عوام کی حاکمیت تسلیم کرنے تک نظام نہیں چل پائے گا، بلاول

باغ (مانیٹرنگ ڈیسک ) چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول زرداری نے کہا کہ نظام ناکام نہیں ناکام کرایاگیا ہے، جب تک عوام کی حاکمیت تسلیم نہیں کریں گے تب تک سسٹم نہیں چل پائے گا، جب تک مانیں گے نہیں طاقت کا سرچشمہ عوام ہے یہ نظام ایسے ہی چلتا رپے گا۔آزاد کشمیر کے ضلع باغ میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نئے صوبے بنانا اگر عوام کا فیصلہ ہے تو پیپلزپارٹی ساتھ دے گی اور اگر نئے صوبے بنانا عوام کا فیصلہ نہیں تو پیپلزپارٹی ساتھ نہیں دے گی۔بلاول نے کہا کہ اسلام آباد میں حکومت خطرے میں ہے، الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے، الٹی گنتی پیپلزپارٹی نے نہیں ، ان کے اپنے لوگوں نے شروع کی ہے،ن لیگ کی لڑائی پیپلزپارٹی سے نہیں، اصل لڑائی کچھ اور ہے، وزیراعظم کے ارد گرد لوگوں کی نیت صاف نہیں ہے، ن لیگ کا ایک خاص حصہ وزیراعظم کو اپوزیشن سے ہی نہیں اتحادیوں سے لڑانا چاہتا ہے، اصل لڑائی تو اسلام آباد اور لاہور کی ہورہی ہے یہ ان کے خاندان کا اپنا مسئلہ ہے۔بلاول نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے امیدوار اور ہمارے آزاد کشمیر کے صدر پر حملے، یہ کوئی اتحادی نہیں کرتا، دھاندلی زدہ اور خونی الیکشن ہمیں قبول نہیں۔چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھاکہ ن لیگ کی غلط فہمی ہے کہ آزاد کشمیر میں حکومت بنالیں گے، ابھی 11 نشتوں کے انتخابات ہونا باقی ہیں، آپ لوگ میرے پاؤں پکڑ رہے ہوں گے،یہ نہ سچ کمیشن بنانے کو تیار ہیں نہ شفاف الیکشن کرانے کو تیارہیں، سسٹم اگر ناکام ہوچکا تو اس کی بڑی مثال آزاد کشمیر ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کی تاریخ میں اتنا مشکل وقت نہیں آیا جتنا آج ہے، کبھی نہیں دیکھا کہ پچاس، پچاس دن انٹرنیٹ اور سڑکیں بند ہوں، مشکل وقت ان کے لیے ہے جو کاروبار کرنا چاہتے ہیں اور معمولات زندگی کی بحالی چاہتے ہیں۔بلاول نے کہا تمام مسائل کا حل بات چیت سے نکالا جاسکتا ہے، آزادکشمیر اسمبلی نے بھی سچائی اور مفاہمتی کمیشن کے قیام کی قرارداد منظور کی، کمیشن کے قیام تک احتجاج کرنے والے احتجاج اور کارروائی کرنے والے کارروائیاں بند کریں، مجھے تو اپوزیشن کرنے کاشوق ہے، اگر میں اپوزیشن میں ہوتا تو انہیں لگ پتا جاتا۔ان کا یہ بھی کہنا تھاکہکشمیر ایک ہے تو الیکشن بھی ایک دن ہونا چاہیے تھا، تاریخ میں کبھی کشمیر میں 6 مرحلوں میں الیکشن نہیں ہوا۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *