ٹنڈو الہ یار: چار سال قبل درج مقدمے کی تفتیش نے نیا رخ اختیارکرلیا

ٹنڈوالہیار(نمائندہ جسارت) چار سال قبل درج ہونے والے ایک مبینہ اغوا مقدمے کی تفتیش نے سنسنی خیز رخ اختیار کرلیا۔ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ مقدمے میں نامزد شخص کو مبینہ طور پر قتل کرنے کے بعد اس کی لاش کے ٹکڑے کرکے مختلف نہروں میں پھینک دیے گئے، جبکہ شناخت مٹانے کے لیے جسم کے بعض اعضا کو آگ لگا کر جلا دیا گیا۔یہ انکشاف ڈی ایس پی سٹی اعجاز علی بھن اور ایس ایچ او اے سیکشن عبدالوحید پہنور نے مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ انہوں نے بتایا کہ چار سال قبل امداد بڑڑہو نے اپنی اہلیہ خدیجہ لوند کے مبینہ اغوا کا مقدمہ اے سیکشن تھانے میں اسحاق لوند کے خلاف درج کرایا تھا، تاہم مقدمے کے اندراج کے بعد اسحاق لوند پراسرار طور پر لاپتا ہوگیا بعد ازاں اسحاق لوند کے بھائی اسماعیل لوند نے پولیس کو درخواست دی کہ اس کا بھائی کافی عرصے سے لاپتا ہے، جس پر ایس ایس پی ٹنڈوالہیار سید سلیم شاہ کی ہدایت پر خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی۔ پولیس کے مطابق جدید تکنیکی ذرائع اور مختلف شواہد کی مدد سے تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا گیا۔پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ تحقیقات کے دوران مبینہ طور پر اغوا ہونے والی خاتون خدیجہ لوند کو کراچی سے تحویل میں لیا گیا، جس نے دورانِ تفتیش اہم انکشافات کیے۔ پولیس کے مطابق خاتون کے بیان میں کہا گیا کہ اسحاق لوند کو اس کے شوہر امداد بڑڑہو اور اس کے ساتھیوں نے مبینہ طور پر قتل کیا۔پولیس کے مطابق خاتون نے بیان دیا کہ امداد بڑڑہو اسحاق لوند کی تلاش میں اس کے پاس آیا اور اسے سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں، جس کے باعث اس نے اسحاق لوند کو فون کرکے بلایا۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *