انشورنس ایسوسی ایشن پاکستان اور پاکستان ایسوسی ایشن آف ایکچورین کا مشترکہ طور پر،کراچی میں پہلی انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس کاانعقاد

کراچی (کامرس رپورٹر) انشورنس ایسوسی ایشن پاکستان اور پاکستان ایسوسی ایشن آف ایکچورین نے مشترکہ طورکراچی میں پہلی انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس کاانعقاد کیا۔کانفرنس سے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ،وفاقی وزارت خزانہ کے مشیر عدنان پاشا، وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر برائے تجارت احسن افضل رانااور انشورنس ایسوسی ایشن کے چیئرمین اور اسٹیٹ لائف انشورنس کے چیف ایگزیکٹو شعیب جاوید حسن نے خطاب کیا۔ وزارت خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے کلیدی خطاب میں کہا کہ پاکستان کو عالمی مالیاتی معاونت کرنے والے اداروں سے بڑے پیمانے پر مالی معاونت مل رہی ہے پاکستان میں صرف استحکام ہی نہیں ہے بلکہ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔پاکستان دنیا میں ماحولیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہے۔سندھ میں گزشتہ سیلاب کی وجہ سے 2 ہزار سے زائد افراد جاںبحق ہوئے اور بڑے پیمانے میں مویشی بھی ہلاک ہوئے فصلیں تباہی ہوئیں اور لاکھوں افراد خط غربت سے نیچے چلے گئے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مون سون بارشوں سے ہر سال تباہی ہوتی ہے۔ملک میں سیلاب کے علاؤہ خشک سالی بھی بڑا مسئلہ ہے۔ پاکستان میں تقریباً 7 لاکھ کے قریب افراد کے پاس لائف انشورنس ہے۔ پاکستان میں انشورنس کی کمی میں پالیسی کے بجائے آگاہی کے مسائل ہیں اور انشورنس کی وسعت میں ڈسٹری بیوشن کے مسائل بھی ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے کچھ اسکیمیں متعارف کرائیں ہیں جس کا مقصد انشورنس کو ڈیموکریٹکرائز کرایا جائے پاکستانی بینکوں کو سپارکو فصلوں کا ڈیٹا حاصل کررہا ہے جس سے زرعی قرض اور اس کی تحت فصلوں کی کاشت کا اندازہ ہوسکے گا۔ اس موقع پر وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر برائے تجارت احسن افضل رانا نے اپنے خطاب میں کہا کہ گزشتہ چار پانچ سال سے ملک کو میکرو اکنامک چیلنجز کا سامنا تھا۔ملک میں اس وقت بہتری آئی ہے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ ہوا ہے انفلیشن کم ہوا اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی قابو میں ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کو ترقی کے مسائل کا سامنا ہے۔حکومت ملک میں معاشی لین دین کو ڈیجیٹائز کرنا چاہتی ہے۔وزیر اعظم ہر ہفتے ایف بی آر کے ساتھ میٹنگ کرتے ہیں ایف بی آر کی ٹیکس آمدن بڑھ رہی ہے۔ٹیکس میں ٹریک اینڈ ٹریس کو وسعت دی جارہی ہے۔حکومت کا ہدف چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو دستاویزی بنانے اور انہیں مالیاتی خدمات تک رسائی دینا ہے ایس ایم ایز کے حوالے سے اسٹیٹ بینک کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں ملک میں بڑی آبادی موبائل فون استعمال کرتی ہے انہیں مائیکرو انشورنس فراہم کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک جوائنٹ ورکنگ گروپ انشورنس صنعت کے ساتھ مل کر بنالیتے ہیں تاکہ جو بھی قانونی ریگولیٹری مسائل ہیں انہیں حل کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل تصدیق کا نظام بنارہے ہیں۔ اسٹیٹ بینک زرعی انشورنس اسکیم کو اپ گریڈ کررہا ہے ترقی کے لیے انفرااسٹرکچر بنا دیا گیا ہے۔ انشورنس ایسوسی ایشن کے چیئرمین اور اسٹیٹ لائف انشورنس کے چیف ایگزیکٹو شعیب جاوید حسن نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں انشورنس صنعت پہلی مرتبہ ایک ساتھ جمع ہوئی ہے تاکہ پاکستانیوں کو بہتر خدمات فراہم کی جاسکیں۔پاکستان میں انشورنس کی بنیاد ایکچورین ماہرین کی دنیا میں بہت طلب ہے کسی بھی معیشت کی ترقی کے لیے انشورنس کی صنعت کا اہم کردار ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں انشورنس کا پھیلاؤ 0.9 فیصد ہے۔ پاکستان میں خطے میں سب سے کم انشورنس ہے۔ انشورنس کا پھیلاؤ خطے میں 4 فیصد ہے۔ پاکستان میں انشورنس کی ترقی کے بہت مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم کہتے ہیں پھیلاؤ 0.9 فیصد ہے تو ہمارا چیلنج ہے کہ انشورنس کے حوالے سے آگاہی بڑھائی جائے پاکستان میں لائے۔ انشورنس کی مارکیٹ میں حکومت کا گارنٹی کاروبار نہیں ہے پاکستان کی آبادی بڑھ رہی ہے اور یہ نوجوان ہے۔نوجوان بڑھتی آبادی میں انشورنس کی صنعت میں آگے بڑھنے کے بہت مواقع موجود ہیں۔پاکستان کے لیے زرعی انشورنس بہت اہم ہے اور اس پر بہت کام کیا گیا ہے۔زرعی انشورنس اسکیم کو بڑھانے میں وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں تھرڈ پارٹی موٹر وہیکل انشورنس کو لازمی قرار دیا گیا۔ سندھ وہ پہلا صوبہ ہے جس میں تھرڈ پارٹی موٹر وہیکل انشورنس رجسٹریشن کے وقت لاگو کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انشورنس کی صنعت صوبہ سندھ کے سیلز ٹیکس دینے والے بڑی صنعتوں میں سے ہے۔ سندھ حکومت پہلی صوبائی حکومت ہے جس نے تھرڈ پارٹی وہیکل انشورنس کو متعارف کرایا ہے ٹریفک حادثے کی صورت میں جابحق ہنے والوں یا مستقل معزور ہونے والوں کو کلیمز 45 دن میں دیئے جائیں گے۔ابھی تک 2لاکھ گاڑیوں کو تھرڈ پارٹی موٹر وہیکل انشورنس فراہم کی جاچکی ہے۔سندھ حکومت نے فصلوں کی انشورنس کو سیلز ٹیکس فری کردیا ہے۔ حکومت سندھ سوشل پروٹیکس اتھارٹی کے ذریعے شہریوں کو سماجی تحفظ فراہم کررہی ہے۔حادثاتی موت کی صورت میں 18 سال سے زائد عمر کے پر فرد کو انشورنس کور حاصل ہو گا۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے مزید کہا کہ حادثاتی موت کے انشورنس کا پریمیم سندھ حکومت دے گی سندھ حکو مت مستحکم تیز رفتار ترقی کا ماحول فراہم کررہی ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *