ساڑھے آٹھ ارب کی ایڈوانس ادائیگیاں
پاکستان کا دل اور معاشی شہ رگ کہلانے والا شہر کراچی، دہائیوں سے ایک ایسی انتظامی بے حسی، ناقص منصوبہ بندی اور کرپشن کی آماجگاہ بن چکا ہے جس کا خمیازہ اس شہر کے ڈھائی کروڑ سے زائد عوام روزانہ کی بنیاد پر بھگت رہے ہیں۔ کسی بھی جدید اور ترقی یافتہ شہر کا بنیادی حسن اس کا منظم اور فعال ٹرانسپورٹ کا نظام ہوتا ہے، مگر کراچی جو دنیا کے چند بڑے شہروں میں شمار ہوتا ہے، آج بھی ایک باوقار پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام سے یکسر محروم ہے۔ اس شہر کی سفری ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بی آر ٹی کے نام پر جو خواب شہریوں کو دکھائے گئے تھے، وہ اب ایک بھیانک ڈراؤنے خواب اور قومی وسائل کی بے دریغ لوٹ مار کی ایک شرمناک داستان میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ حالیہ دنوں میں منظر عام پر آنے والی خبروں اور نیب ذرائع کی تصدیق کے مطابق، چیئرمین نیب نے ڈائریکٹر جنرل ڈی جی نیب کراچی کو بی آر ٹی یلو لائن پروجیکٹ میں ہونے والی مبینہ کرپشن پر باقاعدہ تحقیقات کی سخت ہدایات جاری کر دی ہیں۔ تحقیقات کا مرکزی نکتہ ساڑھے آٹھ ارب روپے (8.5 بلین روپے) کی وہ خطیر رقم ہے جو قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایڈوانس ادائیگیوں کی مد میں جاری کی گئی۔ نیب کی جانب سے جاری ہونے والے احکامات میں واضح کیا گیا ہے کہ اس بات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا کہ ساڑھے 8 ارب روپے کی ایڈوانس ادائیگیوں کے بعد زمینی سطح پر کیا کام کیے گئے، کیا کام نہیں کیے گئے، اور ان تمام عوامل کا تفصیلی محاسبہ کیا جائے گا جن کی بنیاد پر اتنی بڑی رقم قومی خزانے سے منتقل کی گئی۔ اس سنگین مالیاتی بے ضابطگی اور کرپشن کے الزام میں بی آر ٹی یلو لائن کراچی کے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر، ضمیر عباسی، پہلے ہی گرفتار ہو چکے ہیں۔ تاہم، اس کیس کی پیچیدگی اور کرپشن کے پھیلاؤ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ احتساب عدالت میں تفتیشی افسر کو حتمی چالان جمع کروانے کے لیے مزید مہلت طلب کرنی پڑی ہے۔ یہ ساڑھے آٹھ ارب روپے کا اسکینڈل محض ایک انتظامی خامی یا دفتری غلطی نہیں ہے، بلکہ یہ اس گلے سڑے نظام کی عکاسی کرتا ہے جہاں ترقیاتی منصوبوں کو عوامی فلاح کے بجائے ذاتی تجوریوں کو بھرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے قوانین اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے طے شدہ طریقہ کار کے تحت، کسی بھی ٹھیکیدار کو ’موبلائزیشن ایڈوانس‘ ایک خاص حد تک اور سخت ترین بینک ضمانت کے عوض دیا جاتا ہے، جس کا مقصد منصوبے کے ابتدائی اخراجات کو پورا کرنا ہوتا ہے۔ لیکن یلو لائن منصوبے میں جس طرح بغیر کسی نمایاں فزیکل پروگریس اور تعمیراتی کام کے اربوں روپے ٹھیکیداروں اور متعلقہ کمپنیوں کو منتقل کیے گئے، اس نے پورے صوبائی ترقیاتی بجٹ اور مالیاتی نگرانی کے اداروں کی کارکردگی پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ اس ساری صورتحال کا سب سے تشویشناک پہلو وہ ہے جس کی طرف شہری منصوبہ بندی کے ماہرین ٹرانسپورٹ انجینئرز اور ماہرین ِ اقتصادیات مسلسل توجہ دلا رہے ہیں۔ ماہرین کی متفقہ اور دو ٹوک رائے کے مطابق، کراچی میں بنایا جانے والا پورا بی آر ٹی منصوبہ بحیثیت مجموعی کراچی کے شہریوں کو کوئی حقیقی یا دیرپا فائدہ نہیں پہنچائے گا۔ کراچی کا جغرافیائی پھیلاؤ، آبادی کا تناسب، اور رہائشی و تجارتی علاقوں کی تقسیم دنیا کے دیگر ان شہروں سے بالکل مختلف ہے جہاں بی آر ٹی کے نظام کامیاب ہوئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق کراچی میں بی آر ٹی کا تصور ہی ایک ناقص بنیاد پر کھڑا کیا گیا ہے: کراچی کے بی آر ٹی روٹس کو الگ الگ کوریڈورز (ریڈ، گرین، اورنج، یلو) میں بانٹ کر اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ ان کے درمیان ایک مربوط نیٹ ورک کا شدید فقدان ہے۔ ایک مسافر کو اپنی حتمی منزل تک پہنچنے کے لیے جن مربوط فیڈر بسوں اور ٹرانسفر اسٹیشنز کی ضرورت ہوتی ہے، وہ اس ماسٹر پلان میں انتہائی ناقص اور غیر فعال ہیں۔ کراچی کی سڑکیں پہلے ہی ٹریفک کے دباؤ کا شکار ہیں۔ بی آر ٹی کے لیے سڑک کے عین وسط میں ایک بڑا حصہ مستقل طور پر مختص کر دینے سے بقیہ ٹریفک کے لیے جگہ مزید سکڑ گئی ہے، جس نے ٹریفک جام کے مسئلے کو حل کرنے کے بجائے اسے مزید گمبھیر کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، کراچی کو ایک لکیری ٹرانزٹ سسٹم کے بجائے ایک وسیع ماس ٹرانزٹ جس میں سرکلر ریلوے اور لائٹ ریل ٹرانزٹ شامل ہو، کی ضرورت تھی، لیکن مخصوص مفادات اور بھاری کمیشن کے لالچ میں بسوں کے اس انتہائی مہنگے اور ناکارہ نظام کو شہر پر مسلط کر دیا گیا۔ یلو لائن بی آر ٹی منصوبہ، جو داؤد چورنگی (کورنگی) سے شروع ہو کر نمائش چورنگی تک تقریباً 21 کلومیٹر طویل ہے اور جسے عالمی بینک کے تعاون سے مکمل کیا جانا تھا، دراصل ایک ایسی سونے کی چڑیا بن چکا ہے جس کے ہر ہر شعبے میں کرپشن ہی کرپشن ہے۔ ایسا کوئی مرحلہ نہیں جہاں شفافیت کو قتل نہ کیا گیا ہو اور خزانے کو نقصان نہ پہنچایا گیا ہو: اس بے تحاشا کرپشن اور نااہلی کی سب سے بھاری قیمت کراچی کا عام شہری ادا کر رہا ہے۔ یلو لائن کا روٹ کراچی کے سب سے بڑے صنعتی علاقے، کورنگی انڈسٹریل ایریا، کو شہر کے دیگر حصوں سے ملاتا ہے۔ اس روٹ پر روزانہ لاکھوں محنت کش، تاجر اور صنعت کار سفر کرتے ہیں۔ منصوبے کی سست روی اور جگہ جگہ سڑکیں کھود کر چھوڑ دینے کی وجہ سے پوری کورنگی روڈ ایک کھنڈر کا منظر پیش کر رہی ہے۔ روزانہ گھنٹوں طویل ٹریفک جام میں پھنس کر شہریوں کی قیمتی زندگیاں اور لاکھوں لیٹر ایندھن ضائع ہو رہا ہے۔ سڑکوں کی بندش نے سفری اوقات میں دوگنا اضافہ کر دیا ہے۔ ٹوٹی ہوئی سڑکوں سے اُڑنے والی گرد و غبار نے پورے علاقے کو شدید ماحولیاتی آلودگی کی لپیٹ میں لے لیا ہے، جس سے دمہ، الرجی اور سانس کی دیگر بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ نیب کی جانب سے چیئرمین کی سطح پر اس معاملے کا نوٹس لینا اور ڈی جی نیب کراچی کو سخت تحقیقات کا حکم دینا ایک خوش آئند قدم ضرور ہے، لیکن ماضی کے تلخ تجربات بتاتے ہیں کہ ایسے میگا اسکینڈلز عموماً وقت گزرنے کے ساتھ فائلوں کی دھول میں دب جاتے ہیں۔ سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی کی گرفتاری محض ایک شروعات ہونی چاہیے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تفتیش کا دائرہ کار وسیع کیا جائے اور اس میں شامل تمام کرداروں کو بے نقاب کیا جائے۔ چاہے وہ محکمہ ٹرانسپورٹ کے اعلیٰ افسران ہوں، مالیاتی منظوری دینے والے بیوروکریٹس ہوں، کنسلٹنٹ ہوں یا ٹھیکیدار۔ جو کوئی بھی اس ساڑھے 8 ارب روپے کی لوٹ مار اور مجرمانہ غفلت میں شامل ہے، اس کا کڑا اور بلاتفریق محاسبہ ہونا چاہیے۔ عدالتوں کو چاہیے کہ وہ اس کیس کو روزمرہ کی بنیاد پر سنیں اور تفتیشی اداروں کو پابند کریں کہ وہ ٹھوس شواہد کے ساتھ مقررہ وقت میں چالان پیش کریں۔ اگر احتساب کا عمل شفاف اور تیز تر نہ ہوا، تو یلو لائن سمیت کراچی کے تمام بی آر ٹی منصوبے محض کرپشن کی یادگار بن کر رہ جائیں گے، اور کراچی کے شہری اسی طرح ٹوٹی سڑکوں، اُڑتی دھول اور بوسیدہ ٹرانسپورٹ کے نظام میں اپنا مستقبل تلاش کرتے رہیں گے۔ شفافیت کی بحالی، ذمے داران کو سخت سزائیں، اور لوٹی گئی رقم کی ایک ایک پائی کی مکمل ریکوری ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے نہ صرف کراچی کے عوام کو ان کا جائز حق دلایا جا سکتا ہے بلکہ شہر کے خستہ حال انفرا اسٹرکچر کو کسی حد تک بحال بھی کیا جا سکتا ہے۔