بجلی ، پیٹرول اور ٹیکسوں کے نام پرعوام کا استحصال جاری ہے، جاوید قصوری

لاہور(وقائع نگارخصوصی) امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ بجلی، پیٹرول اور ٹیکسوں کے نام پر عوام کا بدترین استحصال جاری ہے، جبکہ حکمران اپنی ناکام پالیسیوں کا بوجھ مسلسل عوام پر منتقل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کے فی یونٹ وصول کی جانے والی رقم کا تقریباً 70 فیصد حصہ آئی پی پیز کو ادا کیا جاتا ہے، جو مہنگے بجلی بلوں کی بنیادی وجہ بن چکا ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں کے دوران آئی پی پیز کو مجموعی طور پر 13 ہزار 397 ارب روپے ادا کیے گئے، جن میں سے 7 ہزار 275 ارب روپے نجی بجلی گھروں کو بجلی کی پیداوار کی مد میں دیے گئے، جبکہ صارفین سے وصول کی گئی خطیر رقم کا ایک حصہ ایسے آئی پی پیز کو بھی ادا کیا گیا جنہوں نے بجلی پیدا ہی نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال عوام کے ساتھ کھلی ناانصافی اور قومی وسائل کے بے دریغ ضیاع کی عکاسی کرتی ہے۔محمد جاوید قصوری نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے موجودہ نظام کی ناکامی کا اعتراف اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ موجودہ حکومتی ڈھانچہ عوامی مسائل حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جن لوگوں کو فارم 47 کے ذریعے اقتدار میں لایا گیا اور جنہوں نے اس عمل کو ممکن بنایا، دونوں ہی عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، بجلی کے ناقابل برداشت بل اور پیٹرولیم مصنوعات پر مسلسل بڑھتی ہوئی لیوی نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔انہوں نے کہا کہ پیٹرول لیوی اور دیگر ظالمانہ ٹیکس درحقیقت عوام سے زبردستی وصول کیا جانے والا بھتا ہیں، جنہیں فوری طور پر ختم کیا جانا چاہیے۔ حکومت عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے نئے نئے ٹیکس عائد کر کے مہنگائی میں مزید اضافہ کر رہی ہے، جس کا خمیازہ ہر طبقہ بھگت رہا ہے۔امیر جماعت اسلامی پنجاب نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی پیٹرول لیوی، مہنگی بجلی، ظالمانہ ٹیکسوں اور عوام دشمن معاشی پالیسیوں کے خلاف 7 اگست کو ملک بھر میں بھرپور احتجاج کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس روز مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے، دھرنے اور اہم شاہراہوں پر احتجاج ریکارڈ کرایا جائے گا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے حقوق کے تحفظ، مہنگائی، بجلی کے ناروا بلوں اور ظالمانہ ٹیکسوں کے خلاف جماعت اسلامی کی اس پرامن عوامی تحریک میں بھرپور شرکت کریں تاکہ حکمرانوں کو عوامی مسائل کے حل پر مجبور کیا جا سکے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *