HIV کیسز، سوشل سیکورٹی نے تا حال متاثرین کو کوئی ریلیف نہیں دیا‘این ایل ایف

کراچی(پ ر) HIV کے کیسز کو ایک سال ہوگئے، سوشل سیکورٹی نے تا حال متاثرین کو کوئی ریلیف نہیں دیا‘ گورننگ باڈی کے مزدور رہنما فی الفور استعفا دیں، محمد خان ابڑو جیسے لوگ گزشتہ نو سالوں سے بورڈ میں محنت کشوں کی نمائندگی کیسے کررہے ہیں۔ نیشنل لیبر فیڈریشن کراچی کے صدر خالد خان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن کی اپنی قائم کردہ انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق کلثوم بائی ولیکا اسپتال میں HIV وائرس کو پھیلے ہوئے ایک سال کا وقت ہو چکا ہے، رپورٹ کے مطابق پہلا HIV کا کیس مئی 2025ء سے قبل سامنے آیا جب، ڈاکٹر غلام مصطفیٰ ابڑو، ولیکا اسپتال کے میڈیکل سپریٹنڈنٹ تھے۔ ہمارا صوبائی وزیر محنت سعید غنی اور ممبر گورننگ باڈی و کوآرڈی نیٹر محمد خان ابڑو سمیت ممبران گورننگ باڈی سے سوال ہے کہ گزشتہ ایک سال میں انھوں نے متاثرہ خاندانوں کے ریلف، فلاح و بہبود کے لیے کیا اقدامات اٹھائے۔ سابق میڈیکل سپریڈنٹ ڈاکٹر ممتاز شیخ کو 100 سے زائد HIV کے متاثرہ بچوں کے کیسز سامنے آنے باوجود اس وقت تک نہیں ہٹایا گیا جب تک صوبائی محتسب اعلی سندھ، سہیل راجپوت نے انھیں ہٹانے کے باقاعدہ احکامات جاری نہیں کئے اور ڈاکٹر ممتاز شیخ کو ہٹا کر ایک بار پھر ڈاکٹر غلام مصطفی ابڑو کو لگایا گیا جو اس بات کا واضح ثبوت تھا کہ انھیں محمد خان ابڑو کی آشیرباد حاصل ہے جو گزشتہ نو سالوں سے مسلسل مزدو رہنما کے نام پر سیسی کی گورننگ باڈی کے ممبر بھی ہیں اور ڈی فیکٹو صوبائی وزیر محنت بھی۔ کیا صوبائی وزیر محنت کو علم نہیں کہ محمد خان ابڑو ان کے نام پر گزشتہ نو سال سے سندھ سوشل سیکورٹی کے تمام معاملات کا چلا رہے ہیں، کیا انھیں نہیں معلوم کہ وہ حقیقی مزدور رہنما نہیں ہیں؟ انھیں مسلسل تین مرتبہ نامزد کیا گیا اور یہ سیسی کی تاریخ میں پہلا بار ہوا ہے کہ ایک شخص مسلسل نو سالوں سے گورننگ باڈی کا ممبر بن رہا ہے جس کی کوئی خاص کارکردگی بھی نہیں ہے۔ خالد خان نے مزید کہا کہ آج HIV سے متاثرہ دس بچوں کی ہلاکت اور 150 سے زائد بچوں کے متاثر ہونے کے براہ راست ذمہ داری محکمہ محنت کے اعلیٰ افسران اور کوآرڈی نیٹر و ممبر گورننگ باڈی سیسی محمد خان ابڑو پر عائد ہوتی ہے۔نیشنل لیبر فیڈریشن مطالبہ کرتی ہے HIV کے متاثرہ خاندانوں کو فوری طور مالی ریلیف دیا جائے, ان متاثرہ بچوں کا بہترین اسپتالوں میں علاج کروایا جائے، سیسی کے اسپتالوں کو صحت کے جدید تقاضوں کے تحت ہنگامی بنیادوں پر اپڈیٹ کیا جائے۔ خالد خان نے اپنے بیان میں مطالبہ کیا کہ گورننگ باڈی سیسی کے مزدور رہنما، مجرمانہ خاموشی پر فی الفور استعفیٰ دیں، اور اسپتالوں کے چھوٹے ملازمین کے ساتھ ساتھ سندھ سوشل سیکورٹی کے میڈیکل ایڈوائزر، ڈائریکٹر پروکیورمنٹ اور ممبر گورننگ باڈی سیسی محمد خان ابڑو کو اعلی سطحی انکوائری میں شامل تفتیش کیا جائے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *