عدالت عظمیٰ کے حالیہ فیصلے سے اہم آئینی اصول واضح ہو گیا، دانیال چودھری
اسلام آباد (آن لائن)بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا ہے کہ عدالتی اختیارات کا تعین قانون کرتا ہے، پسند، سہولت یا دباؤ نہیں،سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے سے اہم آئینی اصول واضح ہو گیا،نیب اپیلوں کا فورم وفاقی آئینی عدالت ہے تو ضمنی کارروائیاں بھی وہیں چلیں گی۔ بیرسٹرعقیل ملک نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ کسی شخصیت یا جماعت کی جیت یا ہار نہیں، آئین کی بالادستی ہے،عدالتی فورم کا تعین سیاسی مفاد یا خواہش پر نہیں، صرف آئین و قانون کے مطابق ہوگا،سپریم کورٹ کا فیصلہ ملک میں ”فورم شاپنگ” کے خاتمے کا مظہر ہے۔ایک بیان میں بیرسٹردانیال چوہدری نے کہا کہ عدالتی اختیارات کا تعین قانون کرتا ہے، پسند، سہولت یا دباؤ نہیں،سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے سے اہم آئینی اصول واضح ہو گیا۔نیب اپیلوں کا فورم وفاقی آئینی عدالت ہے تو ضمنی کارروائیاں بھی وہیں چلیں گی۔ فیصلے کا مقصد کسی ادارے کی فتح یا شکست نہیں بلکہ فورم شاپنگ کا خاتمہ ہے۔ دانیال چوہدری نے کہا کہ متوازی کارروائی سے اجتناب: فیصلے کا مقصد متوازی کارروائیوں سے اجتناب اور آئینی حدود کا احترام ہے،مضبوط عدلیہ کا معیار: مضبوط عدلیہ اپنے اختیارات کے تحفظ کے ساتھ آئینی حدود کی بھی مکمل پاسداری کرتی ہے، آئینی حدود کا احترام ہی آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کا تقاضا ہے، عدالتی دائرہ اختیار کا تعین قانون کرتا ہے، پسند یا دباؤ نہیں،نیب مقدمات سے متعلق ضمنی کارروائیاں بھی وفاقی آئینی عدالت کا فورم استعمال کریں گی،فیصلے سے فورم شاپنگ کا خاتمہ ہوگا اور اداروں کی آئینی حدود کا احترام قائم رہے گا۔بیرسٹر عقیل ملک نے اپنے بیان میں کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ کسی شخصیت یا جماعت کی جیت یا ہار نہیں، آئین کی بالادستی ہے،عدالتی فورم کا تعین سیاسی مفاد یا خواہش پر نہیں، صرف آئین و قانون کے مطابق ہوگا۔ بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ملک میں ”فورم شاپنگ” کے خاتمے کا مظہر ہے،نیب مقدمات میں دوسری اپیل کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل ہو چکا ہے،نیب کیسز میں ضمانت سمیت تمام ضمنی کارروائیاں اب وفاقی آئینی عدالت کے دائرہ اختیار میں ہیں۔سپریم کورٹ نے دائرہ اختیار کی آئین کے مطابق درست تشریح کی ہے۔یہ فیصلہ عدالتی نظم کے استحکام کے لیے نہایت اہم پیش رفت ہے۔مضبوط عدلیہ وہی اختیار استعمال کرتی ہے جو قانون اسے تفویض کرتا ہے۔ بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ مضبوط عدلیہ وہ ہے جو آئین کی مقرر کردہ حدودِ اختیار کا مکمل احترام کرے۔