آئندہ ہفتے شرح سود 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا امکان
لاہور( نمائندہ جسارت) معاشی ماہرین اور مالیاتی اداروں کے مطابق اسٹیٹ بینک آئندہ ہفتے ہونے والے مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں اپنی بنیادی شرح سود 11.5فیصد پر برقرار رکھ سکتا ہے۔تجزیے کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات نے ملک میں مہنگائی میں بہتری اور شرح سود میں کمی کے حق میں بڑھتے ہوئے دلائل کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس 27 جولائی کو شیڈول ہے اور ماہرین نے پیشگوئی کی ہے کہ مرکزی بینک شرح سود میں کوئی تبدیلی نہیں کرے گا۔ٹاپ لائن سکیورٹیز کی جانب سے کیے گئے ایک سروے کے مطابق 97فیصد شرکا کا خیال ہے کہ 27جولائی کے اجلاس میں پالیسی ریٹ 11.5فیصد پر برقرار رکھا جائے گا جبکہ صرف 3فیصد نے 100بیسس پوائنٹس کمی کی توقع ظاہر کی ہے۔اے کے ڈی سکیورٹیز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سخت مانیٹری پالیسی، محتاط مالیاتی نظم و ضبط، بہتر ہوتی ہوئی کریڈٹ ریٹنگ اور ساختی اصلاحات میں پیش رفت کی بدولت پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صورتحال مستحکم ہے، جو معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔اس کے علاوہ رواں ماہ کے آخری ہفتے میں متوقع سیلاب بھی مہنگائی کے نئے خدشات پیدا کر سکتے ہیں۔ ان عوامل کے پیش نظر ادارے نے پیش گوئی کی ہے کہ اسٹیٹ بینک آئندہ اجلاس میں شرح سود برقرار رکھے گا۔تاہم حتمی فیصلہ اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں کیا جائے گا۔