جیکب آباد، لوڈشیڈنگ میں مزید2گھنٹے اضافہ، 14گھنٹے اعلانیہ اندھیرا
جیکب آباد (نمائندہ جسارت)ایشیا کے گرم ترین شہر جیکب آباد پر سیپکو کا بجلی بم، لوڈشیڈنگ میں مزید 2 گھنٹے اضافہ،14 گھنٹے اعلانیہ اندھیرا، غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ الگ، فالٹ اور شٹ ڈاؤن کے نام پر عوام کو دہری سزا، صارفین نے نیا شیڈول مسترد کر دیا۔تفصیلات کے مطابق ایشیا کے گرم ترین شہر جیکب آباد کے عوام کو شدید گرمی میں ریلیف دینے کے بجائے سیپکو نے لوڈشیڈنگ میں مزید دو گھنٹے اضافہ کر کے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ نئے شیڈول کے مطابق متعدد فیڈرز پر روزانہ 14 گھنٹے جبکہ دیگر پر 10 گھنٹے بجلی بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے، جس پر صارفین میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔نئے شیڈول کے مطابق سٹی ٹو، سٹی تھری، سٹی فائیو، سٹی سکس، سٹی ایٹ، اسپتال، شہباز اور شاہ لطیف فیڈرز پر 14 گھنٹے جبکہ سٹی ون، سٹی سیون اور ایکسپریس فیڈر پر لوڈشیڈنگ 8 گھنٹے سے بڑھا کر 10 گھنٹے کر دی گئی ہے۔صارفین کا کہنا ہے کہ اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ غیر اعلانیہ بندش، پی ڈی سی سکھر کی جبری بندش، فالٹ کے بہانے گھنٹوں بجلی غائب رہنا اور شٹ ڈاؤن کے نام پر مسلسل 6،6 گھنٹے بجلی بند رکھنا روز کا معمول بن چکا ہے۔ اس کے بعد بھی صارفین سے پوری لوڈشیڈنگ وصول کی جاتی ہے، لیکن اس اضافی بندش کا کوئی ریلیف نہیں دیا جاتا۔شہریوں نے الزام عائد کیا کہ سیپکو مقررہ وقت پر بجلی فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ بجلی بند کرنے کا وقت تو منٹوں کے حساب سے پورا کیا جاتا ہے، مگر بحالی مقررہ وقت پر نہیں ہوتی۔ بجلی آنے کے بعد بھی بار بار ٹرپنگ اور غیر اعلانیہ بندش کا سلسلہ جاری رہتا ہے، جس کا کوئی حساب نہیں رکھا جاتا۔شہریوں کا کہنا ہے کہ شدید گرمی، حبس اور 50 ڈگری کے قریب درجہ حرارت میں طویل لوڈشیڈنگ نے زندگی مفلوج کر دی ہے۔ گھروں میں پانی ناپید، کاروبار تباہ، مریض، بزرگ، خواتین اور بچے شدید اذیت کا شکار ہیں، لیکن سیپکو حکام عوام کو ریلیف دینے کے بجائے لوڈشیڈنگ بڑھانے میں مصروف ہیں۔متاثرہ صارفین نے وفاقی وزیر توانائی، چیئرمین واپڈا، چیف ایگزیکٹو سیپکو، نیپرا، کمشنر لاڑکانہ اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ،جیکب آباد کو ہیٹ ویو ریلیف زون قرار دے کر لوڈشیڈنگ میں فوری کمی کی جائے۔اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا مکمل آڈٹ کیا جائے۔شٹ ڈاؤن اور فالٹ کے نام پر اضافی بندش کا ازالہ کیا جائے۔مقررہ شیڈول کے مطابق بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کی جائے۔