بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ میں 5.77 فیصد اضافہ، صنعتی شعبے میں تیزی برقرار
کراچی(جسارت نیوز)پاکستان کے صنعتی شعبے میں ترقی کا مثبت رجحان برقرار ہے، جہاں مالی سال 2025-26 کے ابتدائی گیارہ ماہ کے دوران بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ (ایل ایس ایم) میں 5.77 فیصد سالانہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صنعتی سرگرمیوں میں یہ بہتری پیداواری صلاحیت، سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں میں اضافے کی عکاس ہے جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کی جانب سے فراہم کی جانے والی پالیسی معاونت اور سہولت کاری کو بھی اس پیش رفت کا اہم سبب قرار دیا جا رہا ہے۔دستیاب اعداد و شمار کے مطابق جولائی تا مئی مالی سال 2025-26 کے دوران کوانٹم انڈیکس آف مینوفیکچرنگ بڑھ کر 121.65 ہو گیا، جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ 115.02 تھا۔ اسی مدت میں بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ کے شعبے نے 5.77 فیصد سالانہ نمو حاصل کی، جو صنعتی پیداوار میں نمایاں بہتری کی نشاندہی کرتی ہے۔رپورٹ کے مطابق ٹیکسٹائل سمیت مختلف صنعتی شعبوں کی بہتر کارکردگی کے باعث ملک کی مینوفیکچرنگ صلاحیت اور مجموعی پیداوار میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس پیش رفت سے نہ صرف صنعتی شعبہ مستحکم ہو رہا ہے بلکہ معیشت کے دیگر شعبوں میں بھی مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔حکام کے مطابق ایس آئی ایف سی نے صنعت کو ترجیحی شعبہ قرار دیتے ہوئے سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول، پالیسی معاونت اور کاروباری سہولتوں کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی ہے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں صنعتی سرگرمیوں میں وسعت، نئی سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت میں اضافے اور برآمدات کے فروغ کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔معاشی ماہرین کے مطابق بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ میں مسلسل بہتری پاکستان کی صنعتی بحالی اور پائیدار معاشی نمو کی مثبت علامت ہے۔ ان کے مطابق اگر صنعتی شعبے کے لیے اصلاحاتی اقدامات، سرمایہ کاری دوست پالیسیاں اور ایس آئی ایف سی کی سہولت کاری کا سلسلہ جاری رہا تو آنے والے برسوں میں ملکی صنعت مزید مستحکم ہوگی، برآمدات میں اضافہ ہوگا، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور قومی معیشت کی ترقی کی رفتار مزید تیز ہونے کی توقع ہے۔