آبنائے ہرمز پر پیشرفت سے ایران ‘ امریکا کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار ہوگی‘پاکستان

اسلام آباد،تہران ،واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک)دفتر خارجہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پاکستان کو امید ہے کہ آبنائے ہرمز معاہدہ ایران اور امریکاکے درمیان مذاکرات کی بحالی کا باعث بنے گا۔دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق یہ معاہدہ مذاکرات کے تسلسل کی راہ ہموار کرے گا، خصوصاً ایران اور امریکا کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات کی دوبارہ بحالی کے لیے پرامید ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان نے بدخشاں اور افغانستان کے دیگر علاقوں میں افغان طالبان فورسز اور حزب اختلاف کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات دیکھی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاک امریکا انسدادِ دہشت گردی مذاکرات ایک باقاعدہ عمل ہیں، جن میں انسدادِ دہشت گردی کے تمام پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ پاکستان اور امریکا کے درمیان انٹیلی جنس تعاون موجود ہے اور اس تعاون کی موجودہ سطح اطمینان بخش ہے۔ ترجمان نے کہا کہ افغانستان سے دہشت گرد گروہ پورے خطے میں موجود ہیں اور ان دہشت گرد نیٹ ورکس کو بھارتی مالی معاونت حاصل ہے۔ بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو بھی بھارت مالی امداد فراہم کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ دفاعی برآمدات قومی برآمدات کا حصہ ہیں اور اگر کوئی نجی وینڈر دفاعی مصنوعات تیار کر کے برآمد کرتا ہے تو اس سے ٹیکس اور دیگر مدات میں قومی خزانے کو بھی آمدن حاصل ہوتی ہے۔ترجمان نے مزید کہا کہ صومالیہ میں پاکستانی یرغمالیوں کی رہائی اب تک ممکن نہیں ہو سکی، جس پر پاکستان نہایت افسردہ ہے۔ یہ معاملہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔انہوں نے کہا کہ غزہ کے حوالے سے اسرائیل کی ذمہ داریوں پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے، جبکہ غزہ میں امن دستے بھیجنے سے متعلق سوال کا جواب دینا قبل از وقت ہوگا۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بنگلا دیش کے ساتھ سفارتی روابط معمول کے سفارتی ذرائع سے جاری ہیں۔ بنگلا دیش کے عوام بیرونی مداخلت کے بغیر اپنے اندرونی معاملات حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔یومِ استحصالِ کشمیر کے حوالے سے بھارتی وزارت خارجہ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان اس بیان کو مسترد کرتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں سخت قوانین کے سائے میں بھارتی فوج کی بھاری موجودگی برقرار ہے، جہاں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی کوششیں جاری ہیں، تاہم یہ اقدامات کشمیری عوام کے حقِ استصوابِ رائے کو ختم نہیں کر سکتے۔علاوہ ازیںایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے آئل ٹینکرز اور کمرشل بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لیے جاری مذاکرات تقریباً طے پاگئے ہیں۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق گزشتہ روز دونوں ممالک کے درمیان اس آبی گزرگاہ میں جہازوں کی محفوظ آمدو رفت کے لیے جغرافیائی حدود و قیود پر اتفاق ہوگیا تھا اور آج دیگر تفصیلات بھی سامنے آئی ہیں۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق عمان نے اتفاق کیا ہے کہ اس مجوزہ معاہدے کے تحت خلیج فارس میں داخل ہونے والے بحری جہازوں کی آمدورفت کے انتظام میں ایران کو نمایاں کردار حاصل ہوگا۔ایک سینئر ایرانی ذریعے اور دو علاقائی حکام نے بتایا کہ اس انتظام کے تحت خلیج میں داخل ہونے والے جہازوں کے روٹ پر تہران کو عملی نگرانی حاصل ہو سکتی ہے جسے ایران کے لیے اب تک کی بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ذرائع نے رائٹزر کو مزید بتایا کہ البتہ بعض اہم معاملات جیسے جہازوں کی واپسی، ان کے معائنے اور ممکنہ ٹول فیس ابھی زیرِ بحث ہیں۔ جس پر اتفاق کے بعد ہی مشترکہ اعلامیہ جاری ہوگا۔ جبکہ امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان جاری مذاکرات میں کسی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات تاحال غیر یقینی ہیں اور اس وقت کامیابی کے امکانات ففٹی ففٹی ہیں۔ سی این این نے خلیجی امور سے واقف ایک سینئر عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ اگرچہ مذاکرات جاری ہیں، تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ دونوں فریق کسی حتمی معاہدے تک ضرور پہنچ جائیں گے۔دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے ہمارے بجلی گھروں کو نشانہ بنایا تو جواب میں ایک ایک خلیجی ملک کو اندھیرے میں ڈبودیں گے۔یہ بات عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو میں خلیجی ممالک کے 2 اہم عہدیداروں نے کی ہے تاہم حکومتِ ایران نے اس بارے میں باضابطہ طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ایک خلیجی عہدیدار نے بھی نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایران نے واضح پیغام دیا کہ امریکی حملے کی صورت میں خلیجی ممالک کے بجلی کے بنیادی نظام اور انفرااسٹریکچر کو نشانہ بنائیں گے۔ ایک دوسرے علاقائی عہدیدار نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ ایسے ہی انتباہی پیغامات مختلف دارالحکومتوں تک پہنچائے گئے تھے۔ذرائع نے بتایا کہ ایران نے صرف دھمکی ہی نہیں دی بلکہ مبینہ طور پر ایسے اہم تنصیبات اور اہداف کی فہرست بھی پیش کی جنہیں جوابی حملے میں نشانہ بنایا جا سکتا ہے تاہم ان اہداف کی تفصیلات منظرعام پر نہیں لائی گئیں۔اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ایران کے ان انتباہی پیغامات نے خلیجی ممالک میں تشویش پیدا کر دی کیونکہ ان ممالک کی معیشت، تیل کی برآمدات، پانی صاف کرنے کے پلانٹس، مواصلاتی نظام اور دیگر اہم خدمات کا انحصار جدید بجلی کے بنیادی ڈھانچے پر ہے۔تاحال نہ تو امریکا نے اے ایف پی کی اس رپورٹ پر باضابطہ ردعمل دیا ہے اور نہ ہی ایران نے ان مبینہ دھمکیوں کی سرکاری سطح پر تصدیق یا تردید کی ہے۔علاوہ ازیں ایران نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے لیے ایران اور عمان کے درمیان نئے انتظامات پر بات چیت حتمی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جبکہ امریکا کی جانب سے بھی سابقہ وعدوں پر دوبارہ عمل درآمد کے مثبت اشارے موصول ہوئے ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کا کہنا تھا کہ مجوزہ ایران عمان مفاہمت کے تحت آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کا نیا طریقہ کار وضع کیا جا رہا ہے تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ گزرگاہ مکمل طور پر کھول دی جائے گی۔انہوں نے بتایا کہ مجوزہ نظام گزشتہ کئی دہائیوں سے رائج انتظام سے مختلف ہوگا جس کے تحت تجارتی جہازوں کے سفر کا ایک بڑا حصہ ایرانی سمندری حدود سے گزرے گا۔کاظم غریب آبادی نے کہا کہ جہازوں سے ٹرانزٹ فیس وصول کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ ایرانی قیادت کی پالیسی اور امریکا کے آئندہ طرزِ عمل کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن کی جانب سے ایسے اشارے موصول ہوئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا دوبارہ اپنے سابقہ وعدوں کی پاسداری پر آمادہ ہے۔رپورٹس کے مطابق اگر ایران اور عمان کے درمیان یہ انتظامی مفاہمت طے پا جاتی ہے تو اس کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان بھی ایک اہم معاہدہ آئندہ چند روز میں سامنے آنے کا امکان ہے۔دریں ا ثناء امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ جاری تنازع کے خاتمے کے لیے فوجی، معاشی اور سفارتی تمام ذرائع استعمال کرے گا، جبکہ واشنگٹن کی اولین ترجیح یہ ہے کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیش آنے والی مشکلات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت آسان نہیں کیونکہ وہاں کا نظام مختلف دھڑوں میں تقسیم ہے۔انہوں نے کہا کہ ایرانی نظام میں ایک طبقہ ایسا ہے جو جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے جبکہ دوسرا گروہ ایسا بھی موجود ہے جو جنگ جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔ ان کے بقول امریکا کی ذمہ داری ہے کہ ان حالات میں درست حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے اپنے مفادات کے مطابق بہترین نتیجہ حاصل کرے۔جے ڈی وینس نے امید ظاہر کی کہ بالآخر تنازع کا کوئی نہ کوئی حل نکل آئے گا، تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ عمل آسان نہیں ہوگا اور اس میں وقت لگ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران سے نمٹنے کے لیے امریکا ہر ہتھیار استعمال کرے گا۔قبل ازیںامریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کیمپ ڈیوڈ میں ہونے والے کابینہ اجلاس کے دوران وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ سے امریکی فوج کے اسلحے اور میزائلوں کے ذخائر میں کمی پر سخت سوالات کیے۔ رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ اس بات پر حیران تھے کہ اہم ہتھیاروں، خصوصاً طویل فاصلے تک مار کرنے والے گائیڈڈ میزائلوں اور فضائی دفاعی نظام کے لیے استعمال ہونے والے انٹرسیپٹر میزائلوں کی قلت اب بھی برقرار ہے حالانکہ انہیں پہلے بتایا گیا تھا کہ یہ مسئلہ حل ہو چکا ہے۔واشنگٹن پوسٹ نے دو باخبر ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ صدر ٹرمپ نے اجلاس میں اس معاملے پر وضاحت طلب کی اور جاننا چاہا کہ اسلحے کی قلت کیوں ختم نہیں ہو سکی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسی صورتحال نے حالیہ دنوں میں ایران کے خلاف مزید بڑے فوجی حملے نہ کرنے کے فیصلے پر بھی اثر ڈالا، کیونکہ محدود اسلحہ ذخائر امریکی فوجی آپشنز کو متاثر کر رہے تھے۔جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کے پاس اسلحے کا کافی ذخیرہ موجود ہے اور جو لوگ ایسی خبریں پھیلا رہے ہیں انہیں جیل جانا پڑ سکتا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کے پاس ہتھیاروں اور گولہ بارود کا بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے اور ملک دفاعی پیداوار میں تیزی سے اضافہ کر رہا ہے۔ٹرمپ کا یہ بیان ان خبروں کے بعد سامنے آیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکی اسلحے کے ذخائر پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ٹرمپ نے ان رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حساس معلومات افشا کرنے یا اس بارے میں گمراہ کن خبریں پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کسی نے خفیہ معلومات لیک کیں تو اسے جیل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں ایران کے سپریم لیڈر سید مجتبیٰ خامنہ ای سے رابطہ کرنا بہت مشکل ہے، سپریم لیڈر کی موجودگی ملک کے لیے ایک بڑی طاقت ہے اور ایران اپنے قومی راستے پر ثابت قدم رہے گا۔ ایرانی صدارتی دفتر کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں صدر مسعودپزشکیان کا کہنا ہے کہ امریکا سمجھتا تھا جنگ اور پابندیوں سے شام کی طرح ایران میں بھی حکومت الٹ دیگا، دشمن نے سازش کی تھی کہ 48گھنٹے میں ایرانی حکومت کا تختہ الٹ دیگا پر وہ ناکام رہا۔ انہوں نے کہا ہے کہ نئے سپریم لیڈر نے ایران کو متحد اور مضبوط بنایا ہوا ہے، ایرانی عوام کیحوصلے اور عزم نے دشمن کے ارادے ناکام بنادیے، تمام تر مشکلات کے باوجود ایران آج طاقتور اور باوقار ملک کہلاتا ہے۔صدر مسعود پزشکیان کا کہنا تھا آخر امریکا ایرانی یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں کو نشانہ کیوں بناتا ہے؟ امریکا ہر اس علامت کیخلاف ہے جو ایرانی عوام کو آزاد اور تخلیق کار بناتی ہے، امریکا نہیں چاہتا کہ کوئی بھی قابل شخص ایران میں قائدانہ کردار ادا کرے۔علاوہ ازیںدنیا کی8 بڑی بین الاقوامی شپنگ تنظیموں نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر لازمی ٹول یا سروس فیس عائد کرنے کی کسی بھی تجویز کی مخالفت کی جائے۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ان تنظیموں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس اور انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے سیکرٹری جنرل آرسینیو ڈومینگیز کے نام مشترکہ کھلا خط ارسال کیا ہے۔خط میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز جیسے بین الاقوامی بحری راستے پر لازمی ٹول یا ایسی سروس فیس نافذ کرنا، جو عملی طور پر ٹول ہی کے مترادف ہو، بین الاقوامی بحری قوانین اور کئی دہائیوں سے رائج اصولوں سے انحراف ہوگا۔شپنگ تنظیموں نے خبردار کیا کہ اگر آبنائے ہرمز میں اس قسم کی فیس عائد کرنے کی اجازت دی گئی تو مستقبل میں دنیا کی دیگر اہم بین الاقوامی آبی گزرگاہوں پر بھی اسی نوعیت کے اقدامات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سے نہ صرف آزادانہ جہاز رانی کا اصول متاثر ہوگا بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔قبل ازیںامریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے اور ایران و عمان کے درمیان جاری مذاکرات میں پیش رفت کی امید کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سرمایہ کاروں کی جانب سے خطے میں کشیدگی کم ہونے اور توانائی کی سپلائی معمول پر آنے کی توقع کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں پر دباؤ دیکھا گیا۔رپورٹ کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 37 سینٹ یا تقریباً 0.5 فیصد کمی کے بعد 79.08 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 53 سینٹ یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 74.69 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔علاوہ ازیںیمن میں حوثی عسکریت پسندوں کے مارب اور حضرالموت میں یمنی ایمرجنسی فورسز کے ٹھکانوں پر حملوں میں 45 اہلکار ہلاک ہوگئے۔یمنی ذرائع کے مطابق بیشتر ہلاک شدگان کا تعلق سرکاری فورسز سے ہے، حوثی عسکریت پسندوں نے مارب گورنریٹ کے قریب ایمرجنسی فورسز کی چھاؤنی پر 3 سمتوں سے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں سے حملے کیے، ان حملوں کے لیے خودکش ڈرون طیاروں سمیت 20 سے زیادہ پروجیکٹائل داغے گئے، حوثی ترجمان نے کہا کہ سعودی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا، حملے میں سعودی حمایت یافتہ سینکڑوں فوجیوں کو ہلاک اور زخمی کردیا، حملے میں فوجی کیمپ، اسلحہ کے گودام اور فوجی گاڑیاں بھی تباہ کر دیں۔دوسری جانب سعودی حکام کی جانب سے تاحال اس دعوے کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔قبل ازیں بر طانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز آرگنائزیشن (یو کے ایم ٹی او) کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں عمانی ساحل سے 9 ناٹیکل میل جنوب مشرق میں بحری جہاز کے قریب 2 دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بر طانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ جہاز اور عملے کے تمام ارکان محفوظ ہیں اور ابھی تک کسی ماحولیاتی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔دریں اثناء یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے کے دعوے کے بعد خلیج کے اہم بحری راستوں آبنائے ہرمز اور باب المندب سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی تعداد میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے شپنگ ڈیٹا کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ دونوں اہم بحری گزرگاہوں میں گزشتہ روز کے مقابلے میں جہازوں کی آمدورفت میں واضح کمی دیکھی گئی۔شپنگ ڈیٹا فراہم کرنے والے ادارے کپلر کے مطابق بدھ کے روز صرف دو تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے۔ ان میں ایک پاناما کے پرچم بردار کوئلہ بردار جہاز آبنائے ہرمز میں داخل ہوا، جبکہ دوسرا مارشل آئی لینڈز کے پرچم والا تجارتی جہاز اس آبی گزرگاہ سے باہر نکلا۔ اسی طرح باب المندب میں بھی بحری سرگرمی میں غیر معمولی کمی دیکھی گئی۔ کپلر کے مطابق گزشتہ روز صرف ایک بہاماس کے پرچم والا خشک مال بردار جہاز اس راستے سے گزرا، جبکہ ایک روز قبل یہاں سے 20 تجارتی جہاز گزرے تھے۔قبل ازیں قطر نے بحرین اور کویت کیلیے اپنی پروزیں بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق قطر نے بحرین اور کویت کے لیے اپنی پروازیں دوبارہ بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکام کے مطابق پروازیں 8 اگست سے بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ خطے میں سیکورٹی صورتحال میں بہتری اور فضائی آپریشنز کی بحالی کے بعد کیا گیا ہے۔قطر ایئرویز نے بحرین اور کویت کے لیے مسافر پروازوں کی بحالی کا اعلان کیا ہے۔ اس سے قبل علاقائی کشیدگی اور حفاظتی خدشات کے باعث ان روٹس پر پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی گئی تھیں۔دوسری جانب جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کی امن فوج یونیفل نے اسرائیلی حملوں پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج نے113دھماکا خیزمواد برسائے اور 21 جون کے بعد سے اسرائیلی فوج کے برسائے گئے دھماکا خیز مواد کی یہ سب سے بڑی تعداد ہے۔یرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل امیر اکرمینیا نے کہا ہے کہ ایرانی فوج ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور اپنی آپریشنل صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ فوج جدید تقاضوں کے مطابق اپنی آپریشنل تیاری کو بہتر بنانے کے عمل پر مسلسل کام کر رہی ہے اور اس مقصد کے لیے جنگی کارروائیوں میں متاثر ہونے والے نظام کو جدید بنایا جا رہا ہے، نیا فوجی ساز و سامان متعارف کرایا جا رہا ہے اور مقامی صلاحیتوں پر بھرپور انحصار کیا جا رہا ہے۔دریں اثناء ایران کی وزارتِ اطلاعات نے 21 افراد کو موساد سے تعلق اور چار افراد کو مسلح گروہوں سے روابط کے الزام میں گرفتار کرنے کا اعلان کیا ہے۔خبر رساں ادارے ایسنا کے مطابق صوبہ کرمان کے محکمہ اطلاعات نے بتایا کہ جنوری 2026 کے احتجاجی مظاہروں میں ملوث پانچ افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ادھر امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے متعلق 3 کمپنیوں اور 2 طیاروں پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ بعض عراقی فضائی کمپنیوں کو بھی پابندیوں کی فہرست سے خارج کر دیا گیا ہے۔امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق فلائی بغداد، عراق ایکسپریس اور ان سے وابستہ دیگر کمپنیوں کو پابندیوں کی فہرست سے ہٹا دیا گیا ہے۔ ان کمپنیوں پر ماضی میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے ساتھ مبینہ روابط کے الزام میں پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔محکمہ خزانہ نے ان کمپنیوں سے منسلک دو طیاروں پر عائد پابندیاں بھی ختم کرنے کی تصدیق کی ہے۔علاوہ ازیںاسرائیلی آرمی چیف نے غزہ میں فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کر دیا۔اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال ضمیر نے کہا ہے کہ فوج غزہ میں اپنی پیشگی کارروائیاں جاری رکھے گی۔اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق اسرائیلی آرمی چیف نے غزہ کے دورے کے دوران کہا کہ ہم نے حماس کو نمایاں طور پر کمزور کیا ہے اور سیکورٹی کی صورتحال کو تبدیل کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم غزہ کی پٹی میں پیشگی کارروائیاں جاری رکھیں گے، خطرات کا خاتمہ کریں گے اور اسرائیلی آبادیوں اور شہریوں کا دفاع کریں گے۔اسرائیلی آرمی چیف نے مزید کہا کہ اس کی ایک واضح مثال حماس کے عسکری ونگ کی خصوصی فورس “نخبا” کے اہلکاروں اور 7 اکتوبر کے حملے کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد میں شریک افراد کا تعاقب ہے۔ادھرپاکستان سمیت 8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے غزہ میں اسرائیلی خلاف ورزیوں پر مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیاہے جس میں پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب،یوایای نے غزہ میں اسرائیلی اقدامات کی شدید مذمت کی ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق غزہ میں اسپتالوں، طبی مراکز اور صحت کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی گئی ہے ، شہری تنصیبات پرحملے،خواتین و بچوں سمیت شہریوں کی ہلاکتیں بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہیں، غزہ تنازع کے خاتمے کے جامع منصوبے پر عملدرآمد اسرائیلی خلاف ورزیوں سے متاثر ہو رہا ہے۔صدرٹرمپ کے فلسطینی دھڑوں کی روڈ میپ پر رضامندی اعلان کے بعد بھی اسرائیلی کارروائیاں امن عمل کیلیے خطرہ ہیں، اسرائیلی اقدامات سیاسی عمل کوسبوتاژ، کشیدگی میں اضافے،انسانی بحران مزید سنگین بنانے کا باعث بن رہے ہیں۔ ادھراسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ روز جنوبی لبنان کے قصبے مجدل زون میں دھماکا خیز مواد پھٹنے کے نتیجے میں 2 اسرائیلی فوجی ہلاک اور 4 شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق اس واقعے کے بعد اسرائیلی فوج نے گزشتہ روز حزب اللہ کے خلاف دوبارہ حملے شروع کر دیے ہیں۔اسرائیلی فوج کے مطابق ہلاک ہونے والے فوجیوں کی شناخت 34 سالہ میجر حارل بیرنسٹاک اور 33 سالہ سارجنٹ میجر تمیر واکنین کے نام سے ہوئی ہے، دونوں اہلکاروں کا تعلق 55ویں پیراٹروپرز بریگیڈ سے تھا۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *