کاکروچ جنتا پارٹی۔ نوشتۂ دیوار!

بھارت کے چیف جسٹس کی جانب سے سوشل میڈیا پر متحرک نوجوانوں کو کاکروچ سے تشبیہ دینے اور امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے خلاف شروع ہونے والی طلبہ تحریک نے بھارت کی سیاست میں شدید ہلچل مچا دی ہے۔ نوجوانوں کی اس ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ تحریک کو مرکزی وزیر ِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد اگرچہ وقتی طور پر ختم کر دیا گیا ہے، تاہم تیس سالہ طالب علم رہنما ابھیجیت دیپکے نے واضح کیا ہے کہ یہ جدوجہد ختم نہیں ہوئی بلکہ اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ حکومت نے متاثرہ طلبہ کے خاندانوں کو طے شدہ قواعد کے مطابق زیادہ سے زیادہ مالی امداد فراہم کرنے اور بی جے پی کے زیر ِ اقتدار ریاستوں میں مظاہرین کے خلاف درج مقدمات واپس لینے کی یقین دہانی کرائی ہے، لیکن اس کے باوجود پولیس کے تشدد پر معافی اور تمام گرفتار افراد کی فوری رہائی جیسے بنیادی مطالبات تاحال پورے نہیں ہو سکے۔ سی جے پی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اب یہ تحریک صرف تعلیمی اصلاحات تک محدود نہیں رہے گی بلکہ دیگر اہم عوامی مسائل پر بھی آواز اٹھائے گی، تاہم اسے فوری طور پر باقاعدہ سیاسی جماعت میں تبدیل کرنے کا فی الحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ دوسری جانب، کانگریس کے رہنما راہول گاندھی سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں نے طلبہ پر ریاستی طاقت کے بے جا استعمال کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے وزیر ِ داخلہ امت شاہ اور دہلی پولیس کے خلاف سخت کارروائی کرنے نیز پارلیمان میں حکومت سے اس کا حساب مانگنے کا اعلان کیا ہے۔ واضح رہے کہ رواں سال مئی کے مہینے میں 22 لاکھ سے زائد امیدواروں نے میڈیکل کے قومی داخلہ ٹیسٹ میں شرکت کی تھی، جس کے فوراً بعد حکام نے پیپر لیک ہونے کے سنگین الزامات کی وجہ سے اس امتحان کو منسوخ کر دیا، اور طالب علموں کو کئی ہفتوں کی شدید ذہنی کوفت کے بعد دوبارہ امتحان دینے پر مجبور ہونا پڑا۔ اس تنازع میں مزید خوفناک شدت اس وقت آئی جب NEET امتحان سے منسلک درجنوں طالب علموں کی خودکشیوں کی خبریں مسلسل سامنے آنے لگیں، جس کے بعد مظاہرین نے یہ موقف اپنایا کہ یہ بحران بھارت کے انتہائی سخت اور مسابقتی داخلہ نظام میں موجود بنیادی خرابیوں کی واضح عکاسی کرتا ہے۔ جولائی کے دوران جیسے جیسے یہ احتجاج دہلی، ممبئی، کلکتہ، بنگلور اور دیگر کئی بڑے شہروں میں پھیلتا گیا، حکومت پر سیاسی اور معاشی دباؤ مسلسل بڑھتا چلا گیا۔ بھارت نے نیشنل ایلی جیبلٹی کم اینٹرنس ٹیسٹ کے اس پیپر لیک اسکینڈل پر ہفتوں سے جاری ملک گیر طالب علموں کے شدید احتجاج کے بعد بالآخر اپنے پبلک امتحانات کے نظام کو مکمل طور پر بدلنے کے لیے اصلاحات کے ایک وسیع اور جامع پیکیج کا اعلان کیا ہے۔ گزشتہ روز حکام نے پبلک امتحانات کے قانون میں اہم ترامیم پیش کیں جن میں امتحانی بدعنوانیوں اور دھاندلی میں ملوث افراد کے لیے انتہائی سخت سزائیں، بشمول طویل مدتی قید اور بھاری مالی جرمانے تجویز کیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، وزیر ِ اعظم نریندر مودی نے ایک اعلیٰ اختیاراتی ٹاسک فورس کا بھی باقاعدہ اعلان کیا ہے جو بھارت کے پورے امتحانی نظام کی شفافیت، اعتبار اور تکنیکی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے وسیع تر اصلاحات کی تجاویز پیش کرے گی۔ اصلاحات کا اعلان کرتے ہوئے نریندر مودی نے کہا: ’’ہمارا امتحانی نظام ہر لحاظ سے قابل ِ اعتماد ہونا چاہیے، ہمارا امتحانی نظام مکمل طور پر شفاف ہونا چاہیے، اور ہمارے امتحانی نظام میں اب جدید ٹیکنالوجی کا زیادہ سے زیادہ استعمال ہونا چاہیے‘‘۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت میں ابھرنے والا طلبہ کا یہ احتجاج محض ایک سوشل میڈیا تحریک نہیں رہا، بلکہ یہ ایک حقیقی اور منظم تنظیم میں تبدیل ہو رہا ہے کیونکہ اس تحریک کے پاس اس وقت لاکھوں ارکان اور فالورز موجود ہیں جو بھارت کی نئی اور جوان نسل کی وسیع سیاسی نمائندگی کرتے ہیں۔ اس تحریک کی قیادت کرنے والے نوجوان رہنما ابھیجیت کا کہنا ہے کہ ان کا بنیادی مقصد بھارت کے سیاسی رُخ کو اس ڈگر سے بدلنا ہے جو پچھلے دس بارہ سال سے صرف ہندو مسلم کے جذباتی موضوعات پر پھنسا ہوا ہے، جبکہ آج کی نئی اور باشعور نسل اب جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور دیگر موضوعات پر بات کرنا چاہتی ہے۔ اس نئی اور ابھرتی ہوئی تحریک کی زبردست مقبولیت کو دیکھتے ہوئے بی جے پی کے رہنما اس خدشے کا شکار ہیں کہ کہیں نیپال اور بنگلا دیش کی طرز پر نوجوانوں کی یہ انقلابی جدوجہد ایک بڑی عوامی تحریک اور ناقابل ِ تسخیر تنظیم کی شکل اختیار نہ کر لے۔ آج بھارت کی سیاسی فضا میں جو صورتحال ابھر کر سامنے آئی ہے اس نے بھارتی سرکار اور حکمرانوں کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ بھارتی سرزمین پر سر اٹھانے والی طلبہ کی یہ تحریک محض حیرت انگیز نہیں بلکہ یہ ہر ایسے حکمران کے لیے ایک واضح اور روشن نوشتہ دیوار ہے جو نئی نسل کی امیدوں اور آرزوؤں کو پامال کر کے اقتدار کے نشے میں مست ہیں۔ یہ تحریک بلا شبہ دنیا بھر کے جابر حکمرانوں کے لیے ایک شفاف آئینہ ہے، جس معاشرے میں عوام کے بنیادی حقوق پامال کیے جاتے ہوں وہاں جلد یا بدیر اسی نوع کی تحریکیں جنم لیتی ہیں۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *