فائلرز اورنان فائلرز سے متعلق پالیسی پر نظر ثانی کی جائے
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)حیدرآباد سائٹ ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے چیٔرمین زبیر احمد گھانگرا، سینیٔر وائس چیٔرمین عامر شہاب اور وائس چیٔرمین ایسر کمار نے مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فائلرز اور نان فائلرز سے متعلق ٹیکس پالیسی پر فوری نظرثانی کی جائے۔ نمائندگان کا کہنا ہے کہ اضافی ڈائریکٹ ٹیکس ودہولڈنگ ٹیکس اور انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 236H اور 236G کے تحت نافذ طریقہ? کار نے کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کئی کاروباری افراد فائلر بننے یا کاروبار کو رجسٹرڈ کرانے سے گریز کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی ادارے کی سالانہ فروخت ایک کروڑ روپے اور منافع کی شرح 5 فیصد ہو تو منافع پانچ لاکھ بنتا ہے لیکن بعض حالات میں انہی سیکشنز کے تحت نان فائلر کی شرح سے 2۔50 فیصد ٹیکس عائد ہو جاتا ہے، جس سے ڈھائی لاکھ روپے ٹیکس کی صورت میں ادا کرنے پڑتے ہیں۔ اس کے علاوہ 1۔25 فیصد ٹرن اوور ٹیکس بھی لاگو ہوتا ہے، جس سے ٹیکس کا مجموعی بوجھ تقریباً تین لاکھ پچھتر ہزار روپے تک پہنچ جاتا ہے۔ اس صورتحال میں منافع کا بڑا حصہ ٹیکس کی نذر ہو جاتا ہے اور کاروبار کے اخراجات پورے کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ نمائندگان نے واضح کیا کہ ٹیکس نیٹ میں وسعت لانا مقصد کے طور پر درست ہے، مگر ایسی پالیسیاں اپنائی جائیں جو کاروبار کرنے والوں کے لیے دوستانہ ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت سے لوگ ریٹرن وقت پر داخل نہیں کرتے یا ان کے این ٹی این ایف بی آر پورٹل پر فعال نہیں ہوتے لیکن اس کا بوجھ باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرنے والوں پر ڈال دیا جاتا ہے جو انصاف کے منافی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ٹیکس نیٹ کو منصفانہ بنانے کے لیے سیکشن H236 اورG 236 کے تحت نان فائلرز سے متعلق ٹیکس نظام پر نظرِثانی کی جائے تاکہ ذمہ دار ٹیکس دہندگان پر غیر ضروری بوجھ ختم ہو زیادہ سے زیادہ لوگ ٹیکس نیٹ میں آئیں سرمایہ کاری بڑھے۔