ظلم کے خلاف مزاحمت

ظلم کی مزاحمت انسان ہی نہیں ہر جاندار کی فطرت کا حصہ ہے۔ معمولی چیونٹی کو بھی تکلیف پہنچانے، ہلاک کرنے یا راستے سے ہٹانے کی کوشش کی جائے تو وہ مزاحمت کرتی ہے۔ افراد کی طرح قوموں کی بقا کا انحصار بھی مظالم کے خلاف مزاحمت کی صلاحیت پر ہوتا ہے۔ ہر ظالم مظلوموں سے مکمل خود سپردگی کا تقاضا کرتا ہے اور اُس سے کم پر راضی نہیں ہوتا۔ لیکن ظلم و سفاکیت کے مقابلے میں خود سپردگی اور مداہنت کا رویہ اختیار کرنے والی قوم کا مقدر یہی ہوتا ہے کہ وہ کچل اور مسل ڈالی جائے۔ تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ مزاحمت کے معقول طریقوں کو اختیار کیے بغیر کسی قوم نے اپنے اوپر ظلم کرنے والوں سے نجات حاصل کی ہو یا خود ظالم نے رحم کھا کر اس کی جان بخشی کردی ہو۔ ظلم کے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑا ہونا یقیناً آسان کام نہیں ہے۔ یہ قدم قدم بلائوں کی راہ ہے اور قربانیوں کے نذرانے کے بغیر اس راہ سے گزرنا ممکن نہیں۔ لیکن ظلم سے نجات کی بس یہی ایک راہ ہوتی ہے۔ ہر ظلم کی تاریخ یا تو مظلوم قوم کے خاتمے پر ختم ہوتی ہے یا ظلم کی مزاحمت کے نتیجے میں ظالم کی شکست اور ظلم کے خاتمے پر۔

کب اشک بہانے سے کٹی ہے شب ہجراں کب کوئی بلا صرف دعائوں سے ٹلی ہے

قرآن مجید نے مسلمانوں کی ایک اہم خصوصیت یہ بتائی ہے کہ وہ ظالموں کے لیے نرم نوالہ نہیں ہوتے: ”اور جب ان پر زیادتی کی جاتی ہے تو اس کا مقابلہ کرتے ہیں“ (سورہ الشوریٰ: 39)۔

مولانا مودودیؒ نے اس کی تفسیر میں لکھا ہے: یہ بھی اہل ایمان کی بہترین صفات میں سے ہے۔ وہ ظالموں اور جباروں کے لیے نرم چارہ نہیں ہوتے۔ ان کی نرم خوئی اور عفو و درگزر کی عادت کمزوری کی بنا پر نہیں ہوتی۔ انہیں بھکشوؤں اور راہبوں کی طرح مسکین بن کر رہنا نہیں سکھایا گیا ہے۔ ان کی شرافت کا تقاضا یہ ہے کہ جب غالب ہوں تو مغلوب کے قصور معاف کردیں، جب قادر ہوں تو بدلہ لینے سے در گزر کریں، اور جب کسی زیر دست یا کم زور آدمی سے کوئی خطا سرزد ہوجائے تو اس سے چشم پوشی کر جائیں، لیکن کوئی طاقتور اپنی طاقت کے زعم میں ان پر دست درازی کرے تو ڈٹ کر کھڑے ہوجائیں اور اس کے دانت کھٹے کردیں۔ مومن کبھی ظالم سے نہیں دبتا اور متکبر کے آگے نہیں جھکتا۔ اس قسم کے لوگوں کے لیے وہ لوہے کا چنا ہوتا ہے جسے چبانے کی کوشش کرنے والا اپنا ہی جبڑا توڑ لیتا ہے (تفہیم القرآن، سورہ الشوریٰ، حاشیہ 63)۔

اسلام کے ماننے والوں کے لیے ظلم کی مزاحمت صرف ایک فطری ضرورت ہی نہیں ہے، بلکہ اُن کے دین کا ایک اہم ترین مطالبہ اور ان کے مقام ومنصب کا تقاضا بھی ہے۔ یہ اہل اسلام کا مشن ہے کہ نہ صرف اُن کے اوپر سے بلکہ دنیا کے تمام مظلوموں پر سے ظلم کے بادل چھٹ جائیں اور آدم کے ہر بیٹے اور بیٹی کو آزادی کی کھلی فضا میسر آئے۔ عدل کا قیام اور ظلم کا صال، دینِ اسلام کے مقاصد میں شامل ہے۔ اس کی اہمیت اور دین میں اس کی مرکزیت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ انسانوں کے درمیان عدل و قسط کے قیام کو اللہ تعالٰی نے انبیاء علیہم السلام کی بعثت کا ایک مقصد قرار دیا ہے۔

”بے شک ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ عدل پر قائم ہوں“ (سورہ الحدید: 25)۔

پیغمبروں کے ساتھ ساتھ عام مسلمانوں کو بھی یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ نہ صرف خود پر ظلم کی مزاحمت کریں بلکہ عدل و انصاف کے لیے اٹھ کھڑے ہونے والے بنیں اور جہاں کہیں ظلم ہو رہا ہو، اسے روکنے کے لیے ممکنہ جدوجہد کریں۔ ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو، خدا واسطے انصاف کے علمبردار اور اس کے گواہ بنو“ (سورۃ النساء: 135)۔

شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ: بے شک انبیاء علیہم السلام کی بعثت کے اہم ترین مقاصد میں سے ایک انسانوں میں سے ظلم و زیادتی کا ازالہ ہے۔ مظالم انسانی زندگی کے احوال کو درہم برہم کردیتے ہیں اور ان کو سخت تنگیوں میں مبتلا کردیتے ہیں۔ اور یہ بات اتنی واضح ہے کہ اس کے لیے کسی تفصیل کی ضرورت نہیں ہے (حجۃ اللہ البالغہ، جلد دوم)۔

ظلم کے مقابلے اور مزاحمت ہی کا حکم نہیں دیا گیا بلکہ ظلم کے مقابلے میں خاموشی اور بے حسی کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ رسولؐ نے واضح الفاظ میں یہ بات فرمائی ہے کہ ظلم کی مزاحمت نہ کرنا اللہ کے غضب اور اس کے عذاب کو دعوت دینے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

نبیؐ نے فرمایا: لوگ جب کسی ظالم کو دیکھیں اور اس کا ہاتھ نہ پکڑیں تو عنقریب اللہ ان سب پر اپنا عذاب نازل کرے گا (سنن الترمذی)۔

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر، اسلام کا ایک اہم رکن اور حکم ہے۔ ظلم کی مزاحمت، نہی عن المنکر کا نہایت اہم تقاضا ہے۔ نبی کریمؐ نے بنی اسرائیل کی تباہی کا ایک اہم سبب یہ بتایا ہے کہ اُن کے سربر آوردہ لوگوں نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام چھوڑدیا تھا۔ اس سلسلے کی ایک مشہور حدیث کا اختتام آںحضرتؐ کی امت کے نام اس اہم تنبیہ پر ہوتا ہے کہ: اللہ کی قسم، یا تم خیر کا حکم دو گے اور منکر سے روکو گے اور ظالم کا ہاتھ پکڑ کر اسے روکو گے اور اسے عدل کرنے اور حق پر قائم رہنے پر مجبور کرو گے، یا (ورنہ) اللہ تمہارے دلوں کو ایک دوسرے سے ٹکرا دے گا اور تم پر لعنت کرے گا جیسا کہ بنی اسرائیل پر کیا تھا (سنن ابی داود)۔

یہی وجہ ہے کہ ظلم و زیادتی کا صال انبیاء علیہم السلام کی جدوجہد کا ایک اہم عنوان رہا ہے۔ انبیائی جدوجہد کا یہ پہلو خاص طور پر موسیٰ علیہ السلام کے قصے میں بہت ابھر کر سامنے آتا ہے جسے قرآن نے متعدد جگہ، بلکہ دیگر واقعات کے مقابلے میں سب سے زیادہ مرتبہ بیان کیا ہے۔ (موسیٰ علیہ السلام کے واقعات کا تذکرہ اور اشارہ قرآن مجید میں تیس سورتوں میں تقریباً سو مقامات پر آیا ہے۔) فرعون ایک نسل پرست، ظالم اور استحصالی حکمران تھا۔ جبکہ موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل میں مبعوث ہوئے تھے جو فرعون کے نسل پرستانہ مظالم کے شکار تھے۔ اللہ کے ایک برگزیدہ رسول کی حیثیت سے موسیٰ علیہ السلام کا اصل کام تو دعوت الی اللہ تھا لیکن ساتھ ہی ان سے یہ بھی کہا گیا کہ: ”پس اس کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ ہم دونوں تیرے رب کے رسول ہیں، تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے دے اور ان کو عذاب میں مبتلا نہ رکھ“ (سورہ طہ: 47)۔

خود نبی کریمؐ نے بھی ظلم کے خاتمے اور عدل کے قیام کو اپنا مشن قرار دیا۔ فرمایا: خدا کی قسم! یہ مشن مکمل ہوکر رہے گا۔ یہاں تک کہ ایک سوار صنعاء سے حضرت موت تک جائے گا اور اسے خدا کے سوا کسی کا خوف نہیں ہوگا (صحیح البخاری)۔

اس طرح کے متعدد اقوال میں ظلم اور زیادتیوں کے خاتمے اور امن و امان کے قیام کو نبوی مشن کی تکمیل کی اہم علامت قرار دیا گیا ہے۔ حلف الفضول کا معاہدہ ظلم کی روک تھام ہی کا معاہدہ تھا جو نبوت کے نزول سے قبل اس وقت طے پایا تھا جب آپؐ کی عمر مبارک بیس سال تھی لیکن جس کے بارے میں آپؐ نے بعد میں یہ بات فرمائی کہ اگر زمانہ اسلام میں بھی مجھے اس کا واسطہ دے کر بلایا جائے تو میں حاضر ہوں گا یا یہ کہ یہ معاہدہ سرخ اونٹوں سے زیادہ محبوب ہے (طبقات ابن سعد)۔

”اللہ تعالی نے ہم کو مبعوث کیا ہے تاکہ ہم اس کے بندوں کو بندوں کی غلامی سے نجات دلائیں اور اللہ کی بندگی میں لائیں اور دنیا کی تنگنائیوں سے اس کی وسعتوں کی طرف لے جائیں اور جھوٹے مذاہب کے مظالم سے نکال کر اسلام کے عدل میں لے جائیں“ (البدایۃ و النہایۃ)۔

انبیاء علیہم السلام کے بعد، ہر زمانے میں امت مسلمہ کی بزرگ شخصیتوں اور مجددین دین، کی جدوجہد میں بھی یہ پہلو بہت نمایاں رہا۔ اسلام کی دینی تاریخ کی تمام اہم شخصیتوں کے ساتھ، ظلم وزیادتی کے خلاف جدوجہد کے ولولہ انگیز واقعات وابستہ ہیں اور ان میں سے اکثر کو اس جدوجہد کے دوران آزمائشوں سے بھی گزرنا پڑا ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *