شمس سواتی کا پنجاب کے اضلاع کا تنظیمی دورہ‘متحد جدوجہد کی اپیل
نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے صدر شمس الرحمن سواتی نے رحیم یار خان، راجن پور، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان، ملتان، ساہیوال اور فیصل آباد کا تنظیمی دورہ کیا۔ اس دوران انہوں نے مختلف تنظیمی اجلاسوں کی صدارت کی، ضلعی و مقامی تنظیموں کی کارکردگی کا جائزہ لیا، ٹریڈ یونین نمائندوں کے اجتماعات، ورکرز کنونشنز اور کارکنوں سے ملاقاتیں کیں۔ ان اجتماعات میں ملک کو درپیش معاشی بحران، محنت کشوں کے مسائل، ٹریڈ یونین تحریک کی موجودہ صورتحال اور مستقبل کی حکمت عملی پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اپنے خطابات میں شمس الرحمن سواتی نے کہا کہ پاکستان میں تقریباً ساڑھے 8 کروڑ محنت کش ملک کی آبادی کا تقریباً ایک تہائی حصہ ہیں، مگر افسوس کہ ان میں سے 83 فیصد مزدور لیبر قوانین اور سماجی تحفظ کے نظام سے عملاً محروم ہیں۔ موجودہ لیبر قوانین صرف فارمل سیکٹر کے تقریباً 17 فیصد کارکنوں کا احاطہ کرتے ہیں، جبکہ ان قوانین پر بھی مؤثر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ انہوں نے کہا کہ سوشل سیکورٹی، ای او بی آئی اور ورکرز ویلفیئر فنڈ محنت کشوں کے کنٹریبیوٹری ادارے ہیں، حکومتی بجٹ کا حصہ نہیں۔ حکومتوں کو ان فنڈز کے بے جا استعمال کا کوئی اختیار حاصل نہیں، مگر افسوس کہ ان اداروں کے قوانین اور ضوابط کی مسلسل خلاف ورزی کی جا رہی ہے، اربوں روپے کی بے ضابطگیوں اور کرپشن کے باوجود کسی ذمہ دار کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ سوشل سیکورٹی کے اسپتالوں کی حالت زار انتہائی تشویشناک ہے، جبکہ ای او بی آئی کے پنشنرز کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ای او بی آئی پنشن میں کم از کم اجرت کے تناسب سے فوری اضافہ کیا جائے، کیونکہ یہ پنشنرز کا قانونی اور اخلاقی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ نجکاری کی پالیسیوں کے تحت قومی اداروں کو اونے پونے داموں فروخت کیا جا رہا ہے، جبکہ نجکاری کی راہ ہموار کرنے کے لیے ٹریڈ یونین سرگرمیوں پر مختلف پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔ اس کے نتیجے میں مستقل روزگار کا خاتمہ، بے روزگاری میں اضافہ اور محنت کشوں کے قانونی تحفظ کا دائرہ مسلسل محدود ہو رہا ہے۔ شمس الرحمن سواتی نے کہا کہ مستقل تقرریوں کی جگہ تھرڈ پارٹی کنٹریکٹ، ڈیلی ویجز، کنٹنجنٹ اور ٹھیکیداری نظام کو فروغ دیا جا رہا ہے، جس کے باعث لاکھوں مزدور ملازمت کے تحفظ، پنشن، سوشل سیکورٹی اور دیگر قانونی حقوق سے محروم ہو چکے ہیں۔ 8گھنٹے کے قانونی اوقاتِ کار پر عمل درآمد نہیں ہو رہا اور مزدوروں سے طویل اوقات تک کام لیا جا رہا ہے، جبکہ کم از کم اجرت پہلے ہی ایک مزدور خاندان کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے،
اس کے باوجود ملک کے 90 فیصد سے زائد اداروں میں اس پر بھی عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اداروں میں ملازمین کے بچوں کے روزگار کا خاتمہ، پنشن میں کٹوتیاں، ترقیوں کا تعطل، خالی آسامیوں کا ختم کیا جانا اور نئی بھرتیوں سے گریز محنت کش طبقے کے لیے شدید تشویش کا باعث ہے۔ مختلف اداروں میں ’’ورک مین‘‘ اور دیگر اصلاحات کے نام پر ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کے حقوق محدود کیے جا رہے ہیں، جبکہ بلدیاتی اداروں اور جامعات کے ہزاروں ملازمین کو بروقت تنخواہیں بھی ادا نہیں کی جا رہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری اسکولوں، ڈسپنسریوں اور اسپتالوں کی نجکاری کے باعث تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولتیں عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ ملک میں بے روزگاری، مہنگائی اور غربت خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے، مگر حکومتی پالیسیاں عوام کے بنیادی مسائل کے حل میں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ انہوں نے اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ نجی شعبے میں ٹریڈ یونین سازی اور اجتماعی سودے بازی کی کوشش کرنے والے کارکنوں کو مقدمات، ہراسانی، برطرفیوں اور مختلف قسم کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں ملک میں ٹریڈ یونین تحریک سکڑ کر تشویشناک حد تک محدود ہو چکی ہے۔ شمس الرحمن سواتی نے کہا کہ کھیتوں، منڈیوں، بازاروں، دکانوں، ہوٹلوں، گھریلو صنعتوں، گھریلو ملازمین، پیٹرول پمپوں، بھٹہ خشت، کان کنی، فشریز، تعمیرات، ٹرانسپورٹ اور دیگر غیر رسمی شعبوں سے وابستہ کروڑوں محنت کش کم اجرت، غیر محفوظ روزگار، استحصال اور سماجی تحفظ سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں تقریباً ساڑھے تین کروڑ بچے، جن کی عمریں 5سے 15سال کے درمیان ہیں، آج بھی تعلیم سے محروم ہیں، جبکہ صحت اور علاج کی سہولتیں عام شہری کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ ایسے حالات میں تعلیمی اداروں کی نجکاری اور فروخت معاشرے کے غریب طبقات کو مزید محرومی کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہے۔ آخر میں شمس الرحمن سواتی نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ملک کی تمام ٹریڈ یونیز، محنت کش تنظیمیں اور عوامی قوتیں اپنے اختلافات سے بالاتر ہو کر ظلم، استحصال اور غیر منصفانہ معاشی نظام کے خلاف متحد ہوں اور ’’بدل دو نظام‘‘ کا نعرہ بلند کرتے ہوئے مشترکہ جدوجہد کا آغاز کریں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کی تقسیم اور کمزوریوں سے سبق سیکھتے ہوئے ایسی دیانت دار، عوام دوست اور خدمت گزار قیادت کو آگے لانا ہوگا جو مہنگائی، بے روزگاری، نجکاری، بجلی، گیس اور پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف عملی جدوجہد کرے اور محنت کشوں، کسانوں اور عام شہریوں کے حقوق کا حقیقی تحفظ یقینی بنائے۔