اسلامی معاشرہ
اسلامی معاشرہ ایک ایسی متوازن اور معتدل زندگی کا نام ہے جس میں انسانی عقل، رسوم و رواج اور معاشرتی آداب وحی الٰہی کی روشنی میں طے پاتے ہیں۔ یہ نظام ایسا جامع اور ہمہ گیر ہے کہ زندگی کے تمام مظاہر اور حیات کی جملہ سرگرمیاں اس کے دائرے میں آجاتی ہیں۔ الہام ربانی کے اصولوں کے مطابق معاشرے کی صحیح زندگی اس کا توازن ہے جہاں کہیں پر توازن بگڑا وہیں فساد رونما ہو گیا۔ انسانوں کی معاشرتی تاریخ اصلاح و فساد، توازن و عدم توازن کی تصویر پیش کرتی ہے۔ ہر زمانے میں فساد کو مٹانے اصلاح پر گامزن کرنے کی کوششیں ہوتی رہی ہیں۔
تاریخ سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ انسانی اصلاح کے تھوڑے بہت نتائج بھی مرتب ہوتے رہے لیکن بحیثیت مجموعی انسان کی معاشرتی زندگی میں بگاڑ غالب رہا۔ چنانچہ قرآن پاک میں ہے:
”اے آلِ داؤد شکر کرتے ہوئے عمل کرو اور میرے بندوں میں سے تھوڑے شکر گزار ہیں“ (سورہ سبا: 13)۔
اسی طرح قرآن پاک نے مختلف اقوام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
”اور میخوں والے فرعون کے ساتھ جنہوں نے شہروں میں سرکشی کی سو ان میں بہت فساد کیا“ (سورہ الفجر:12)۔
چنانچہ اسی فساد کو مٹانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام و مصلحین کرام کو بھیجا، جو وقتاً فوقتاً اس فساد کو دور کرنے کے لیے اصلاحی کوشش کرتے رہے۔ اس وقت ہمارے پیش نظر یہ ہے کہ ہم اسلامی نقطہ نظر سے اصلاح معاشرہ کا تصور پیش کریں اور یہ جائزہ لیں کہ:
oاسلامی لحاظ سے معاشرے کے اندر بگاڑ کیسے شروع ہوتا ہے؟
oاس کے اسباب کیا ہوتے ہیں؟
oنتائج کیا ہو سکتے ہیں؟
oاصلاح کیسے ہو سکتی ہے؟
oاصلاح کا طریقِ کار کیا ہو سکتا ہے؟
معاشرے کے بگاڑ اور بناؤ کے ذکر سے قبل دو باتیں بیان کرنی بہت ضروری معلوم ہوتی ہیں:
oفردِ معاشرہ کا خالق کائنات سے کیا تعلق ہے؟
oفرد کا دوسرے افرادِ معاشرہ کے ساتھ اور معاشرے کی اجتماعی حیثیت سے کیا ربط ہے؟
کسی معاشرے کا تجزیہ کرنے کے لیے ان دو اصولوں کو پیش نظر رکھنا نہایت ضروری ہے۔ کیونکہ ان دو اصولوں کی بنا پر انسان کی انفرادی سیرت کا تعین اور اجتماعی کردار کا مفہوم واضح ہو گا۔ ہم سب سے پہلے دیکھیں گے کہ افراد کے ذہنوں میں خدا کا تصور ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو ناقص ہے یا صحیح؟ اس کے بعد ہی فیصلہ ہوگا کہ افراد کا باہمی تعلق، ہمدردی، ایثار اور محبت و عفو کا ہے یا کینہ و عناد، انتقام اور سخت گیری کا؟ یہ وہ تجزیہ ہے جس سے معاشرے کے امراض کا پتا چلتا ہے۔ پھر اس میں ایک اور بات کا اضافہ کیا جاسکتا ہے کہ انسانی سیرت و کردار کی تکمیل کے لیے خدا کے کامل تصور کی ضرورت ہے۔ اگر خدا کا تصور ناقص ہو تو اس سے سیرت و کردار کی تکمیل بھی ناقص ہوتی ہے۔ پھر اصلاحِ احوال کی تدبیر بھی یہیں سے کی جا سکتی ہے۔ اس سے اصلاح کا تصور واضح ہوتا ہے کہ مرض اور بگاڑ کہاں ہے؟ اور اس کی اصلاح کس طرح ہو سکتی ہے۔ بنیادی طور پر اس کو دو حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں:
فکر و نظر کا بگاڑ، اور قول و فعل کا بگاڑ۔