جناح ٹاؤن: کراچی ترقی اور مسائل کی کہانی

چیئر مین جناح ٹائون جناب رضوان سمیع کا جسارت ڈیجیٹل کو خصوصی انٹرویو

جناب رضوان سمیع
(چیئر مین جناح ٹائون )

کراچی کے وسط میں واقع جناح ٹاؤن محض ایک بلدیاتی یونٹ نہیں بلکہ شہر کی تاریخ، تہذیب، مذہبی تنوع اور شہری مسائل کا ایک جامع نقشہ ہے۔ بہادرآباد، شرف آباد، جمشید روڈ، سولجر بازار، گارڈن، نشتر پارک، نمائش، لائنز ایریا، جیل چورنگی اور یونیورسٹی روڈ جیسے اہم علاقے اس ٹاؤن کا حصہ ہیں۔ جناح ٹاؤن کے چیئرمین رضوان سمیع اسے ’’ہارٹ آف دی سٹی‘‘ قرار دیتے ہیں، لیکن یہی اہمیت اس علاقے کے مسائل کو بھی غیر معمولی بنا دیتی ہے۔

جسارت ڈیجیٹل کے ساتھ ایک پوڈ کاسٹ میں رضوان سمیع نے گزشتہ تین برس کے دوران جناح ٹاؤن کی کارکردگی، ترقیاتی منصوبوں، پارکس، سڑکوں، سیوریج، کچرے، تجاوزات اور مختلف شہری اداروں کے درمیان اختیارات کی تقسیم پر تفصیلی گفتگو کی۔

بی آر ٹی سے 40 فیصد علاقہ متاثر:
جناح ٹاؤن کے مسائل میں بی آر ٹی کا منصوبہ بھی ایک اہم عنصر ہے۔ رضوان سمیع کے مطابق ٹاؤن کی چار یونین کونسلز بی آر ٹی کے تعمیراتی کام سے متاثر ہوئی ہیں، جن میں یو سی 7، 6، 4 اور یو سی 11 کا کچھ حصہ شامل ہے۔ ان کے مطابق تقریباً 40 فیصد جناح ٹاؤن اس منصوبے سے متاثر ہوا۔

یونیورسٹی روڈ، جیل چورنگی سے حسن اسکوائر تک اور نیو ایم اے جناح روڈ سے نمائش تک کے علاقوں میں تعمیراتی سرگرمیوں کے باعث سیوریج، اسٹورم واٹر ڈرین اور سڑکوں کے مسائل پیدا ہوئے۔ تاہم چیئرمین کے مطابق ایف ڈبلیو او کے آنے کے بعد رابطہ کاری میں بہتری آئی ہے اور بعض مسائل کو اب زیادہ سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے۔

مسائل کی تین کیٹیگریز:
رضوان سمیع نے جناح ٹاؤن کو مسائل کی شدت کے لحاظ سے تین کیٹیگریز میں تقسیم کیا ہے۔ ان کے مطابق یو سی 7 اور 8 نسبتاً بہتر علاقوں میں شامل ہیں، جہاں بہادرآباد، شرف آباد، شہید ملت روڈ، عالمگیر روڈ، کے ڈی اے اسکیم اور محمد علی سوسائٹی جیسے علاقے آتے ہیں۔

دوسری کیٹیگری میں مارٹن کوارٹرز، پی آئی بی کالونی، جیل کے اطراف، جمشید روڈ، سولجر بازار، گارڈن ایسٹ، گارڈن ویسٹ، لسبیلہ، نشتر پارک، گرو مندر، نمائش اور پاکستان کوارٹرز شامل ہیں، جہاں مسائل کی شدت نسبتاً زیادہ ہے۔

تیسری اور زیادہ مشکل کیٹیگری میں یو سی 9، 10 اور 11، خداداد کالونی، لائنز ایریا اور جٹ لائن جیسے علاقے آتے ہیں۔ یہاں تجاوزات، تنگ گلیاں، ناقص سیوریج، کچرا، پارکوں پر قبضے اور نالوں پر تعمیرات جیسے مسائل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

چیئرمین کے مطابق محدود وسائل کے باوجود گزشتہ تین برس میں مختلف علاقوں کو مرحلہ وار بہتر بنانے پر توجہ دی گئی، جبکہ آخری سال میں پٹیل پاڑہ اور لائنز ایریا کو خصوصی طور پر فوکس کیا جا رہا ہے۔

43 پارکس میں سے نصف کی بحالی:

جناح ٹاؤن کو 43 پارکس ملے تھے، جن میں سے چیئرمین کے مطابق تقریباً نصف کو تین برس کے دوران ترقی دی جا چکی ہے۔ تاہم لائنز ایریا میں پارکس کی صورتحال انتہائی پیچیدہ ہے۔

بعض پارکس چند سو گز تک محدود رہ گئے ہیں جبکہ کئی جگہ پارکوں کی زمین پر تجاوزات قائم ہو چکی ہیں۔ نالوں اور پانی کی گزرگاہوں کے اوپر بھی مکانات تعمیر ہونے کی شکایت ہے۔ بے ہنگم کمرشلائزیشن نے گلیوں کو مزید تنگ کر دیا ہے۔

ایسے علاقوں میں پارک کی بحالی صرف تعمیراتی منصوبہ نہیں بلکہ تجاوزات، آبادی، شہری منصوبہ بندی اور قانونی مسائل کے حل سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔

جناح ٹاؤن: مذہبی اور ثقافتی تنوع کی علامت:
جناح ٹاؤن کی ایک بڑی خصوصیت اس کا مذہبی اور ثقافتی تنوع ہے۔ یہاں مختلف مکاتب فکر کے مذہبی مراکز، امام بارگاہیں، مساجد، مندر اور دیگر اہم مقامات موجود ہیں۔

فیضانِ مدینہ، بنوری ٹاؤن، نشتر پارک، ہنومان مندر اور متعدد امام بارگاہیں اس علاقے کو مذہبی اعتبار سے غیر معمولی اہمیت دیتے ہیں۔ محرم کے بڑے جلوس بھی ایم اے جناح روڈ، نشتر پارک اور نمائش سے گزرتے ہیں۔

رضوان سمیع کے مطابق ٹاؤن انتظامیہ مختلف مذہبی اور ثقافتی برادریوں کے تہواروں کا احترام کرتے ہوئے سب کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہی تنوع جناح ٹاؤن کو کراچی کے دوسرے علاقوں سے منفرد بناتا ہے، لیکن اس کے ساتھ انتظامی ذمہ داریاں بھی بڑھ جاتی ہیں۔

اصل بحران سیوریج کا:
انٹرویو میں سب سے نمایاں مسئلہ سیوریج اور پانی کا سامنے آیا۔ رضوان سمیع کے مطابق کراچی کی سڑکوں کی بار بار ٹوٹ پھوٹ کی بڑی وجوہات میں پانی کی لائنوں کی لیکج اور ناقص سیوریج نظام شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹاؤن انتظامیہ نے سڑکوں کی تعمیر کا ارادہ کیا تو معلوم ہوا کہ زمین کے نیچے پانی اور سیوریج کا بنیادی نظام ہی بوسیدہ ہے۔ نتیجتاً 2023 ء اور 2024 ءکے دوران ٹاؤن کے ترقیاتی وسائل کا بڑا حصہ سیوریج اور پانی کی لائنوں کی تبدیلی پر خرچ ہوا۔

ان کے مطابق یہ بنیادی طور پر کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کی ذمہ داری ہے، لیکن جب متعلقہ ادارے مؤثر کردار ادا نہیں کرتے تو منتخب بلدیاتی اداروں کو بھی شہری دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

رضوان سمیع نے لیاری ندی، ملیر ندی اور گجر نالے کی صفائی اور ڈی سلٹنگ کو بھی شہر کے سیوریج بحران سے جوڑا۔ ان کے مطابق کراچی کو چھوٹے چھوٹے منصوبوں کے بجائے بڑے اور مستقل سیوریج منصوبوں کی ضرورت ہے۔

سمندر میں گندا پانی:
سیوریج کا مسئلہ صرف سڑکوں اور گلیوں تک محدود نہیں۔ غیر صاف شدہ گندے پانی کے سمندر میں جانے سے ماحولیاتی خطرات بھی بڑھتے ہیں۔

رضوان سمیع کے مطابق کراچی کے ساحل کی وقتی صفائی کافی نہیں، جب تک ندی نالوں اور سیوریج کے نظام کو بنیادی سطح پر درست نہ کیا جائے۔ ان کے بقول اگر گندا پانی مسلسل سمندر میں شامل ہوتا رہے تو ساحل کی صفائی کی ہر کوشش عارضی ثابت ہوگی۔

یہ مسئلہ کراچی کے شہری انفرااسٹرکچر کے ساتھ ساتھ سمندری ماحول کے تحفظ کا بھی سوال ہے۔

کچرے کا بحران اور اختیارات کا تضاد
کچرا اٹھانے کے معاملے پر چیئرمین نے واضح کیا کہ ڈور ٹو ڈور کچرا اٹھانا ٹاؤنز کی ذمہ داری نہیں بلکہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔

یہاں کراچی کے بلدیاتی نظام کا ایک بنیادی تضاد سامنے آتا ہے۔ شہری کے لیے یہ تقسیم اہم نہیں کہ اختیار کس ادارے کے پاس ہے؛ اس کے لیے اہم یہ ہے کہ اس کے محلے سے کچرا اٹھے۔ لیکن منتخب نمائندوں کے مطابق ان کے پاس نہ مطلوبہ بجٹ ہے، نہ مشینری اور نہ ہی کچرا اٹھانے کا قانونی اختیار۔

رضوان سمیع نے سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کی کارکردگی پر شدید تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جناح ٹاؤن جیسے مرکزی علاقوں میں بھی کچرے کے ڈھیر موجود ہیں اور ڈور ٹو ڈور کلیکشن کا نظام مطلوبہ معیار کے مطابق نہیں۔

اصل سوال جواب دہی کا ہے
جناح ٹاؤن کی تین سالہ کارکردگی کا جائزہ دراصل کراچی کے وسیع تر بلدیاتی بحران کی تصویر پیش کرتا ہے۔ ایک طرف پارکس کی بحالی، سڑکوں اور اسٹریٹ لائٹس کے منصوبے ہیں تو دوسری طرف سیوریج، پانی، کچرے، تجاوزات اور بڑے ترقیاتی منصوبوں کے ایسے مسائل ہیں جو ٹاؤن کی حدود سے باہر کے اداروں سے جڑے ہوئے ہیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ اختیارات کئی اداروں میں تقسیم ہیں، مگر شہری کی شکایت ایک ہی ہے۔ اسے پانی چاہیے، صاف گلی چاہیے، کچرے سے پاک محلہ چاہیے اور بارش کے بعد محفوظ راستے چاہئیں۔

اسی لیے جناح ٹاؤن کی اصل آزمائش صرف یہ نہیں کہ کتنے پارکس بحال ہوئے یا کتنی سڑکیں بنیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا کراچی ایسا بلدیاتی نظام تشکیل دے سکتا ہے جہاں اختیار، وسائل اور جواب دہی ایک ہی نظام میں واضح طور پر موجود ہوں؟

جناح ٹاؤن کو ’’ہارٹ آف دی سٹی‘‘ کہنا بلاشبہ درست ہو سکتا ہے، لیکن شہر کا دل اسی وقت صحت مند سمجھا جائے گا جب اس کے پارکس آباد، سڑکیں قابلِ استعمال، نالے صاف، سیوریج فعال اور گلیاں کچرے سے پاک ہوں۔ کراچی کا مستقبل صرف بڑے منصوبوں سے نہیں بلکہ اسی بنیادی شہری نظام کی درستگی سے وابستہ ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *