ایران پر امریکی میزائل حملے‘ 2 افراد شہید‘ 11 زخمی ۔ تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے متجاوز

تہران،واشنگٹن،اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ایران میں امریکی حملوں میں مزید شدت آگئی ہے،امریکی حملوں کے دوران ایران کے جنوب مغربی صوبوں خوزستان، ہرمزگان اور بوشہر میں مختلف مقامات پر دھماکے ہوئے۔ایرانی میڈیا کے مطابق ایران عراق کے سرحدی علاقے شلمچہ بارڈر کراسنگ کے قریب امریکی میزائل حملے میں 2 افراد شہید اور11 زخمی ہو گئے۔امریکی حملوں میں اہواز، ماہشہر، رامشیر، اندیمشک، سیریک اور جاسک کے علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ایرانی میڈیا کے مطابق بوشہر میں نیوکلیئر پاور پلانٹ کے قریب بجلی کے ایک سب اسٹیشن کو بھی نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں شہر میں چند گھنٹوں تک بجلی کی فراہمی معطل رہی۔ایران پر حملوں سے متعلق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اعلان کیا ہے کہ اس نے حملوں کا ایک اور مرحلہ مکمل کر لیا ہے، جس کا مقصد شہری بحری جہازوں اور تجارتی جہازوں پر حملہ کرنے کی ایرانی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا تھا۔سینٹ کام کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ 12 ویں روز کی کارروائی کے دوران ایرانی فوجی اہداف، جن میں بحری عسکری صلاحیتوں، میزائل اور ڈرون ذخیرہ گاہوں، ساحلی نگرانی کے مراکز اور فضائی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی افواج نے رواں ماہ ایران کے درجنوں زمینی فوجی مقامات کو بھی نشانہ بنایا ہے، جبکہ سمندری ناکہ بندی پر بھی عمل درآمد جاری ہے۔امریکی فوج نے ایران پر حملوں کے لیے طویل فاصلے تک مار کرنے والے B-1 اسٹریٹجک بمبار طیارے کا استعمال شروع کردیا۔امریکی نیوز یب سائٹ نے حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ منگل کو B-1 بمبار طیارے کے ذریعے پاسداران انقلاب کے اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ ایران کے ساتھ دوبارہ جھڑپیں شروع ہونے کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب امریکا نے ایران پر حملے کے لیے B-1 طیارہ استعمال کیا۔B-1 بمبار طیارہ ایک وقت میں 2 ہزار پاؤنڈ وزنی تقریباً 2 درجن بم یا درجنوں کروز میزائل لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، یہ طیارہ کم بلندی پر آواز کی رفتار سے زیادہ تیز پرواز کر سکتا ہے اور کسی بھی بمبار طیارے کے مقابلے میں سب سے زیادہ مقدار میں اسلحہ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔دوسری جانب ایران کے پاسداران انقلاب اسلامی نے اردن میں امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔پاسداران کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ایرانی افواج نے امریکی جارحیت کے جواب میں تیز رفتار حملوں کے ذریعے ایک امریکی فوجی اڈے پر نصب THAAD میزائل دفاعی نظام کے ریڈار کو تباہ کر دیا۔بیان میں مزید کہا گیا کہ ایک پیٹریاٹ دفاعی نظام اور ایک C-RAM ریڈار کو بھی نشانہ بنا کر تباہ کیا گیا، جبکہ حملے کے نتیجے میںاڈے پر موجود ایندھن کے ذخائر میں بھی آگ بھڑک اٹھی۔پاسداران کے مطابق حملوں میں ہیلی کاپٹروں کی مرمت و دیکھ بھال کے شیڈز بھی جل کر تباہ ہو گئے۔ایران کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکی حملوں کے جواب میں ’آپریشن صاعقہ‘ کے تحت کویت میں قائم 3 امریکی فوجی اڈوں کو ایک بار پھر ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ایرانی فوج کے بیان میں کہا گیا کہ ایرانی افواج نے بڑی تعداد میں ڈرونز کے ذریعے الدوحہ کیمپ میں امریکی فوج کے اسلحہ اور لاجسٹک سپلائی گوداموں، علی السالم ائیر بیس میں ایندھن ذخیرہ کرنے کی تنصیبات اور عارفجان کیمپ میں اسلحہ گودام کو نشانہ بنایا۔الجزیرہ کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ علی السالم ایئر بیس پر واقع ایک بڑے فوجی گودام، پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام اور امریکی ایم کیو نائن ڈرونز کے ایک ہینگر کو نشانہ بنایا گیا۔ایرانی بیان کے مطابق الادیری بیرکس میں امریکی فوجیوں کی رہائشی تنصیبات اور دو ہیلی کاپٹر ہینگرز پر بھی حملے کیے گئے۔ پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ ان کارروائیوں میں امریکی فوج کو جانی اور مالی نقصان پہنچا جبکہ ہیلی کاپٹروں اور ڈرونز کو بھی شدید نقصان ہوا۔بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران نے امریکی حملوں کے جواب میں ایک مواصلاتی ٹاور کو بھی نشانہ بنایا۔ پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اردن میں واقع امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے متعدد اہم عسکری آلات اور دفاعی نظام تباہ کر دیے ہیں۔ غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے سرکاری ٹی وی پر نشر کیے گئے اپنے بیان میں کہا کہ کارروائی کے دوران اردن میں موجود امریکی فوجی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔ حملے میں امریکی تھاڈ میزائل دفاعی نظام کے ریڈار، پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام، سی ریم ریڈار اور ایک ہیلی کاپٹر ہینگر کو تباہ کر دیا گیا۔ادھرمتحدہ عرب امارات نے خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے علاقائی خود مختاری کی خلاف ورزی قرار دیدیا، اماراتی حکومت نے بحرین،کویت، اردن سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرادی۔جبکہسلطنت عمان نے بحیرہ احمر کی حالیہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشیدگی میں اضافے اور جہاز رانی کی آزادی کو خطرے میں ڈالنے والے اقدامات سے گریز کیا جائے۔عمانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب، یمن کے فریقین اور اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کے ساتھ رابطے میں ہیں، رابطے کا مقصد سیاسی عمل اور امن روڈ میپ کو دوبارہ فعال بنانا ہے، رابطے کا مقصد خطے میں امن و استحکام بحال کرنا ہے۔علاوہ ازیںایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق امریکا نے قطر میں قائم العدید ائیر بیس کو مکمل طور پر خالی کر دیا ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق گزشتہ روز جاری ہونے والی سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ چند دنوں میں ائیر بیس پر موجود امریکی طیاروں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی اور پھر اڈہ مکمل طور پر خالی کر دیا گیا۔رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ابتدائی طور پر اڈے پر موجود امریکی طیاروں کی تعداد 17 سے کم ہو کر 3 رہ گئی تھی جس کے بعد باقی ماندہ طیارے بھی واپس بلا لیے گئے اور بیس کو مکمل طور پر خالی کر دیا گیا۔ دریں اثناء امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ادھرایرانی سپریم لیڈر کے مشیر محمد مخبرکا کہنا ہے کہ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کی وجہ تیل کی پیداوار میں کمی نہیں، بلکہ ترسیل اور نقل و حمل میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں ہیں۔محمد مخبرکا کہنا ہے کہ امریکا خطے کے تیل اور گیس کے ذخائر میں جو آگ بھڑکا رہا ہے، وہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیگی۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی مسلح افواج نہایت حکمت عملی کے ساتھ میدان جنگ کا تعین کریں گی اور دشمن سے ایک قدم آگے رہتے ہوئے اپنی کارروائیاں انجام دیں گی۔علاوہ ازیںامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف دوبارہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں شروع کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ان کے بقول ان میں ایسے حملے بھی شامل ہو سکتے ہیں جو ’آپریشن ایپک فیوری‘ کے دوران کیے گئے حملوں سے کہیں زیادہ بڑے ہوں۔امریکی خبر رساں ادارے ایکسیوس کو دیے گئے ایک مختصر انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایک ’بڑے حملے‘ کے امکان کا جائزہ لے رہے ہیں، تاہم ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔انھوں نے کہا کہ ممکنہ کارروائی کے نتائج ہوں گے اور اسی لیے فیصلہ احتیاط سے کیا جا رہا ہے۔2 امریکی حکام نے بھی تصدیق کی ہے کہ اب تک ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا اور نہ ہی امریکی فوج کو اس حوالے سے کوئی نئے احکامات دیے گئے ہیں۔ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل فوری طور پر کسی نئی کارروائی میں شامل ہو سکتا ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف آپریشن شروع کرنے کے لیے امریکا کو کسی دوسرے ملک کی ضرورت نہیں ہے۔ انھوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ اگر اسرائیل حملوں میں شریک ہوا تو ایران کی جانب سے جوابی ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔صدر ٹرمپ کے مطابق ایران مذاکرات کرنا چاہتا ہے، لیکن ابھی کسی معاہدے کے لیے تیار نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی قیادت نے حالیہ سفارتی تجاویز قبول نہیں کیں اور ’ابھی انھیں کافی نقصان نہیں پہنچا۔دریں اثناء سعودی عرب کے تیل بردار بحری جہازوں پر یمن کے حوثیوں کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ اس نازک وقت میں وہ، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم سعودی قیادت اور عوام کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کے دفتر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق انھوں نے جمعرات کی صبح سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلی فون پر گفتگو کی اور بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکروں پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان کے مطابق شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کی کارروائیاں ناقابلِ قبول ہیں، بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور خطے کے امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتی ہیں۔وزیر اعظم آفس کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ شہباز شریف نے سعودی عرب کی سلامتی، خود مختاری، علاقائی سالمیت اور خوشحالی کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا بھی اعادہ کیا۔بیان کے مطابق شہباز شریف نے سعودی ولی عہد کو یقین دلایا کہ پاکستان بحیرہ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں قانونی سمندری تجارت کے بلا تعطل بہاؤ، امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے سعودی عرب اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گا۔قبل ازیںیمن کی حوثی اکثریتی جماعت انصاراللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب کے 2 آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا ہے۔انصاراللہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ نشانہ بنائے جانے والے سعودی آئل ٹینکرز نے گروپ کی جانب سے عائد کردہ بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی تھی۔سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق بحیرہ احمر میں سفر کے دوران سعودی ملکیت والے جہاز کو نشانہ بنایا گیا، جہاز کے اگلے حصے میں آگ بھڑک اٹھی تاہم عملہ محفوظ ہے۔اس سے پہلے برطانوی میری ٹائم ایجنسی نے رپورٹ کیا تھا کہ سعودی عرب کے ساحل الشقیق سے 70 ناٹیکل میل دور جہاز میں آگ لگنے کی اطلاع ملی ہے۔ٹینکر کے کپتان کے مطابق میزائل لگنے سے آگ لگی ہے، کسی جانی نقصان یا ماحولیاتی اثرات رپورٹ نہیں ہوئے۔سعودی عرب نے بحیرہ احمر میں ایک سعودی کمپنی کے جہاز کو نشانہ بنائے جانے کی تصدیق کر دی ہے۔یہ تصدیق ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یمن کی حوثی تحریک انصاراللہ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے بحیرہ احمر میں آئل ٹینکروں پر حملے کیے ہیں۔سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق ایک سرکاری ذریعے نے بتایا کہ اینسیلیا نامی جہاز، جو ایک سعودی کمپنی کی ملکیت ہے، بحیرہ احمر سے گزرنے کے دوران نشانہ بنایا گیا۔سرکاری ذریعے کے مطابق حملے کے نتیجے میں جہاز کے اگلے حصے میں آگ بھڑک اٹھی، تاہم جہاز پر موجود تمام عملہ محفوظ رہا اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب کی ائیرو اسپیس فورس کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل سید مجید موسوی نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی توانائی کی بنیادی تنصیبات پر کسی بھی حملے کی صورت میں خطے میں فوری جوابی حملے کیے جائیں گے۔بریگیڈیئر جنرل سید مجید موسوی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اگر ایران کے پْلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنایا گیا تو اس کے نتیجے میں امریکی فوج کے اتحادیوں اور میزبان ممالک میں بجلی کی بندش یقینی ہوگی۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنی تنصیبات کے خلاف کسی بھی کارروائی کا فوری اور سخت جواب دے گا۔ایرانی پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکا میدان جنگ میں ناکامی کے بعد دھوکے سے مہلت حاصل کرنا چاہتا ہے تاکہ اپنی قوت دوبارہ بحال کرسکے۔بیان میں کہا گیا کہ امریکا کو اپنی وعدہ خلافی کی قیمت چکانا ہوگی، ایران فریب پر مبنی ایسی کسی جنگ بندی کو قبول نہیں کریگا جس سے امریکا کو اپنے تیل اور اسلحے کے ذخائر دوبارہ بھرنے کا موقع ملے۔بیان میں ایرانی عوام سے خطاب کرتے ہوئے ان کی مسلسل حمایت پر اظہارِ تشکر کیا گیا۔ ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل اکرمینیا کے مطابق ایرانی فوج نے اپنی جنگی تیاریوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے اور دشمن کے خطرات کا مقابلہ کرنیکے لیے نئی عملی حکمت عملی تیار کرلی ہے۔ترجمان نے کہا کہ جب تک امریکا ایران کے ساحلی علاقوں اور بنیادی ڈھانچے پر حملے جاری رکھے گا، اس وقت تک جوابی کارروائیاں بھی جاری رہیں گی۔دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالثی میں عراق کے ممکنہ کردار کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان کافی ثالث موجود ہیں۔ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے رپورٹر کے ایک سوال کے جواب میں عراقی وزیر اعظم علی زیدی کے حالیہ دورہ امریکا کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا عراقی وزیر اعظم نے واشنگٹن کا سفر کیا تھا۔ اس سفر سے ان کے خیالات اور تاثرات ہم تک پہنچانا فطری بات ہے۔عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ہمیں فی الحال ثالثوں سے کوئی مسئلہ نہیں ہے؛ ہمارے درمیان کافی ممالک ہیں جو یہ کام کرتے ہیں اور مسئلہ پیغامات کے تبادلے کا نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ وہ کس قسم کا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔عراقچی کے مطابق مسئلہ امریکا کا غیر منطقی، توسیع پسندانہ اور تسلط پسندانہ رویہ ہے، جس کا اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے فیصلہ کن ردعمل سامنے آیا ہے۔عراقچی نے مزید کہا کہ کسی پیغام یا ردعمل کی ضرورت نہیں ہے، یہ صرف امریکاکے لیے اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔جبکہ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال جنگ سے پہلے جیسی نہیں رہے گی۔ایکس پر جاری اپنے بیان میں انھوں نے تیل کی فروخت کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ اس جنگ کا اصول واضح ہے، یا سب یا کوئی نہیں، اگر ہم تیل نہیں بیچیں گے تو کوئی اور بھی تیل نہیں بیچ سکے گا۔باقر قالیباف نے مزید کہا کہ جس خطے میں ہم تیل فروخت نہیں کریں گے، وہاں کوئی اور بھی تیل فروخت نہیں کر سکے گا۔ اگر ہماری سلامتی یقینی نہیں بنائی جاتی تو کسی کی بھی سلامتی محفوظ نہیں رہے گی اور آبنائے ہرمز کا تحفظ امریکی افواج کی عدم موجودگی سے وابستہ ہے۔انھوں نے اپنے پیغام میں یہ بھی دہرایا کہ ہم کئی بار کہہ چکے ہیں کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال جنگ سے پہلے والی حالت میں واپس نہیں آئے گی۔ادھرامریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران مذاکرات اور معاہدے کے لیے سنجیدہ نہیں ہوتا تو اسے اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے متعدد بار رابطہ کیا ہے اور وہ معاہدے کیلیے بھیک مانگ رہا ہے۔ امریکا سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کرنا چاہتا، تاہم ایران کو اپنی موجودہ پالیسی تبدیل کرنا ہوگی۔فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا اب بھی ایران کے ساتھ بات چیت اور سفارتی حل کے لیے تیار ہے، لیکن تہران کے اقدامات سے ایسا نہیں لگتا کہ وہ کسی معاہدے کے لیے سنجیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران ہر رات اپنی کارروائیوں کی وجہ سے بڑھتی ہوئی قیمت ادا کر رہا ہے اور یہ صورتحال اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک ایران اپنے رویے میں تبدیلی نہیں لاتا۔ ان کے مطابق اگر ایران واقعی مذاکرات چاہتا ہے تو امریکا بھی بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن اگر ایسا نہیں ہوا تو واشنگٹن اپنے مفادات اور اپنے اتحادیوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔مارکو روبیو نے ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ عالمی بحری جہاز رانی میں رکاوٹیں پیدا کر رہا ہے اور آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملے یا ان کی نقل و حرکت محدود کرنے کی کوششیں ناقابل قبول ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران عالمی بحری تجارت کو نشانہ بناتا رہا تو اسے اس کی بھاری قیمت چکانا ہوگی۔علاوہ ازیںایرانی وزارت خارجہ نے ایران پر حملوں میں برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیدیا، ایک بیان میں کہا کہ برطانوی حکومت کا فیصلہ اقوام متحدہ چارٹر کی خلاف ورزی ہے، برطانیہ جارحیت کرنے والوں کی مذمت کرنے کے بجائے ان کا ساتھ دے رہا ہے، حملوں میں معاونت، جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے برابر ہے، ایسا اقدام ایران کے خلاف جارحیت میں شرکت کے مترادف ہو سکتا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خود مختاری کا دفاع کرے گا، جو ملک ایران پر حملوں میں مدد کرے گا اسے نتائج بھگتنا ہوں گے۔جبکہ امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کے لیے برطانوی ائیربیس کے استعمال پر ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی دی ہے۔برطانوی میڈیا کے مطابق نئے وزیراعظم اینڈی برنہم کے عہدہ سنبھالنے کے بعد امریکی فوج نے گلوسیسٹرشائر میں واقع رائل ائیر فورس کے آر اے ایف فیئرفورڈ فضائی اڈے سے ایران کے خلاف B-1 اسٹریٹجک بمبار طیاروں سے بمباری کی۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ہماری دفاعی پالیسی واضح ہے، آنکھ کے بدلے آنکھ۔ جو لوگ کسی بھی قسم کی مدد کے ذریعے ایران کیخلاف جارحیت میں شریک ہوں گے، انہیں بھی جائز ہدف سمجھا جائیگا۔اب ایرانی پاسداران انقلاب نے امریکی طیاروں کے برطانوی فضائی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو خبردار کیا ہے۔پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ حالیہ کارروائیوں میں امریکی افواج نے ابتدا میں بحر ہند میں موجود بحری جہازوں سے کروز میزائل داغے اور جب ان کے ذخائر کم ہوگئے تو برطانیہ کے آر اے ایف فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز فوجی ہدف سمجھا جائے گا۔قبل ازیں امریکی ایوان نمائندگان میں ایران کے خلاف فوجی آپریشن روکنے کی قرارداد پر ووٹنگ ہوئی، قرارداد کے حق میں 214 اور مخالفت میں 208 ووٹ آئے، 4 ریپبلکن ارکان نے ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔رپورٹ کے مطابق ایران پر امریکی حملے روکنے کی قرار داد ڈیموکریٹ رکن کانگریس پرامیلا جیاپال نے پیش کی تھی، قرار داد سینیٹ سے منظوری کے بعد بھی ٹرمپ انتظامیہ کو کسی عمل کے لیے پابند نہیں کر سکتی۔خبر ایجنسی کے مطابق امریکی قانون سازوں نے حالیہ ماہ میں اس نوعیت کی کئی قراردادیں منظور کی ہیں۔دریں ا ثناء امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر اپنے شہریوں کے لیے عالمی سفری انتباہ جاری کرتے ہوئے انہیں خطے کا سفر کرنے سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں موجودہ سکیورٹی صورتحال انتہائی پیچیدہ ہے اور کسی بھی وقت غیر متوقع کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اسی وجہ سے امریکی شہریوں کو خطے کے سفر سے حتی الامکان اجتناب کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔محکمہ خارجہ نے مشرقِ وسطیٰ میں پہلے سے موجود امریکی شہریوں کو بھی محتاط رہنے، ہر وقت حالات پر نظر رکھنے اور مقامی حکام کے ساتھ ساتھ امریکی سفارت خانوں اور قونصل خانوں کی ہدایات پر عمل کرنے کی تاکید کی ہے۔ادھر بحری جہازوں کی انشورنس کرنے والی کمپنیوں کے گروپ نے ایران یا امریکا کو ٹول دینے والے جہازوں کی انشورنس پالیسی ختم کرنے کا اشارہ دیدیا۔ایک بیان میں کہا کہ شپنگ پالیسی کی نئی شِق کے مطابق ایران یا کسی بھی ملک کو براہِ راست یا بالواسطہ ٹول کی ادائیگی غیر قانونی ہوگی، ایسا کرنے والے جہاز کی انشورنس پالیسی ختم کی جا سکتی ہے، ایران آبنائے ہْرمْز سے ٹول دیے بغیر گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کچھ روز پہلے کہہ چکے ہیں کہ وہ بھی آبنائے ہْرمْز سے گزرنے والے جہازوں سے ٹیکس لیں گے تاہم بعد میں انہوں نے اپنا یہ فیصلہ واپس لے لیا تھا۔قبل ازیںعراق کے وزیر اعظم علی زیدی ایرانی صدر مسعود پیزکیان کی دعوت پر ایک وفد کے ساتھ ایران پہنچے ہیں۔عراقی حکومت کے ترجمان کے مطابق، علی زیدی اس سفر کے دوران خطے میں کشیدگی کو روکنے اور تجارت، نقل و حمل اور درآمد شدہ گیس کے معاملات پر بات چیت کریں گے۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ عراق کا نقطہ نظر یہ ہے کہ وہ دوسرے ممالک کے معاملات میں مداخلت نہ کرے اور بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور وہ ملک کے اقتصادی مفادات کے پیش نظر خارجہ تعلقات میں کشادگی چاہتا ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *