حیدرآبادکی سڑکیں کھنڈرات کا منظر پیش کررہی ہیں ، ڈاکٹر یونس دانش

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی ترجمان ڈاکٹر یونس دانش نے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور گورنر سندھ نہال ہاشمی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حیدرآباد کی انتہائی ابتر شہری صورتحال کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ ماہِ ربیع الاول کے آغاز میں صرف ایک ہفتہ باقی رہ گیا ہے، جبکہ چاند رات سے ہی عید میلاد النبی ﷺ کے جلوسوں، جلسوں، ریلیوں، محافلِ نعت اور کانفرنسوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، مگر افسوس کہ حیدرآباد کی سڑکیں کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہیں، سیوریج کا نظام مفلوج ہے، نالے ابل رہے ہیں، جگہ جگہ کچرے کے ڈھیروں سے تعفن پھیل رہا ہے اورمچھروں کی آزائش کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے جس کے باعث ڈینگی اور ملیریا کے مریضوں میں اضافہ ہو گیا اور شہری شدید اذیت کا شکار ہیں۔ڈاکٹر یونس دانش نے کہا کہ ایک دن کی مختصر بارش نے ضلعی انتظامیہ اور بلدیاتی اداروں کی کارکردگی کی قلعی کھول دی ہے۔ شہر کی مرکزی شاہراہ ٹھنڈی سڑک مسلسل دو روز تک تالاب کا منظر پیش کرتی رہی،ضلعی سکریٹریٹ اور میونسپل کارپوریشن کے دفاتر پانی میں ڈوبے رہے جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ربیع الاول کی آمد سر پر ہے، لیکن آج تک سڑکوں کی مرمت، نکاسی آب، سیوریج سسٹم کی بحالی، نالیوں کی صفائی، اسٹریٹ لائٹس کی درستگی پانی،بجلی اور گیس کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے کوئی مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ پھلیلی پل سے حاجی امید علی روڈ، سخی پیر چوک تک، گرونگر چوک سے پکا قلعہ چوک تک کی سڑکوں کی فوری مرمت کی جائے تاکہ جلوسِ جشن عید میلاد النبی ﷺ کے شرکاء کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اسی طرح ٹنڈو ٹھورو، پھلیلی، چمڑا منڈی اور پریٹ آباد سمیت دیگر نشیبی علاقوں میں کئی روز سے بارش کا پانی کھڑا ہے، جس سے وبائی امراض پھیلنے کا شدید خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ان علاقوں میں ہنگامی بنیادوں پر نکاسی آب کا انتظام کیا جائے۔اور اسپرے کرایا جائے ڈاکٹر یونس دانش نے مزید مطالبہ کیا کہ ماہِ ربیع النور کے دوران بجلی،گیس اور پانی کی لوڈشیڈنگ مکمل طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا جائے تاکہ عوام اور میلاد کمیٹیوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔ انہوں نے مسلم نیو قبرستان سے متصل چینل نہر کی سڑک کی خستہ حالی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سڑک کسی بھی وقت بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے، لہٰذا اس کی فوری مرمت کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ حیدرآباد سندھ کا دوسرا بڑا شہر اور تاریخی، مذہبی و تجارتی مرکز ہے، لیکن بدقسمتی سے اس کے ساتھ مسلسل سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھا جا رہا ہے، جو کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔ حکومت سندھ کو نمائشی بیانات کے بجائے عملی اقدامات کرنا ہوں گے اور شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اپنی اولین ترجیح بنانا ہوگی۔ڈاکٹر یونس دانش نے خبردار کیا کہ اگر ربیع الاول سے قبل شہری مسائل حل نہ کیے گئے تو لاکھوں عاشقانِ رسول ﷺ، شہریوں اور تاجروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری سندھ حکومت، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ بلدیاتی اداروں پر عائد ہوگی۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سندھ اور گورنر سندھ سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر خصوصی فنڈز جاری کرکے حیدرآباد میں صفائی، نکاسی آب، سڑکوں کی بحالی، اسٹریٹ لائٹس، پانی،بجلی گیس اور دیگر بنیادی شہری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *