سو ارب کا منافع اور پانچ ہزار کا عذاب

’’ہم نے سو ارب روپے کما لیے!‘‘ ریلوے کے وفاقی وزیر کا یہ بیان سن کر دل خوش ہونا چاہیے تھا، مگر لاہور سے کراچی تک قراقرم ایکسپریس میں سفر کرنے کے بعد احساس ہوا کہ شاید یہ سو ارب روپے ریلوے نے نہیں، بلکہ مسافروں نے اپنی عزت، سکون، وقت اور برداشت بیچ کر جمع کروائے ہیں۔ میں نے لاہور سے کراچی آنے کے لیے قراقرم ایکسپریس کا انتخاب کیا۔ سوچا کہ ملک کی قدیم اور معروف ٹرین ہے، نجی شعبے کے سپرد بھی کی جا چکی ہے، اس لیے شاید اب سفر میں کچھ بہتری آ چکی ہوگی۔ مگر لاہور ریلوے اسٹیشن پہنچتے ہی پہلا جھٹکا لگا۔ پلیٹ فارم پر قراقرم ایکسپریس تو موجود تھی، مگر میرا ڈبہ ’’رحمان بابا ایکسپریس‘‘ کا تھا، ساتھ والا کوچ ’’خیبر میل‘‘ کا اور آگے دو ڈبے ’’گرین لائن‘‘ کے لگے ہوئے تھے۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے پاکستان ریلوے ٹرین نہیں چلا رہی بلکہ مختلف ٹرینوں کے یتیم ڈبوں کی اجتماعی شادی کرا دی گئی ہو۔ کوچ کے اندر داخل ہوا تو نشستیں پھٹی ہوئی، گرد سے اٹی ہوئی اور صفائی کا نام و نشان نہیں تھا۔ میں نے اپنی سیٹ خود صاف کرنے کی کوشش کی، مگر مٹی اس طرح جم چکی تھی جیسے برسوں سے کسی نے اس کوچ کو ہاتھ ہی نہ لگایا ہو۔ پھر خیال آیا کہ واش روم دیکھ لیا جائے۔ دروازہ کھولا تو یوں لگا جیسے صفائی کا محکمہ برسوں پہلے استعفا دے کر جا چکا ہو۔ نہ پانی، نہ درست نل، نہ صفائی، اور نہ ہی بنیادی سہولتیں۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ پورے ڈبے کے لیے صرف تین چار لوٹے موجود

تھے، وہ بھی ٹوٹے ہوئے۔ یہ منظر اکیسویں صدی کے پاکستان کا تھا، جہاں ایک طرف سو ارب روپے منافع کے دعوے کیے جا رہے ہیں اور دوسری طرف بنیادی انسانی ضرورت بھی پوری نہیں ہو پا رہی۔

یہ سب کچھ اس ٹرین میں تھا جس کا اکانومی کلاس کا کرایہ تقریباً پانچ ہزار روپے وصول کیا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر پانچ ہزار روپے دینے کے بعد بھی ایک عام شہری کو یہی سہولتیں ملنی ہیں تو پھر وہ بس، کوچ یا اپنی گاڑی پر سفر کیوں نہ کرے؟ بدانتظامی صرف کوچ تک محدود نہیں تھی۔ سفر کے دوران ٹرین کئی ایسے اسٹیشنوں پر بھی رکی جو اس کے سرکاری شیڈول میں شامل ہی نہیں تھے، خصوصاً رات کے وقت۔ یہ صرف وقت کی پابندی کا مسئلہ نہیں بلکہ مسافروں کی سلامتی کا معاملہ بھی ہے۔ اگر کسی غیر مقررہ اسٹیشن پر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آ جائے، سامان چوری ہو جائے یا کوئی سیکورٹی خطرہ پیدا ہو جائے تو اس کی ذمے داری کس پر ہوگی؟ اور وقت کی پابندی؟ شاید پاکستان ریلوے کی لغت سے یہ لفظ ہی خارج ہو چکا ہے۔ چار، چار اور پانچ، پانچ گھنٹے تاخیر اب کوئی خبر نہیں، بلکہ معمول بن چکی ہے۔ نہ کسی افسر کو جواب دہ ہونا پڑتا ہے، نہ مسافروں سے معذرت کی جاتی ہے اور نہ ہی ان کے قیمتی وقت کی کوئی اہمیت سمجھی جاتی ہے۔ دنیا میں اگر ٹرین چند منٹ تاخیر کا شکار ہو جائے تو ادارے وضاحت دیتے ہیں، بعض ممالک میں مسافروں کو معاوضہ بھی دیا جاتا ہے، مگر یہاں گھنٹوں کی تاخیر کو بھی کامیاب آپریشن سمجھ لیا گیا ہے۔

چند روز قبل قراقرم ایکسپریس کو نجی شعبے کے حوالے کیا گیا۔ نجکاری کا مقصد ہمیشہ خدمات میں بہتری، وقت کی پابندی اور مسافروں کو بہتر سہولتیں فراہم کرنا بتایا جاتا ہے۔ مگر اگر نجکاری کا مطلب صرف کرایہ بڑھانا، پرانے ٹوٹے پھوٹے ڈبوں پر نیا نام لکھ دینا اور سہولتوں میں کوئی تبدیلی نہ لانا ہے تو پھر یہ اصلاح نہیں بلکہ عوام کے ساتھ مذاق ہے۔ ریلوے اسٹیشنوں پر کھانے پینے کی صورتحال بھی کسی المیے سے کم نہیں۔ کھانے کے نرخ ایسے جیسے کسی فائیو اسٹار ہوٹل کے ہوں، مگر معیار ایسا کہ دیکھ کر ہی بھوک ختم ہو جائے۔ کئی اسٹیشنوں پر چائے منگوائی تو محسوس ہی نہیں ہوا کہ واقعی چائے پی رہے ہیں۔ نہ ذائقہ، نہ خوشبو، نہ معیار۔ شکایت کی جائے تو بعض دکانداروں کا رویہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان دوبارہ کچھ کہنے کی ہمت بھی نہ کرے۔ اور پھر کوچوں کی خستہ حالی… ٹرین اس قدر ہچکولے لے رہی تھی کہ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے پٹری پر نہیں بلکہ کسی ٹوٹی پھوٹی کچی سڑک پر سفر ہو رہا ہو۔ حالت یہ تھی کہ ہمارا اپنا اینکر بھی ہل گیا۔ یہ محض طنز نہیں بلکہ پاکستان ریلوے کی موجودہ حالت کا ایک سچا عکس ہے۔ ریلوے کی تاریخ دیکھیں تو یہ ادارہ کبھی پاکستان کی شناخت سمجھا جاتا تھا۔ اسٹیشن آباد ہوتے تھے، ٹرینیں وقت پر چلتی تھیں اور سفر ایک خوشگوار تجربہ ہوتا تھا۔ آج حالت یہ ہے کہ پلیٹ فارم پر اعلان کچھ اور ہوتا ہے، کوچ کچھ اور آتا ہے، ٹرین کہیں اور رکتی ہے اور منزل کا وقت صرف اللہ ہی جانتا ہے۔

وزیر صاحب سو ارب روپے کمانے کا اعلان کرتے ہیں، مگر یہ نہیں بتاتے کہ ان سو ارب میں سے کتنے روپے کوچوں کی مرمت، صفائی، واش رومز، پٹریوں، مسافروں کی سہولت اور سروس کے معیار پر خرچ ہوئے؟ اگر آمدنی بڑھ رہی ہے تو اس کا عکس ٹرینوں میں کیوں نظر نہیں آتا؟ حکومت اگر واقعی ریلوے کو منافع بخش ادارہ بنانا چاہتی ہے تو کامیابی کا پیمانہ صرف خزانے میں جمع ہونے والے اربوں کو نہیں بلکہ مسافروں کے اطمینان کو بھی بنانا ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر کوچ کی روانگی سے پہلے صفائی اور تکنیکی معائنہ لازمی ہو، واش رومز کو ہر سفر سے قبل قابل ِ استعمال بنایا جائے، غیر شیڈول اسٹاپ کا خاتمہ کیا جائے، وقت کی پابندی کو افسران کی کارکردگی سے جوڑا جائے، کھانے پینے کے ٹھیکیداروں کا سخت احتساب کیا جائے، شکایات کے فوری ازالے کا مؤثر نظام قائم کیا جائے، اور نجی آپریٹرز کو معاہدوں کے مطابق سہولتیں فراہم کرنے کا پابند بنایا جائے۔ ایک تجویز یہ بھی ہے کہ ریلوے کے وفاقی وزیر، چیئرمین ریلوے اور اعلیٰ افسران ہر تین ماہ بعد بغیر پروٹوکول اکانومی کلاس میں لاہور سے کراچی یا کراچی سے پشاور تک سفر کریں۔ جس دن وہ انہی نشستوں پر بیٹھیں گے، انہی واش رومز کا استعمال کریں گے، وہی چائے پئیں گے اور وہی ہچکولے برداشت کریں گے، شاید اسی دن پاکستان ریلوے کی اصلاح کا سفر بھی شروع ہو جائے۔

آخر میں وزیر صاحب سے صرف ایک گزارش ہے۔ اگلی بار سو ارب روپے کمانے کی پریس کانفرنس کرنے سے پہلے ایک مرتبہ خاموشی سے لاہور سے کراچی تک اکانومی کلاس میں سفر کر لیجیے۔ اگر منزل پر پہنچ کر بھی آپ یہی کہیں کہ ’’پاکستان ریلوے بہترین چل رہی ہے‘‘، تو پھر یقینا مسئلہ ٹرین میں نہیں بلکہ حکومتی ترجیحات میں ہے۔ ریلوے کا اصل منافع خزانے میں جمع ہونے والے اربوں سے نہیں، بلکہ اس مسافر کی دعا سے ہوتا ہے جو منزل پر پہنچ کر کہے: ’’سفر اچھا تھا، وقت پر پہنچے، عزت سے پہنچے، اور دوبارہ بھی اسی ٹرین میں سفر کریں گے‘‘۔ جب تک یہ جملہ عام نہیں ہوتا، تب تک سو ارب کے دعوے بھی پٹری پر دوڑتے ہوئے ایک خوبصورت اشتہار سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *