سکھر، لاپتا بچوں کی بازیابی تک تحریک جاری رکھیں گے، پریا ایکشن کمیٹی

سکھر(نمائندہ جسارت) پریا ایکشن کمیٹی کا ہنگامی پریس کانفرنس، لاپتا بچوں کی بازیابی تک تحریک جاری رکھنے، آئندہ اتوار شام پانچ بجے کراچی میں وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا جانے کا اعلان ، پریا ایکشن کمیٹی کی رہنما سہنی پارس، کنوینر لیاقت جلبانی اور دیگر رہنماؤں نے سکھر پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ لاپتا بچوں کی بازیابی تک ان کی پرامن تحریک جاری رہے گی۔ رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ ببرلو بائی پاس دھرنے کے خاتمے کے بعد حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے گئے، جبکہ احتجاج میں شریک کارکنوں کے خلاف دہشت گردی سمیت سنگین دفعات کے تحت مقدمات درج کر دیے گئے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سہنی پارس نے کہا کہ ببرلو بائی پاس پر 27 روزہ دھرنے کے دوران حکومت نے یقین دہانی کرائی تھی کہ لاپتا بچوں کی بازیابی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے اور دھرنا ختم کرنے کی صورت میں گرفتار کارکنوں کو رہا کر دیا جائے گا، تاہم رہائی کے ساتھ یہ شرط بھی عائد کی گئی کہ آئندہ دھرنا یا سڑک بلاک نہیں کیا جائے گا اور صرف روایتی احتجاج تک محدود رہا جائے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے تین بچیوں کی بازیابی کا دعویٰ کیا گیا، جن میں اسفہ مغل بھی شامل ہے، جسے خیبرپختونخوا کے ضلع نوشہرہ سے بازیاب کرنے کا بتایا گیا۔ سہنی پارس کے مطابق انتظامیہ نے بتایا کہ اسفہ مغل نے شادی کر لی ہے اور اپنے شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہے، جبکہ اس کے والد کی بھی اس سے ملاقات کرا دی گئی ہے۔ تاہم انہوں نے اعتراض اٹھایا کہ قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے، کیونکہ بچی کو متعلقہ عدالت میں پیش کیے بغیر فیصلہ کر لیا گیا، حالانکہ مقدمہ سندھ میں درج تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ کراچی کے علاقے سچل سے اغوا ہونے والی دو بہنوں کی بازیابی کا بھی دعویٰ کیا گیا، مگر نہ تو انہیں والدہ کے حوالے کیا گیا اور نہ ہی نامزد ملزمان گرفتار کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ محض ویڈیوز دکھا کر والدین کو مطمئن کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ اصل ذمہ دار آزاد گھوم رہے ہیں۔سہنی پارس نے کہا کہ لاپتا بچوں کے مقدمات میں قانون طاقتور افراد کے سامنے بے بس نظر آتا ہے، جبکہ پرامن احتجاج کرنے والوں کے خلاف دہشت گردی کی دفعات لگا دی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر واقعی بچے بازیاب ہوئے ہیں تو انہیں عدالت میں پیش کرکے قانونی کارروائی مکمل کی جانی چاہیے۔ رہنماؤں نے اعلان کیا کہ آئندہ اتوار شام پانچ بجے کراچی میں وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا، جس میں سندھ بھر سے لاپتا بچوں کے والدین، سماجی کارکن، وکلا ، مزدور تنظیمیں، سیاسی و مذہبی جماعتیں اور انسانی حقوق کے کارکن شرکت کریں گے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *