نیو کراچی کی تقدیر کیسے بدلی؟
جسارت ڈیجیٹل کے ساتھ نیو کراچی ٹائون کے چیئر مین محمد یوسف کا خصوصی انٹرویو
جناب محمد یوسف
(چیئر مین نیو کراچی ٹائون )
کراچی کے گنجان آباد علاقوں میں شمار ہونے والے نیو کراچی ٹاؤن کو طویل عرصے سے بنیادی شہری سہولتوں کے حوالے سے متعدد مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، سیوریج کے مسائل، پانی کی قلت، خستہ حال پارکس، سرکاری اسکولوں کی ابتر حالت اور صفائی کا ناقص نظام یہاں کے شہریوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ رہے ہیں۔ تاہم موجودہ بلدیاتی دور میں نیو کراچی ٹاؤن کی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ تین برس کے دوران محدود وسائل اور اختیارات کے باوجود بنیادی ڈھانچے اور شہری سہولتوں کی بہتری کے لیے نمایاں کام کیا گیا ہے۔
نیو کراچی ٹاؤن کے چیئرمین محمد یوسف کے مطابق جب انہوں نے تین سال قبل ذمہ داری سنبھالی تو علاقے کے متعدد سیکٹرز میں صورتحال انتہائی خراب تھی۔ بعض گلیوں میں سیوریج کا پانی کھڑا رہتا تھا اور سڑکوں کی حالت بھی ناگفتہ بہ تھی۔ ان کے بقول شہریوں میں یہ احساس پیدا ہو چکا تھا کہ ان کے مسائل سننے والا کوئی نہیں۔ اسی پس منظر میں ٹاؤن انتظامیہ نے اپنی ابتدائی ترجیحات طے کیں اور تمام 13 یونین کمیٹیوں کو 50،50 لاکھ روپے کے فنڈز فراہم کیے تاکہ فوری نوعیت کے کام شروع کیے جا سکیں۔
سیوریج اور پانی: سب سے بڑا چیلنج
نیو کراچی کے بڑے مسائل میں سیوریج کا بحران نمایاں رہا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ واٹر اینڈ سیوریج کا شعبہ براہِ راست ٹاؤن انتظامیہ کے دائرۂ اختیار میں نہیں آتا تاہم چیئرمین کے مطابق ٹاؤن نے اپنے وسائل سے سیوریج کے مسائل حل کرنے کے لیے 10 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے۔
ٹاؤن انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ اس سرمایہ کاری کے نتیجے میں سیوریج کی متعدد شکایات میں کمی آئی اور ایسے بڑے علاقے کم ہوئے جہاں مسلسل گٹر ابلنے یا لائنیں بیٹھنے کے مسائل موجود تھے۔ اسی طرح پانی کی فراہمی کے حوالے سے بھی ٹاؤن انتظامیہ نے مداخلت کی۔ محمد یوسف کے مطابق تقریباً 25 ہزار ایسے گھرانے، جو کئی برس سے ٹینکروں کے ذریعے پانی حاصل کر رہے تھے، لائنوں کی بہتری اور دیگر اقدامات کے ذریعے پانی کی فراہمی کے نظام سے منسلک کیے گئے۔
تاہم پانی کا بحران مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ چیئرمین کے مطابق نیو کراچی کی ضرورت تقریباً 14 پاؤنڈ پانی ہے جبکہ ٹاؤن کو اس وقت تقریباً 3 پاؤنڈ پانی مل رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سعدی گارڈن سے نیو کراچی کے لیے آنے والے پانی کی مقدار راستے میں کم ہو جاتی ہے اور اس فرق کی تحقیقات ضروری ہیں۔ پانی کے مسئلے پر ان کا مؤقف ہے کہ نیو کراچی کے شہری اپنے بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے۔
ایک ہزار گلیاں، کارپٹنگ کا نیا مرحلہ
سڑکوں اور گلیوں کی تعمیر و بحالی کو نیو کراچی ٹاؤن کی موجودہ انتظامیہ اپنی بڑی کامیابیوں میں شمار کرتی ہے۔ چیئرمین کے مطابق ابتدا میں 600 گلیوں کی تعمیر کا ہدف مقرر کیا گیا تھا تاہم اس ہدف کے قریب پہنچنے کے بعد اسے بڑھا کر ایک ہزار کر دیا گیا اور یہ ہدف بھی مکمل کر لیا گیا۔
ان گلیوں میں زیادہ تر پیور بلاک کا کام کیا گیا جبکہ بڑی سڑکوں کی کارپٹنگ کا مرحلہ اب جاری ہے۔ ٹاؤن انتظامیہ کے مطابق مجموعی طور پر تقریباً 35 لاکھ مربع فٹ کارپٹنگ کا منصوبہ بنایا گیا ہے جس میں سے ابتدائی مرحلے میں تقریباً چار سے پانچ لاکھ مربع فٹ کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ باقی کام آئندہ چند ماہ میں مکمل کرنے کا ہدف ہے۔
تاہم نیو کراچی کی تمام سڑکیں یکساں طور پر بہتر نہیں ہوئیں۔ ٹاؤن انتظامیہ کے مطابق ایک اہم سڑک، جسے ماضی میں منی بس ڈبلیو 11 کی وجہ سے خاص شہرت حاصل تھی، اب بھی شدید خستہ حالی کا شکار ہے۔ یہ سڑک کے ایم سی کے دائرۂ اختیار میں آتی ہے جبکہ چیئرمین کا مؤقف ہے کہ اس سڑک کی خراب حالت شہریوں کے لیے شدید مشکلات کا باعث ہے۔
کلک منصوبے اور ترقیاتی کام
کراچی کے انفرا اسٹرکچر کی بہتری کے لیے چلنے والے کلک منصوبوں میں بھی نیو کراچی ٹاؤن کو مختلف منصوبے ملے۔ چیئرمین کے مطابق ان کے دور سے قبل کلک کے تحت صرف ایک سڑک تعمیر ہوئی تھی۔ بعد ازاں ٹاؤن انتظامیہ نے مختلف مراحل میں اسکول، پارک اور سڑک سمیت متعدد منصوبے تجویز کیے۔
پہلے مرحلے کے تینوں منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں جبکہ اگلے مرحلے میں ایک سڑک اور ایک نئی اسکول بلڈنگ کی تعمیر شامل ہے جس پر کام جاری ہے۔
تعلیم: خستہ عمارتوں سے بہتر سہولتوں تک
نیو کراچی کی بلدیاتی کارکردگی میں تعلیم کا شعبہ بھی اہم قرار دیا گیا ہے۔ ٹاؤن کے پاس 14 عمارتوں میں 27 اسکول صبح و شام کی شفٹوں میں چل رہے تھے۔ تاہم بعض عمارتوں کی حالت انتہائی خراب تھی۔
11-G گودھرا یو سی میں شیخ سعدی اسکول کی عمارت اس قدر خستہ حال تھی کہ چھت کے سریے نمایاں تھے اور کمروں کے اندر سے آسمان دکھائی دیتا تھا۔ اسکول میں تدریسی سرگرمیاں بھی بند ہو چکی تھیں۔ ٹاؤن انتظامیہ کے مطابق پرانی عمارت کو گرا کر 32 کمروں پر مشتمل نئی عمارت تعمیر کی گئی جس میں نئے تعلیمی سال سے داخلے شروع کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔
اس کے علاوہ شبیر شریفی اسکول کی نئی عمارت زیر تعمیر ہے جبکہ عبدالستار ایدھی اسکول، مولانا تمیز اسکول اور دوست محمد اسکول سمیت دیگر اداروں کی مرمت و بحالی کا کام بھی کیا گیا۔ مجموعی طور پر تقریباً پانچ اسکولوں کو مکمل یا بڑے پیمانے پر بہتر بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
تعلیمی سہولتوں کے ساتھ بچوں کو مفت کتابیں، کاپیاں اور اسٹیشنری فراہم کرنے کا منصوبہ بھی شروع کیا گیا جس کا مقصد والدین پر تعلیمی اخراجات کا بوجھ کم کرنا تھا۔
نیو کراچی ٹاؤن کی انتظامیہ نے تعلیمی کامیابیوں کو بھی نمایاں کیا۔ اس کے مطابق حالیہ میٹرک امتحانات میں فرسٹ اور تھرڈ پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کا تعلق نیو کراچی کے تعلیمی اداروں سے تھا۔ ٹاؤن انتظامیہ نے دونوں طلبہ کو مدعو کرکے لیپ ٹاپ اور دیگر تحائف کے ذریعے ان کی حوصلہ افزائی کی۔
پارکس کی بحالی اور تفریحی سہولت
نیو کراچی کی اصل منصوبہ بندی میں پارکس اور کھلی جگہوں کو اہم مقام حاصل ہے۔ ٹاؤن انتظامیہ کے مطابق یہاں 92 پارک اسٹیٹس موجود تھے مگر ان میں سے صرف چار یا پانچ کے علاوہ بیشتر انتہائی خستہ حال تھے اور کئی جگہوں پر یہ کچرا کنڈیوں میں تبدیل ہو چکے تھے۔
گزشتہ تین برس کے دوران 26 پارکس کی بحالی کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ان میں سیکٹر 5-C کا عائشہ منور پارک بھی شامل ہے جو طویل عرصے سے جھاڑیوں اور کچرے میں گھرا ہوا تھا۔ انتظامیہ کے مطابق اس پارک کو مکمل طور پر بحال کرکے شہریوں کے لیے کھول دیا گیا ہے۔
تفریحی سہولتوں میں واٹر پارک کا قیام بھی ٹاؤن انتظامیہ کی نمایاں کوششوں میں شامل ہے۔ انتظامیہ کے مطابق اس سے قبل نیو کراچی کے شہریوں کو تفریح کیلیے دور دراز علاقوں کا رخ کرنا پڑتا تھا۔ یو پی موڑ کے قریب قائم واٹر پارک میں کم قیمت ٹکٹ کے ذریعے خاندانوں اور بچوں کو تفریح کی سہولت فراہم کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
محدود وسائل اور 10 ارب روپے کی ضرورت
نیو کراچی ٹاؤن کے ترقیاتی سفر میں سب سے بڑا سوال وسائل کا ہے۔ چیئرمین کے مطابق ٹاؤن کی آبادی تقریباً 15 لاکھ ہے اور یہاں 13 یونین کمیٹیاں ہیں۔ ان کے بقول دو ارب روپے کی رقم اس بڑے علاقے کے مسائل حل کرنے کے لیے ناکافی ہے اور مکمل تعمیر و ترقی کے لیے کم از کم 10 ارب روپے درکار ہیں۔
ٹاؤن میں تقریباً 1800 ملازمین ہیں جن کی تنخواہوں اور دیگر واجبات پر بھاری رقم خرچ ہوتی ہے۔ چیئرمین کے مطابق او زیڈ ٹی کی رقم زیادہ تر تنخواہوں، پنشن، گاڑیوں، ایندھن، صفائی اور دیگر انتظامی اخراجات میں استعمال ہو جاتی ہے جس کے بعد ترقیاتی کاموں کے لیے محدود وسائل باقی رہتے ہیں۔
چیئرمین محمد یوسف نے سندھ حکومت پر الزام عائد کیا کہ گزشتہ تین برس کے دوران ٹاؤن کو کوئی باقاعدہ ترقیاتی فنڈ فراہم نہیں کیا گیا۔ یہ ایک سیاسی مؤقف ہے جسے متعلقہ صوبائی حکومت یا دیگر اداروں کے مؤقف کے ساتھ ملا کر دیکھا جانا ضروری ہے تاہم انٹرویو میں ٹاؤن انتظامیہ نے محدود وسائل کو اپنی کارکردگی کے راستے میں بنیادی رکاوٹ قرار دیا ہے۔
سوئی گیس لائن کیلیے کھدائی اور سڑکوں کا بحران
نیو کراچی میں سڑکوں کی تعمیر کے عمل کو سوئی گیس کی لائنوں کی تنصیب نے بھی متاثر کیا۔ چیئرمین کے مطابق تقریباً نو سے دس ماہ تک گیس لائنوں کیلیے سڑکوں اور گلیوں کی کھدائی ہوتی رہی جس کے باعث خستہ حال علاقے مزید متاثر ہوئے۔
اس حوالے سے سوئی گیس کی جانب سے ادا کی جانے والی رقم پر بھی سیاسی اور انتظامی تنازع سامنے آیا۔ ٹاؤن انتظامیہ کے مطابق سوئی سدرن گیس کمپنی نے تقریباً ایک ارب 90 کروڑ 50 لاکھ روپے ادا کیے جبکہ بعض سیاسی بیانات میں اس رقم کو ساڑھے تین ارب روپے تک بتایا گیا۔ ٹاؤن انتظامیہ نے کمپنی سے حاصل کردہ ریکارڈ کو اس معاملے میں اپنے مؤقف کی بنیاد قرار دیا۔
صفائی کا مسئلہ اب بھی برقرار
اگرچہ سڑکوں، پارکس اور اسکولوں کے حوالے سے متعدد اقدامات کا دعویٰ کیا گیا ہے لیکن صفائی کا مسئلہ اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ چیئرمین نے سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کی کارکردگی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ٹاؤن میں ہر گھر سے کچرا اٹھانے کا بنیادی نظام مؤثر انداز میں کام نہیں کر رہا۔
ان کے مطابق ٹاؤن میں تقریباً 100 لوڈر رکشے موجود ہیں لیکن ان کے استعمال کے باوجود گھروں سے کچرا اٹھانے کا نظام مطلوبہ نتائج نہیں دے رہا۔ ان کا الزام ہے کہ بعض نجی ٹھیکیدار شہریوں سے ماہانہ رقم وصول کرکے کچرا اٹھاتے ہیں اور اسے مختلف مقامات پر پھینک دیتے ہیں۔
چیئرمین کا یہ بھی کہنا ہے کہ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ٹاؤن کے براہ راست دائرۂ اختیار میں نہیں۔ ان کے مطابق ٹاؤن کا کردار متعلقہ ادارے پر دباؤ ڈالنا، اس کی مدد کرنا اور شہریوں کے مسائل کیلیے آواز اٹھانا ہے نہ کہ صوبائی ادارے کی مکمل ذمے داری اپنے سر لینا۔
تجاوزات: روزگار اور شہری نظم کے درمیان کشمکش
نیو کراچی میں تجاوزات بھی ایک پیچیدہ مسئلہ ہیں۔ ٹاؤن انتظامیہ کے ایک سروے کے مطابق علاقے میں تقریباً چھے ہزار ٹھیلے موجود ہیں۔ انتظامیہ کیلیے چیلنج یہ ہے کہ تجاوزات ختم کی جائیں مگر ان سے وابستہ ہزاروں خاندانوں کا روزگار مکمل طور پر ختم نہ ہو۔
اسی لیے ٹاؤن انتظامیہ نے بعض اہم شاہراہوں پر تجاوزات کو ہٹانے کے بجائے انہیں ایک حد تک منظم کرنے کی پالیسی اختیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یو پی موڑ سے پاور ہاؤس تک کے علاقے میں ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کیلیے تجاوزات کو پیچھے کیا گیا۔
تجاوزات کے خلاف کارروائی خطرناک بھی ثابت ہوئی۔ چیئرمین کے مطابق کارروائی کے دوران ٹاؤن کے اہلکاروں پر فائرنگ کے تین واقعات پیش آئے۔ ان کا کہنا ہے کہ تجاوزات کے پیچھے منظم مافیا اور بعض بااثر عناصر موجود ہیں۔
آئندہ ایک سال: 35 لاکھ مربع فٹ کارپٹنگ اور مزید پارکس
موجودہ بلدیاتی مدت کے آخری مرحلے میں نیو کراچی ٹاؤن انتظامیہ نے کئی منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔ ان میں تقریباً 35 لاکھ مربع فٹ سڑکوں کی کارپٹنگ، پانچ اسکولوں کی تکمیل، دیگر اسکولوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور مزید 15 پارکس کی بحالی شامل ہے۔
اس کے علاوہ مزید ایک واٹر پارک شروع کرنے، اسٹریٹ لائٹس بہتر بنانے اور اہم شاہراہوں کی مرمت و کارپٹنگ کے منصوبے بھی زیر غور ہیں۔
کارکردگی کا اصل پیمانہ کیا ہوگا؟
نیو کراچی ٹاؤن کی گزشتہ تین سالہ کارکردگی کی تصویر دو مختلف پہلوؤں سے سامنے آتی ہے۔ ایک طرف ٹاؤن انتظامیہ ایک ہزار گلیوں کی تعمیر، لاکھوں مربع فٹ کارپٹنگ، 26 پارکس کی بحالی، اسکولوں کی تعمیر و مرمت، مفت تعلیمی سامان، واٹر پارک اور پانی و سیوریج کے شعبے میں اپنی مداخلت کو نمایاں کامیابیاں قرار دیتی ہے۔
دوسری جانب شہر کے وسیع تر بلدیاتی نظام کی وہ بنیادی کمزوری بھی نمایاں ہوتی ہے جس میں مختلف اداروں کے درمیان اختیارات تقسیم ہیں۔ پانی، سیوریج، سالڈ ویسٹ، بڑی شاہراہیں اور تجاوزات جیسے معاملات میں ٹاؤن انتظامیہ اور دیگر سرکاری اداروں کے درمیان ذمہ داریوں کی تقسیم شہریوں کیلیے اکثر غیر واضح رہتی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ کسی شہری کو کوئی مسئلہ درپیش ہو تو وہ عموماً اپنے قریب ترین منتخب نمائندے سے جواب طلب کرتا ہے۔
نیو کراچی کے تین سالہ سفر کا اصل امتحان بھی یہی ہے کہ ترقیاتی کام وقتی مرمت سے آگے بڑھ کر ایک پائیدار شہری نظام کی شکل اختیار کرتے ہیں یا نہیں۔ ایک ہزار گلیاں تعمیر ہونا اہم پیش رفت ہو سکتی ہے مگر ان کی پائیداری، نکاسی آب، پانی کی مسلسل فراہمی، صفائی، پارکس کی مستقل دیکھ بھال اور اسکولوں میں معیاری تعلیم ہی طویل مدت میں کارکردگی کا اصل پیمانہ بنیں گے۔
محمد یوسف کا دعویٰ ہے کہ نیو کراچی میں اس پیمانے پر ترقیاتی کام پہلے کبھی نہیں ہوئے اور موجودہ انتظامیہ آئندہ بھی تعمیر و ترقی کا سفر جاری رکھے گی۔ ان کے مطابق آنے والے چند ماہ میں مزید سڑکیں، پارکس، اسکول اور شہری سہولتیں مکمل کی جائیں گی۔
یوں نیو کراچی ٹاؤن کی کہانی محض ایک بلدیاتی انتظامیہ کی کارکردگی کی داستان نہیں بلکہ کراچی کے پیچیدہ شہری نظام کی بھی عکاسی کرتی ہے جہاں منتخب نمائندوں کے پاس عوامی توقعات بہت زیادہ ہیں مگر اختیارات اور وسائل محدود۔ اس تضاد کے باوجود گزشتہ تین برس میں کیے گئے ترقیاتی اقدامات نے بعض علاقوں میں تبدیلی ضرور پیدا کی ہے لیکن پانی، صفائی، بڑی شاہراہوں اور تجاوزات جیسے بڑے مسائل اب بھی باقی ہیں۔
آنے والا ایک سال اس بات کا فیصلہ کن مرحلہ ہوگا کہ موجودہ انتظامیہ اپنے اعلان کردہ منصوبوں کو کس حد تک مکمل کرتی ہے اور کیا نیو کراچی واقعی ایک ایسے علاقے میں تبدیل ہو پاتا ہے جہاں شہریوں کو بنیادی سہولتیں مستقل بنیادوں پر دستیاب ہوں؟ یہی وہ مرحلہ ہوگا جہاں دعووں، اعداد و شمار اور سیاسی بیانات سے آگے بڑھ کر زمینی کارکردگی اصل فیصلہ سنائے گی۔