بہتر طرزِ حکمرانی کے لیے نئے صوبوں پر قومی ریفرنڈم کرایا جائے، پاکستان بزنس فورم

اسلام آبا د (کامرس ڈیسک) پاکستان بزنس فورم نے ملک میں بہتر طرزِ حکمرانی، متوازن علاقائی ترقی اور عوام کو مؤثر سرکاری خدمات کی فراہمی کے لیے نئے صوبوں کے قیام پر قومی سطح پر سنجیدہ بحث اور آئین کے مطابق ریفرنڈم کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کی سینئر قیادت نے جناح کنونشن سینٹر اسلام آباد میں منعقدہ پہلے اکنامک سمٹ میں شرکت کی، جہاں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ملک کو درپیش گورننس کے چیلنجز پر اظہارِ خیال کیا۔ فورم کے مطابق پاکستان کو درپیش انتظامی مسائل اس امر کے متقاضی ہیں کہ ملک کے موجودہ انتظامی ڈھانچے کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے تاکہ عوام کو بہتر، تیز رفتار اور مؤثر حکومتی خدمات فراہم کی جا سکیں۔ پاکستان بزنس فورم کا کہنا تھا کہ پاکستان کی آبادی میں ہر سال لاکھوں افراد کا اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث تعلیم، صحت، روزگار، انصاف اور بنیادی سہولیات کی ضرورت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ایسے میں یہ سوال نہایت اہم ہے کہ مستقبل کی نسلوں کو باعزت روزگار، معیاری تعلیم، بروقت انصاف اور بنیادی سہولیات کس طرح فراہم کی جائیں۔ اگر نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے گورننس بہتر ہوتی ہے اور ترقی کا عمل تیز ہو سکتا ہے تو اس تجویز پر قومی سطح پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔فورم نے کہا کہ دنیا کے متعدد ممالک نے اپنی آبادی، جغرافیائی وسعت اور انتظامی ضروریات کے مطابق نئے انتظامی یونٹس قائم کیے یا اپنے صوبائی نظام کو مضبوط بنایا۔ بھارت میں مختلف ادوار میں نئی ریاستوں کے قیام سے انتظامی کارکردگی میں بہتری لانے کی کوشش کی گئی، جبکہ چین اور ایران جیسے ممالک بھی متعدد انتظامی اکائیوں کے ذریعے اپنے وسیع علاقوں اور آبادی کا نظم و نسق چلا رہے ہیں۔ پاکستان بزنس فورم کے مطابق نئے صوبوں کا معاملہ سیاسی یا لسانی بنیادوں پر نہیں بلکہ بہتر حکمرانی، معاشی ترقی، عوامی سہولت، سرمایہ کاری کے فروغ اور اختیارات کی مؤثر تقسیم کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ فورم نے تجویز دی کہ اس اہم قومی معاملے پر آئین کے مطابق ریفرنڈم کرایا جائے تاکہ عوام خود فیصلہ کریں کہ آیا ملک میں نئے صوبوں کا قیام وقت کی ضرورت ہے یا نہیں۔ فورم نے مزید کہا کہ اگر اکثریت نئے صوبوں کے حق میں رائے دیتی ہے تو حکومت کو چاہیے کہ قومی اتفاقِ رائے اور آئینی تقاضوں کے مطابق اس پر عملی پیش رفت کرے۔ پاکستان بزنس فورم کا مؤقف ہے کہ مضبوط، جوابدہ اور عوام کے قریب انتظامی نظام ہی پاکستان کو پائیدار معاشی ترقی، روزگار کے نئے مواقع، سرمایہ کاری کے فروغ اور بروقت انصاف کی فراہمی کی جانب لے جا سکتا ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *