بچوں کے ساتھ زیادتی اور دیگر جرائم کے ہولناک اعداد و شمار جاری‘ پنجاب سرفہرست

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان میں بچوں کے ساتھ زیادتی اور اغوا سمیت دیگر جرائم کے ہولناک اعداد و شمار جاری کردیے گئے۔ بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم ساحل نے جنوری سے جون 2026 کے دوران ملک بھرمیں بچوں کے خلاف جرائم سے متعلق اپنی ششماہی رپورٹ جاری کر دی جو مختلف قومی اور علاقائی اخبارات اور دیگر ذرائع ابلاغ سے حاصل کردہ اعداد و شمار پر مبنی ہے۔ اس رپورٹ میں چاروں صوبوں، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے واقعات شامل کیے گئے ہیں۔ صوبہ پنجاب سے 80 فیصد، سندھ سے 15 فیصد جبکہ خیبرپختونخوا، بلوچستان، اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان سے مجموعی طور پر 5 فیصد کیسز رپورٹ کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق ملک بھر سے مجموعی طور پر 1914 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں 49 ایسے نومولود بھی شامل تھے جنہیں سڑک کنارے چھوڑ دیا گیا تھا۔ 1015 بچوں کے جنسی استحصال، 558 اغوا، 101 گمشدگی اور 35 کم عمر شادیوں کے کیسز درج کیے گئے ہیں، جبکہ 98 ایسے واقعات بھی ریکارڈ ہوئے جن میں جنسی زیادتی کے بعد پورنوگرافی کی گئی۔ اعداد و شمار کے مطابق مجموعی متاثرین میں 58 فیصد لڑکیاں اور 42 فیصد لڑکے تھے۔ عمر کے لحاظ سے 11 سے 15 سال کے 598 بچے سب سے زیادہ متاثر ہوئے جبکہ 16 سے 18 سال کے 356 بچے، 6 سے 10 سال کے 329 اور 5 سال تک کے 95 بچے متاثرین میں شامل تھے۔ 487 کیسز میں متاثرہ بچوں کی عمر کا ذکر نہیں کیا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 43 فیصد کیسز میں ملزمان متاثرہ بچوں کے واقف کار تھے جبکہ 34 فیصد میں ملزمان اجنبی تھے۔ 13 فیصد کیسز میں ملزم کی حیثیت کا ذکر نہیں تھا۔ تقریباً 45 فیصد واقعات متاثرہ بچوں کے اپنے گھروں میں، 18 فیصد ملزمان کے گھروں میں اور 3 فیصد کھلے میدانوں میں پیش آئے جبکہ 21 فیصد کیسز میں وقوعہ کی جگہ بیان نہیں کی گئی۔ ساحل کی رپورٹ کے مطابق 57 فیصد کیسز شہری اور 43 فیصد دیہی علاقوں سے رپورٹ ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق مجموعی کیسز میں سے 89 فیصد پولیس میں درج ہوئے۔ 11 فیصد کیسز میں اندراج کی صورتحال کا ذکر نہیں کیا گیا جبکہ 7 کیسز پولیس میں درج نہیں ہوئے اور ایک کیس میں پولیس نے مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیا۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *