بنگلہ دیش اور بھارت کے تعلقات: چند معروضی حقائق (آخری حصہ)
گزشتہ سے پیوستہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر میں یہ کہوں کہ بنگلہ دیش کے عوام کے جسم میں خون کا ایک قطرہ بھی باقی رہنے تک ان میں سے کوئی بھی اس صورت حال کو قبول نہیں کرے گا، تو شاید یہ مبالغہ آرائی نہ ہوگی۔ تاہم، بنگلہ دیش میں کچھ ایسے دانشور، صحافی، اساتذہ اور عوام سے کٹے ہوئے سیاسی رہنما بھی موجود ہیں جو اس زمرے میں نہیں آتے،ان کا گزربسر بھارتی نان و نفقہ اور بچا کھچا اناج کھا کر ہی ہوتا ہے۔ حال ہی میں ان کی سرکشی میں کچھ اضافہ ہوا ہے۔ یہ عناصر نہ صرف اس ملک کے عوام کی قومی و فکری شناخت کو مٹانا چاہتے ہیں، بلکہ ان کے نظریات کو نابود کر کے بھارتی مفادات کے تحفظ پر کمربستہ ہیں۔
یہ لوگ ہمارے قومی وجود کے لیے ایک کھلا چیلنج ہیں۔ میں اس چیلنج کو اس ملک کے علماء و مشائخ، قوم پرستوں اور اسلامی قوتوں کے اتحاد کے لیے نہایت اہم سمجھتا ہوں کیونکہ جب تک وجود کو خطرہ لاحق نہ ہو، اتحاد قائم نہیں ہوتا، اور جب تک اتحاد نہ ہو، وجود کو برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔ اسی طرح، ہمارے ملک میں فکری اور نظریاتی مغالطے کا سلسلہ بھی اب مزید نہیں چل سکتا۔ بنگلہ دیش کسی زبان کی بنیاد پر قائم ہونے والے خطے کا نام نہیں ہے۔
اگر ایسا ہوتا تو مغربی بنگال، تریپورہ اور آسام کے بنگالی علاقے بھی اس میں شامل ہوتے، یا پھر ہم ان کا حصہ ہوتے۔ مگر ایسا ہونا ممکن ہی نہیں تھا۔ علاوہ ازیں، بھارتی قوم پرستی کی بنیاد پر “بنگلہ دیشی قومی شناخت” کی تشکیل بھی بالکل غیر واقعی اور نااہلِ عمل مفروضہ ہے۔ درحقیقت، بنگلہ دیش ایک مسلم اکثریت پر مشتمل ریاستی وجود ہے، جس کا فطری اور بنیادی نظریہ اسلام ہے، اور اسلام کے بغیر یہ ملک قائم نہیں رہ سکتا۔
آج جو لوگ “دو قومی نظریے” کی مخالفت کرتے ہیں، ایک وقت تھا کہ وہی مسلم لیگ کی قراردادِ لاہور میں ‘ایک سے زائد مسلم ریاستوں’ کے قیام کے نقطے کا حوالہ دیا کرتے تھے۔ ایک سے زیادہ مسلم ریاستیں بنانے کے بجائے ہمارے اسلاف نے (پاکستان کی صورت میں) ایک ہی ریاست تشکیل دی تھی، مگر ۲۵ برس تک اس کا حصہ رہنے کے باوجود جب ہمیں اپنے حقوق نہ مل سکے تو ہم نے ایک الگ ریاست کی بنیاد رکھی۔ہم واپس بھارت میں شامل نہیں ہوئے۔ لہٰذا، اسلامی نظریے کو اس ریاست کی بنیادوں سے نفی نہیں کیا جا سکتا، اگر ایسا کیا گیا تو خود اس ریاست کا وجود ہی ختم ہو جائے گا۔ یہ باتیں میں اس کالم میں پہلے بھی متعدد بار کہہ چکا ہوں اور آج بھی دہرا رہا ہوں۔
ایک اور اہم بات کا ذکر ضروری ہے۔ کسی بھی قوم کی آزادی اور تحریک میں نوجوانوں کا کردار بے مثال ہوتا ہے۔ بنگلہ دیش کی جدوجہدِ آزادی میں بھی نوجوانوں کا مرکزی کردار رہا۔ چین اور روس کی کمیونسٹ تحریکیں ہوں، ہندوستان کی تحریکِ خلافت، مسلم لیگ کی تحریکِ پاکستان، گاندھی کی تحریکِ عدم تعاون، یا آئرش آزادی کی تحریک۔ہر جگہ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ہی صفِ اول میں رہے۔ امریکی انقلاب، فرانسیسی انقلاب اور اٹلی کی تحریکِ آزادی سمیت دنیا کے تمام انقلابات اور تحریکوں میں فوج اور صفوں کے اندر نوجوانوں کا ہی سب سے بڑا ہجوم تھا۔ نوجوانوں کی یہ توانائی ہی کسی ملک اور اس کے نظریے کو زندہ رکھتی ہے، اور بنگلہ دیش اس کلیے سے مستثنیٰ نہیں ہو سکتا۔
اس حقیقت سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں کہ ہماری قومی زندگی میں بزرگ گزر چکا ہوا ماضی ہیں، بچے آنے والا کل ہیں، جبکہ نوجوان ہی ہمارا حال اور مستقبل ہیں۔ قوم کی قیادت انہی کے ہاتھوں میں ہے۔ اگر اس دہائی میں ملک کو آگے بڑھانا ہے تو انہی کو سامنے آنا ہوگا۔ جس ملک کے عوام فجر کی اذان کی صدا پر بیدار ہوتے ہیں اور عشاء کی نماز پڑھ کر سوتے ہیں، وہاں نوجوانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس بیدار قوم کی صلاحیتوں کو کام میں لا کر سماجی و اقتصادی استحکام کے حصول میں ملک کی مدد کریں۔ اس مقصد کے لیے ان کے لیے جدید علوم و سائنس اور قرآن و سنت کی تعلیم سے آراستہ ہونا ناگزیر ہے۔ یہ شبابِ ملت نہ صرف تعمیرِ ملت اور اشاعتِ اسلام کا کام انجام دے گا، بلکہ اسلام مخالف تمام سرگرمیوں کے سامنے ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بھی بن جائے گا۔
چونکہ اسلام ہی بنگلہ دیش کی آزادی کا اصل ضامن ہے، اس لیے بقائے آزادی کی خاطر اسلام کی آبیاری اور پاسبانی ضروری ہے۔ اس تناظر میں، اگر بنگلہ دیش میں کسی بھی اسلامی جماعت، اسلامی قيادت، پیر و درویش، یا علماء و مشائخ پر کوئی آنچ آتی ہے تو اس کا شایانِ شان جواب دینا نوجوان نسل کی ہی ذمہ داری ہے۔ اگر ہم ایسا کرنے میں ناکام رہے تو ہمارا سیاسی، سماجی، ثقافتی اور نظریاتی وجود باقی نہیں رہ سکے گا۔ وقت رہتے ہم سب کو اس بارے میں بیدار اور ہوشیار ہونا ہوگا۔
لیکن اس وقت جو مناظر ہم دیکھ رہے ہیں، انہوں نے ہمیں ششدر کر کے رکھ دیا ہے۔ بھارتی حکومت نے جس سیاسی جماعت کو اپنا خاص دوست اور سگا سمجھ کر ‘بوریوں میں بھر کر’ روپیہ، عقل و مشورہ اور سفارتی سرپرستی فراہم کی اور اقتدار میں لائی، وہ جماعت آج عوام سے مکمل طور پر کٹ چکی ہے۔ ریاستی اور جماعتی دہشت گردی، قتل و غارت گری، جبر و نہاد (گُمشدگی)، بھتہ خوری، ٹینڈر مافیا، کرپشن، قومی وسائل کی لوٹ مار، قبضے کی سیاست، اور مخالفین پر حملے، جھوٹے مقدمات اور ریمانڈ کے نام پر تشدد ہی اس کا طرہء امتیاز بن چکا ہے۔ ان کے مظالم اور علماء و دین بیزاری کی حد یہ ہو چکی ہے کہ وہ ہر اسلامی سرگرمی اور اسلامی سیاسی جماعتوں کو اپنے لیے خارِ چشم سمجھنے لگے ہیں۔ وہ ان کی ہر مثبت سرگرمی کو دیس اور پردیس میں “شدت پسندی” اور “ڈھونگ” بنا کر پیش کرتے ہیں۔ نہ صرف ان کے سیاسی پروگراموں، جلسے جلوسوں اور یہاں تک کہ گھریلو اجتماعات میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں، بلکہ پولیس اور جماعتی غنڈوں کے ذریعے مسلح قوت سے انہیں کچلا جا رہا ہے۔
پولیس کی چھتر چھایا میں اور ان کی آنکھوں کے سامنے حکمران جماعت اور اس کے ذیلی تنظیموں کے کارندے دن دہاڑے مذہبی اجتماعات اور دینی جماعتوں کے سیاسی پروگراموں پر آتشیں اسلحے سے حملے کرتے ہیں۔ ان کے ان مسلح حملوں اور ناجائز اسلحے کے کھلے عام استعمال کو کبھی دہشت گردی یا شدت پسندی قرار نہیں دیا جاتا؛ لیکن جیسے ہی ان کے مخالفین کا پیمانہء صبر لبریز ہوتا ہے اور وہ دفاع پر مجبور ہوتے ہیں، فوراً ان پر “عسکریت پسندی” کا ٹھپہ لگا دیا جاتا ہے۔ گویا ان کے نزدیک اب اسلام اور شدت پسندی میں کوئی فرق ہی باقی نہیں رہا۔
تاہم، اس پورے معاملے میں سب سے افسوس ناک پہلو ہر معاملے میں بھارت کی مداخلت کے شواہد اور الزامات ہیں۔ ملک کے جید علماء، مشائخ اور مفکرین کے خلاف ۴۰ سال پرانے من گھڑت جرائم کے نام پر “انسانیت سوز مظالم” کے بظاہر انصاف کے جو ڈرامے رچائے جا رہے ہیں،خود وزیراعظم کے امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن کو دیے گئے بیان کے مطابق،وہ بھارتی ایماء اور ہدایت پر ہی کیے جا رہے ہیں۔ آج صورتِ حال یہ ہے کہ ہمیں پولیس کے پہرے میں جمعے کی نماز ادا کرنی پڑتی ہے، اور ان تمام مظالم کا سارا ملبہ، افسوس کے ساتھ، بھارت کے سر ہی گرتا ہے۔ اس صورتِ حال کا خاتمہ ہونا ضروری ہے۔
میری نظر میں بنگلہ دیش کے عوام نے ہمیشہ بھارت کے عوام کو اپنا دوست ہی سمجھا ہے، لیکن بھارتی حکومت کی جانب سے اس دوستی کا پاس اور احترام شروع دن سے نہیں رکھا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کے دلوں میں پہلے ہی دن سے اک بے اعتمادی نے جنم لیا۔ اس سلسلے میں فطری طور پر “مجیب۔اندرا معاہدے” کا ذکر آتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت بھارت نے بنگلہ دیش سے اپنا ایک ایک پائی وصول کر لیا، لیکن بنگلہ دیش کو اس کا جائز حق نہیں دیا۔ بھارتی سیکیورٹی فورسز سرحدی علاقوں میں بنگلہ دیشیوں کو پرندوں کی طرح گولیوں کا نشانہ بناتی ہیں، اور اس کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ موجودہ عوامی لیگ حکومت اس پر احتجاج تک کرنے کی سکت نہیں رکھتی، جس کی وجہ سے عوام کے اندر حکمران جماعت اور بھارت دونوں کے خلاف شدید غصہ اور عناد پنپ رہا ہے۔
دونوں ملکوں کے درمیان ساڑھے چھ کلومیٹر کی سرحد کا تعین پچھلی چار دہائیوں سے لٹکا ہوا ہے۔ اسی طرح بھارتی سرحد میں محصور انکلیوز (چھٹ محل) کے مسائل کو بھی بھارت نے التوا میں ڈال رکھا ہے۔ فرخاہ ڈیم، ٹیپائی مکھ، تیستا، اور برہم پترا جیسے بین الاقوامی مشترکہ دریاؤں پر بند باندھ کر پانی کا بہاؤ روکنا، اور بھارت کا دریاؤں کو جوڑنے کا ندی-جوڑ منصوبہ (Inter-linking rivers project) نافذ کرنا—ان تمام اقدامات سے بنگلہ دیشی عوام کی مستقبل کی روزی روٹی اور ماحولیاتی تنوع پر جو سنگین خطرات منڈلا رہے ہیں، ہم ان پر تشویش میں مبتلا ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔
ان سنگین مسائل کو التوا میں رکھ کر وہ ہم سے ٹرانزٹ، راہداری اور بندرگاہوں کی سہولیات مانگ رہے ہیں، جس کا بنگلہ دیش کے عوام میں انتہائی منفی ردِعمل ہو رہا ہے۔ ان امور پر آواز اٹھانا “بھارت مخالفت” نہیں ہے، بلکہ یہ اپنے قومی وجود کی بقاء کی فکر ہے۔ یہ تشویش ہماری قومی شناخت کی تشویش ہے۔ چونکہ ہماری قومی شناخت اور بھارت کی قومی شناخت ایک نہیں ہے، اس لیے کسی کی دل آزاری یا دونوں کو ایک کرنے کی کوئی بھی کوشش قابلِ قبول نہیں ہو سکتی۔ ہماری قومی خودمختاری اور بھارتی قومیت کی الگ الگ شناخت کو تسلیم کرتے ہوئے ہی ہمیں باہمی دوستی کے بارے میں سوچنا چاہیے۔
بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان تعلقات کی استواری اور نارملائزیشن دونوں ممالک اور ان کے عوام کے مفاد میں نہایت اہم ہے۔ تاہم، وہ بنیادی مسائل جو اس ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں، درج ذیل ہیں:
۱۔ فرخاہ ڈیم کے ذریعے پانی پر کنٹرول:
فرخاہ ڈیم کے ذریعے دریائے گنگا کے پانی کو کنٹرول کرنا اور دریاۓ ہُوگلی کے راستے پانی کا رخ موڑ کر سمندر سے ۱۳۲ کلومیٹر دور کولکاتا بندرگاہ کی نیویگیشن کو برقرار رکھنے کا بھارتی منصوبہ۔ اس کے نتیجے میں بنگلہ دیش کو پانی کا اس کا جائز حصہ نہیں مل رہا۔ بنگلہ دیشی حصے میں گنگا اور پدما کے طاس کے ندی نالے، نہریں اور جھیلیں سوکھ چکی ہیں۔ سطحِ زمین پر پانی کا بحران پیدا ہونے سے زراعت اور صنعت کے شعبوں میں مسلسل بحران قائم ہو گیا ہے۔ زیرِ زمین پانی کی سطح کافی نیچے چلی گئی ہے، ماحولیاتی توازن بگڑ چکا ہے اور بنگلہ دیش کے ایک تہائی علاقے میں صحرا زدگی (Desertification) کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ زیرِ زمین پانی میں نمکیات بڑھ گئی ہیں۔ گنگا کے علاوہ مزید ۵۳ بین الاقوامی دریاؤں پر بند باندھ کر انہوں نے پانی کا رخ بھارت کے مختلف علاقوں کی طرف موڑ دیا ہے، جس سے نچلے بہاؤ کے ملک بنگلہ دیش کو پیاسا مارنے کا انتظام کیا گیا ہے۔ ان کی یہ تمام تر سرگرمیاں بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
۲۔ دنیا کی پانچویں طویل ترین سرحد اور باڑ:
بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان ۴۰۹۶.۷ کلومیٹر طویل سرحد ہے، جو دنیا کی پانچویں طویل ترین سرحد ہے۔ بھارت نے اس سرحد کے ساتھ نومیڈز لینڈ (No Man’s Land) کے ۱۵۰ گز کے اندر خاردار تاروں کی باڑ لگائی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ فوجی گاڑیوں اور اسلحہ بردار گاڑیوں کی نقل وحرکت کے لیے سڑکیں بھی تعمیر کی ہیں۔ مزید برآں، سرحدی چوکیوں اور درمیانی علاقوں میں کچھ کچھ فاصلے پر ۱۵۰۰ واٹ کے ہائی پاور بلب جلا کر رات کے وقت فلڈ لائٹس کا ماحول پیدا کر دیا ہے، جس سے سرحدی علاقوں میں فصلوں اور درختوں کی پیداوار اور ان کی دیکھ بھال کا شدید بحران پیدا ہو گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ فصلوں کی پیداوار میں روشنی اور حرارت کی حساسیت (Photo-sensitiveness & Thermo-sensitiveness) انتہائی اہم عوامل ہیں۔ حد سے زیادہ روشنی اور حرارت فصلوں کو تباہ کر دیتی ہے، اور بھارتی فلڈ لائٹس کی وجہ سے ہمارے ملک میں یہی کچھ ہو رہا ہے۔
۳۔ سرحدی قتل و غارت گری اور لوٹ مار:
سرحد پر آئے دن ہونے والے قتل اور بھارتی سرحدی محافظوں (BSF) کی سرپرستی و تعاون سے بنگلہ دیشی حدود میں داخل ہو کر چوری، ڈکیتی اور لوٹ مار کا سلسلہ جاری ہے۔
۴۔ ادویات کی سمگلنگ اور منشیات کی فراہمی:
سرحد پر بی ایس ایف کے تعاون سے بنگلہ دیش سے قیمتی ادویات، کھاد، ڈیژل، سونا، چاندی، خواتین و بچوں اور غیر ملکی کرنسی کی بھارت سمگلنگ کی جاتی ہے؛ جبکہ بھارت سے ہماری نوجوان نسل کو تباہ کرنے کے لیے منشیات، غیر قانونی آتشیں اسلحہ اور دیگر موذی اشیاء بنگلہ دیش سمگل کی جا رہی ہیں۔
۵۔ داخلی سیاست میں بھارتی مداخلت:
بنگلہ دیش کی داخلی سیاست میں بھارتی مداخلت اور اس کی خفیہ ایجنسی (RAW) کے ذریعے ہماری سیاست، ذرائع ابلاغ (میڈیا)، سول اور ملٹری انتظامیہ کو اپنے کنٹرول میں رکھنے کی مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔
بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے ان تمام رکاوٹوں کا دور ہونا ازحد ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بنگلہ دیش کے لیے یہ بھی لازم ہے کہ وہ پاکستان، ایران اور ترکی سمیت تمام مسلم ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات اور روابط کو پہلے سے زیادہ مضبوط اور فعال بنائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ختم شد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔