ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ کا احتساب ناگزیر ہے‘ امیر روان

نیشنل لیبر فیڈریشن (NLF) کراچی زون کے سینئر نائب صدر امیر روان نے اپنے شدید ردِعمل میں کہا ہے کہ صوبائی وزیرِ محنت کی زیرِ صدارت ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ کی گورننگ باڈی نے مالی سال 2026-27 کے لیے تقریباً 65 ارب روپے کے سرپلس بجٹ کی منظوری دی ہے، جس میں آمدنی کا تخمینہ 85 ارب 37 کروڑ روپے جبکہ اخراجات کا تخمینہ 21 ارب 10 کروڑ روپے رکھا گیا ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر یہ اربوں روپے مزدوروں پر کہاں خرچ ہو رہے ہیں؟ اگر ورکرز ویلفیئر بورڈ کے پاس اتنے وسائل موجود ہیں تو پھر ہزاروں رجسٹرڈ مزدور بنیادی فلاحی سہولیات سے کیوں محروم ہیں؟امیر روان نے مطالبہ کیا کہ 2022ء سے 2026ء تک ہر سال منظور ہونے والے بجٹ، حقیقی اخراجات، انتظامی اخراجات، افسران کی مراعات، گاڑیوں، دفاتر اور دیگر مدات پر ہونے والے خرچ کی مکمل تفصیلات عوام اور مزدوروں کے سامنے پیش کی جائیں، اور بتایا جائے کہ ان چار برسوں میں مزدوروں کو عملی طور پر کتنی مالی امداد اور کتنی فلاحی سہولیات فراہم کی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ دستیاب معلومات کے مطابق 2022ء کے بعد جہیز گرانٹ، ڈیتھ گرانٹ، ہائر ایجوکیشن گرانٹ، اسکالرشپس اور متعدد دیگر فلاحی اسکیمیں تقریباً بند یا شدید متاثر ہیں۔ ایجوکیشن سیز کے تحت بچوں کو کتابیں، کاپیاں، یونیفارم، اوراسکول بیگ کی مد میں فی بچہ 10 ہزار روپے کی امداد بھی 2 سال گزرنے کے باوجود صرف چند منتخب افراد تک محدود رہی، جبکہ ہزاروں مستحق مزدور آج بھی انتظار کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ 2012ء میں کراچی کے مزدوروں میں تقسیم کیے گئے تقریباً 4 ہزار فلیٹس آج تک بنیادی سہولیات، یعنی گیس، بجلی اور پانی سے محروم ہیں، جس کے باعث آج تک وہاں پر مزدور رہائش اختیار نہیں کر سکے۔ ماضی میں ہر 5سال بعد مزدوروں کے لیے نئی ہاؤسنگ اسکیمیں شروع کی جاتی تھیں، مگر 2012ء کے بعد کوئی نئی ہاؤسنگ اسکیم شروع نہیں کی گئی۔ اسی طرح سلائی مشین، سائیکل، ای بائیک، سولر اسکیم اور انشورنس کے نام پراربوں روپے کی کرپشن کی گئی اور آج تک مزدوروں کو کچھ بھی نہیں ملا ان کے بارے میں شفاف معلومات بھی سامنے نہیں لائی گئیں۔
امیر روان نے کہا کہ ورکرز ویلفیئر بورڈ کا فنڈ حکومت کا نہیں بلکہ مزدوروں کا امانتی سرمایہ ہے، جسے قانون کے مطابق مزدوروں اور ان کے اہلِ خانہ کی فلاح و بہبود پر خرچ ہونا چاہیے۔ اگر اربوں روپے موجود ہونے کے باوجود مزدور اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں تو اس کی آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔
انہوں نے فیلڈ مارشل پاکستان، چیف جسٹس آف پاکستان، وزیرِ اعظم پاکستان، وزیرِ اعلیٰ سندھ، نیب، ایف آئی اے، اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ اور آڈیٹر جنرل آف پاکستان سے مطالبہ کیا کہ ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ کے 2022ء سے 2026ء تک کے تمام مالی معاملات، بجٹ، اخراجات، ترقیاتی منصوبوں، فلاحی اسکیموں اور انتظامی اخراجات کا خصوصی فرانزک آڈٹ کرایا جائے۔ اگر کسی بھی سطح پر مالی بے ضابطگیاں، اختیارات کا ناجائز استعمال یا کرپشن ثابت ہو تو ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا دی جائے اور لوٹی گئی رقم مزدوروں کی فلاح پر خرچ کی جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ مزدور مزید خاموش نہیں رہیں گے۔ اگر ورکرز ویلفیئر بورڈ کی بند فلاحی اسکیمیں فوری بحال نہ کی گئیں، زیر التواء ادائیگیاں نہ کی گئیں اور اربوں روپے کے استعمال کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے نہ لائی گئیں تو نیشنل لیبر فیڈریشن سندھ بھر کے مزدوروں کے ساتھ احتجاج، دھرنوں اور قانونی چارہ جوئی سمیت ہر جمہوری اور آئینی راستہ اختیار کرے گی۔
’’مزدوروں کے پسینے کی کمائی پر کسی کو عیاشی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اب حساب دینا ہوگا، جواب دینا ہوگا، اور مزدوروں کو ان کا حق واپس کرنا ہوگا۔‘‘

 

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *