امریکا سے کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے‘ ایران کی ٹر مپ کے دعوے کی تردید

تہران/واشنگٹن/لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) ایران نے واضح کیا ہے کہ اس وقت امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات نہیں ہو رہے جب کہ عمان کے ساتھ صرف آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت اور اس کے انتظام سے متعلق بات چیت جاری ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ عمان کے ساتھ ہونے والی بات چیت کا مقصد آبنائے ہرمز کے ذریعے محفوظ بحری آمدورفت کو یقینی بنانے اور اس اہم آبی گزرگاہ کے انتظامی معاملات پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ بعض میڈیا رپورٹس میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی خبریں سامنے آ رہی ہیں تاہم ان میں کوئی صداقت نہیں اور تہران کی موجودہ توجہ صرف عمان کے ساتھ جاری مشاورت پر مرکوز ہے۔ ایرانی ترجمان نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم بحری راستہ ہے، اسی لیے اس سے متعلق معاملات پر علاقائی سطح پر مشاورت جاری رہنا ضروری ہے۔علاوہ ازیں ایک انٹرویو میں اسماعیل بقائی کا کہنا تھاکہ برطانیہ بلغاریہ یوکرین نے ایران جنگ میں شامل نہ ہونے کی یقین دہانی کرائی ہے ،آبنائے ہرمز کی بندش امریکی وعدوں کی خلاف ورزی سے جڑی ہے۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک طرف تو پھر سے مذاکرات کا عندیہ ہے اور دوسری جانب ایران پر دوغلا رویہ اختیار کرنے کا الزام بھی عاید کیا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ٹرمپ نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا کہ امریکا کی ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایران کوئی معاہدہ نہیں کر لیتا یا پھر مکمل طور پر ہتھیار نہیں ڈال دیتا۔ امریکی صدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری ایک طویل بیان میں ایک بار پھر زور دیا کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوںنے ایرانی قیادت کو ناقابلِ یقین حد تک دوغلا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران ایک طرف ملاقاتوں اور مذاکرات کی درخواست کرتا ہے جب کہ دوسری جانب عوامی سطح پر یہ دعویٰ کرتا ہے کہ امریکا کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہو رہی اور وہ صرف عمان کے ساتھ رابطے میں ہے۔ان کا کہنا تھاکہ ایرانی رہنما خود ہی مذاکرات کی درخواست کرتے ہیں بلکہ بعض لوگوں کے مطابق تو یہ منتیں بھی کرتے ہیں لیکن جب بات چیت شروع ہو جاتی ہے اور مزید ملاقاتوں کا شیڈول بھی طے ہو جاتا ہے پھر وہ کھلے عام کہتے ہیں کہ امریکا کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔ ٹرمپ نے اپنے بیان میں ایران کے اس دعوے کو بھی مسترد کردیا کہ آبنائے ہرمز پر اس کا مکمل کنٹرول ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حقیقت میں آبنائے ہرمز امریکی بحریہ کے مکمل کنٹرول میں ہے۔انہوں نے کہا کہ بعض لوگ اسے امریکی “وال آف اسٹیل” (فولادی دیوار) بھی کہتے ہیں اور ایران کی جانب جانے والی کوئی بھی چیز امریکا کی اجازت کے بغیر وہاں سے نہیں گزر سکتی۔امریکی صدر نے کہا کہ ایران چاہے اس کا اعتراف کرے یا نہ کرے دونوں ممالک کے درمیان ایک ایسے مسئلے کے حل پر بات ہو رہی ہے جسے ان کے بقول ایران نے گزشتہ کئی دہائیوں سے پیدا کر رکھا ہے۔علاوہ ازیں امریکی میڈیا کے رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ امریکا نے ایران کے خلاف نئی جنگی حکمت عملی کے لیے عام فوجیوں سے بھی تجاویز طلب کرلی ہیں۔سینٹکام کو بھیجی گئی ایک ای میل لیک ہوگئی جس میں عام فوجیوں سے غیر روایتی حکمت عملی کے لیے تجاویز مانگی گئی ہیں۔امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کی جانب سے لیک ہونے والی ای میل یا اس میں کیے گئے مطالبات پر کوئی باضابطہ تبصرہ سامنے نہیں آیا جبکہ یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ موصول ہونے والی تجاویز کو کس حد تک عملی منصوبہ بندی کا حصہ بنایا جائے گا۔ دوسری جانب آبنائے ہرمز کے معاملے پر بڑھتی کشیدگی کے دوران ایران نے امریکی دھمکیوں کا سخت جواب دیا۔ ایران نے ناٹو کی طرز پر مسلم ممالک پر مشتمل فوجی دستے کی تجویز پیش کردی جس کا مقصد اسلامی سیکورٹی اتحاد کو فروغ دینا ہے۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق قائم مقام وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل سید مجید ابنِ رضا نے خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے ایران، ترکیے، پاکستان، سعودی عرب، مصر اور دیگر اسلامی ممالک پر مشتمل مشترکہ سیکورٹی اتحاد قائم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ جنرل سید مجید کا مزید کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ کی سلامتی صرف خطے کے ممالک ہی یقینی بنا سکتے ہیں جبکہ خطے میں بیرونی طاقتوں کی موجودگی عدم استحکام میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔ قائم مقام وزیر دفاع نے اتوار کو ترک وزیر دفاع یشار گولر سے ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران کہا کہ حالیہ جنگ نے ثابت کر دیا ہے کہ علاقائی سلامتی کا انحصار خطے کے ممالک کے باہمی تعاون پر ہونا چاہیے، نہ کہ بیرونی فوجی قوتوں پر بھروسہ کیا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ کے ساتھ جنگ بندی کی مفاہمتی یادداشت خطے میں استحکام کی بحالی اور دوست و ہمسایہ ممالک کی درخواست پر طے کی گئی تاہم امریکا کے ماضی کے طرزِ عمل کی وجہ سے ایران کو اس پر مکمل اعتماد نہیں۔ علاوہ ازیں ایران کے پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی ایرو اسپیس فورس نے آبنائے ہرمز کی فضائی حدود میں پرواز کرنے والے ایک امریکی MQ-9 ریپر ڈرون کو اپنے جدید فضائی دفاعی نظام کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق پاسداران انقلاب کی ایرو اسپیس فورس نے کہا ہے کہ جدید فضائی دفاعی نظام نے آبنائے ہرمز کے اوپر پرواز کرنے والے ڈرون کا بروقت سراغ لگایا اور اسے فائرنگ کر کے روک دیا۔بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ کارروائی ایران کی فضائی نگرانی اور دفاعی صلاحیتوں کا حصہ تھی تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ ڈرون مکمل طور پر تباہ ہوا، گر کر تباہ ہوا یا صرف نشانہ بنایا گیا۔مزید آںایران امریکا کشیدگی ہے باوجود عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی ہوئی ہے۔پیر کو عالمی معیار کے برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 4.2 فیصد کمی کے بعد 84 ڈالر فی بیرل تک گر گئی جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 5 فیصد کمی کے ساتھ 80 ڈالر فی بیرل پر آگئی۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *