اخلاق
مشرق کے علوم وفنون، صنائع وتجارت، معاشرت وسیاست، مختصراً یہ کہ تمام مظاہر زندگی اصلاح طلب ہیں، اس لیے یہ صحیح ہے کہ مشرق کو کسی اصلاح سے استغنا نہیں، لیکن یہ ایک ناقابل انکار صداقت ہے کہ قوم میں مذہبی، سیاسی، اجتماعی وغیرہ گوناگوں اصلاحات کا آغاز اس وقت تک کامیاب نہیں ہوتا جب تک اس کے افراد میں ایک ایسا گروہ موجود نہ ہو جس میں طول تفکر، حسن تمیز، اصابت رائے اور جرأت اخلاق ہو۔
یہ گروہ عمومًا نوجوانوں میں پیدا ہوتا ہے، کیونکہ ان میں بڑھاپے کی عافیت اندیشیوں کے بدلے جوانی کی ولولہ خیزیاں ہوتی ہیں، جو ان کو حریت، بلندی، حق گوئی کی طرف بڑھاتی ہیں، اس لیے ایک مصلح کا فرضِ اولین نوجوانانِ قوم کی اخلاقی اور دماغی پر داخت ہے۔
اخلاق کی تعریف
جس طرح کہ سنگِ چقماق میں آگ پوشیدہ ہے، اس طرح انسان میں گوناگوں صدہا قویٰ موجود ہیں، ان قویٰ سے جب ابتداءً کام لیا جاتا ہے تو کسی قدر تعمد وتکلف کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن عرصہ تک برابر سلسلہٴ استعمال جاری رہتا ہے تو پھر ان کی یہ حالت ہو جاتی ہے کہ ان کے استعمال کے قصد وارادہ کی ضرورت نہیں رہتی، بلکہ حسب موقع و ازخود کار فرما ہونے لگتا ہے اور بہت زیادہ عرصہ تک ان کا استعمال جاری رہتا ہے تو وہ اس طرح جزو زندگی بن جاتے ہیں کہ ان سے علیحدگی کے لیے نہ صرف ارادے کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ تکلیف ہوتی ہے، جب انسان کسی چیز کے استعمال کا اس درجہ تک خوگر ہوجاتا ہے تو یہ خوگری ”عادت“ یا ”خلق“ کہلاتی ہے۔
اخلاق کی شکل پذیری
تم نے بارہا دیکھا ہوگا کہ ایک آہنی تار بالکل سیدھا تھا، مگر جب کسی شکل پر لپیٹا گیا تو اس کی بھی وہی شکل ہوگئی اور اگر زیادہ عرصہ تک لپیٹا رہا تو وہ شکل تار میں اس درجہ راسخ ہوگئی کہ اس کا سیدھا کرنا دشوار ہوگیا، قویٰ اخلاق کی بھی بعینہ یہی حالت ہے، وہ ابتداءً بے شکل ہوتے ہیں، لیکن جب عرصہ تک ایک مخصوص اسلوب پر استعمال کیے جاتے ہیں تو وہ ایک خاص شکل اختیار کر لیتے ہیں۔
اقسامِ اخلاق
گو ہماری زبان میں اخلاق کا استعمال اکثر حسنہ بلکہ اخلاق حسنہ کی ایک خاص صنف یعنی مدارات کے معنی میں ہوتا ہے، چنانچہ خوش اخلاق اس شخص کو کہتے ہیں جو ملاقات میں اعتناء والتفات کو کام فرماتا ہو، مگر واقعہ یہ ہے کہ اخلاق کا دائرہ معانی اس قدر تنگ نہیں، اخلاق مجموعہ عادات کا نام ہے، اگر عادات اچھے ہوں تو وہ شخص خوش اخلاق ہے اور اگر بُرے ہوں تو بد اخلاق ہے۔
میں اس وقت اخلاق کی پیش پا افتاد وتقسیم حمیدہ وذمیمہ سے گزر کر، دو اور تقسیمیں کرنا چاہتا ہوں۔
(1) اخلاقِ طبعی: یہ وہ اخلاق ہیں جو انسان اپنے ساتھ لے کر پیدا ہوتا ہے، ان کا صال ناممکن، مگر تقویت وتضعیف ممکن ہے، تم نے دیکھا ہوگا بعض لوگوں میں ان کی صحبت کے عام اخلاق کے خلاف بعض عادتیں پائی جاتی ہیں، یہ وہی عادات ہیں جن کو ہم فطری کہتے ہیں۔
(2) اخلاقِ کسبی: یہ وہ اخلاق ہیں جو انسان صحبت سے سیکھتا ہے اور رفتہ رفتہ وہ اس میں تقریبًا اتنے ہی جاگزیں ہوجاتے ہیں جتنے کہ اخلاقِ طبعی راسخ ہوتے ہیں۔
یہ تقسیم ہلٹ کی تھی۔ پروفیسر ڈیوی امریکی نے اخلاق کی حسب ذیل تقسیم کی ہے۔
(1) وہ اخلاق جن کا تعلق:
1: ادراک سے ہے۔
2: جذبات سے ہے۔
3: ارادے سے ہے۔
اخلاق متعلق بادراک وہ اخلاق ہیں جن کے ذریعے سے کذب وصدق، وہم وشک، ظن ویقین وغیرہ میں تقسیم ہوتی ہے۔
اخلاق متعلق بہ جذبات وہ اخلاق ہیں جن سے حسن، دوستی، لذت پسندی وغیرہ کے رجحان رونما ہوتے ہیں۔
اخلاق متعلق باارادہ وہ اخلاق ہیں جن کا تعلق ارادے سے ہے، جیسے صبر، استقلال، علم وغیرہ۔