40سالہ سروس میں نہیں دیکھا کہ کسی بہن نے اپناحصہ خود بھائی کودے دیا ہو‘ جسٹس ہاشم کاکڑ

اسلام آباد (صباح نیوز) جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ کی سربراہی میں جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل سپریم کورٹ کے2 رکنی بینچ نے پٹواری کے ساتھ مل کر بہنوں کو والد کی وراثت سے محروم کرنے والے فیصل آباد کے رہائشی درخواست گزار محمد عارف کی درخواست ضمانت قبل ازگرفتاری پر سماعت کی۔ جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ کا درخواست گزار کے وکیل بابر مرتضیٰ خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آپ کی کتنے سال پریکٹس ہے؟۔ اس پر وکیل کا کہنا تھا کہ24سال۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کا کہنا تھا کہ میں نے اپنی40 سالہ سروس میں نہیں دیکھا کہ کسی بہن نے اپنا حصہ خود بھائی کو دے دیا ہو‘ جائداد بہنوں کے نام کیوں منتقل نہیں ہوئی،جائداد تمام لواحقین میں تقسیم ہوگی‘ ریونیو حکام اگلی سماعت سے قبل جائداد بہنوں کے نام منتقل کریں۔ بینچ نے ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عیوض ضمانت منظور کرتے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ اگلے ہفتے لاہور میں سماعت سے قبل جائداد بہنوں کے نام منتقل کریں۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کا درخواست گزار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اپنی بہنوں کی جائداد اگلی سماعت سے قبل ان کے نام کرادیں ورنہ یہ آپ کے گلے پڑے گی۔ محکمہ اینٹی کرپشن کے نمائندے نے بینچ کوبتایا کہ فراڈ میں ملوث پٹواری کو ملازمت سے برطرف کردیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں عدالت عظمیٰ کے جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے کہا ہے کہ اگر کوئی غیر ملکی شہری پاکستانی خاتون سے شادی کرتا ہے تو وہ ڈومیسائل کا حقدار ہوگا‘ 40 لاکھ افغانی پاکستان میں بطور مہاجرین آئے‘ ہم نے انہیں مہاجرکارڈ جاری کیے، راشن دیتے رہے اور خود بھی کھاتے رہے، درخواست گزار کے 2 بچے بھی ہیں۔ بینچ نے افغانی شہری کی پاکستانی خاتون سے شادی کی بنیاد پر غیر قانونی قیام پر گرفتاری کے خلاف دائر درخواست ضمانت بعد ازگرفتاری30 ہزار روپے کے مچلکوں کے عیوض منظورکرلی۔ جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ کی سربراہی میں جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے افغان شہری جلات خان کی جانب سے دائر درخواست ضمانت بعد ازگرفتاری پرسماعت کی۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *