منگھو پیر ٹائون ، پی پی کے اپنے ہی کونسلرز پارٹی کی کارکردگی سے نالاں ، قیادت پر برس پڑے
کراچی (اسٹاف رپورٹر) میئر کراچی اور منگھو پیر ٹاؤن چیئرمین کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے ہونے کے باوجود منگھوپیر ٹاؤن کی قدیم آبادیوں پر مشتمل یونین کمیٹی نمبر دو (مکرانی پاڑہ، سرمستانی محلہ، گرم چشمہ، شیخ فرید، حاجی اللہ بخش گوٹھ، عمر گوٹھ اور غلام محمد گوٹھ) شدید انتظامی غفلت کے باعث تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہے۔ پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے مقامی منتخب نمائندے اور کونسلرز فنڈز اور اختیارات کی عدم فراہمی پر اپنی ہی پارٹی کی قیادت اور بلدیاتی انتظامیہ کے خلاف پھٹ پڑے ہیں۔ یونین کمیٹی نمبر دو کے جنرل کونسلرز عبدالغنی، عبدالستار کاچھیلو اور محمد عیسیٰ چنگیزی نے گفتگو کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا کہ پی پی پی کا میئر اور ٹاؤن چیئرمین ہونے کے باوجود منتخب کونسلرز کو ترقیاتی کاموں کے لیے مطلوبہ فنڈز جاری نہیں کیے جارہے۔ کونسلر عبدالغنی نے بتایا کہ وہ گزشتہ تین سالوں سے متعلقہ اداروں اور حکام کو علاقے کے مسائل، برساتی نالوں کی عدم صفائی اور سیوریج لائنوں کی ابتر صورتحال سے آگاہ کر رہے ہیں لیکن متعدد سفارشات کے باوجود کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ منتخب نمائندوں اور علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ نالوں کی صفائی نہ ہونے کے باعث گندا پانی سڑکوں، گلیوں اور گھروں میں داخل ہو رہا ہے جس سے تعفن اور بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ مون سون بارشوں کے پیشِ نظر انہوں نے میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب سے دردمندانہ اپیل کی ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر نالوں کی صفائی اور سیوریج لائنوں کی بحالی کے لیے فنڈز جاری کیے جائیں، بصورتِ دیگر شدید بارشوں کی صورت میں علاقہ زیرِ آب آنے، مکانات گرنے اور بڑا انسانی سانحہ جنم لینے کا شدید خدشہ ہے۔