے بحری جہازوں کو روک کریا ان پر حملے کرکے پوری دنیا کی معیشت کو ہلا کر رکھ سکتا ہے۔
ایران خطے میں ایک روایتی طاقت کے بجائے ایک غیر روایتی طاقت کی طرح ’’ہائبرڈ گوریلاجنگ‘‘ لڑ رہا ہے۔ ماضی میں ویت نام کے ویٹ کانگ یا افغان طالبان، اس طریقۂ جنگ میں صرف کلاشنکوفوں، چھپ کر حملہ کرنے کی صلاحیت اور کچے راستوں پر انحصار کرکے امریکا کو شکست دے چکے ہیں۔ یہ گوریلا جنگ تھی۔ ہائبرڈ گوریلا جنگ میں ایران سیٹلائٹ گائیڈڈ بیلسٹک میزائل، اسٹیلتھ خود کش درونز اور اینٹی شپ کروز میزائلوں کی مدد سے ہزاروں میل دور دشمن کے ائر بیسز اور بحری جہازوں کو درست نشانہ بنارہا ہے۔ امریکا اور ایران کے مرکز ثقل اور اصل قوت کے بیان کے بعد کل ان شااللہ سیاسی اور معاشی عزائم پر چھائے جنگ کے اس ’’گہر ے غبار‘‘ کی بات ہوگی جس کی دھند کے پار ایک دوسرے کو دیکھنا فریقین کے لیے چیلنج بنا ہوا ہے۔