ٹیکس کے نام

ٹیکس کے نام پر عوام کا استحصال!

حکومت کی گڈ گورننس اور اکنامک مینجمنٹ کے بلند و بانگ دعوؤں کے باوجود، ہر گزرتے دن کے ساتھ ملک کی معاشی صورتحال دگرگوں ہوتی جا رہی ہے۔ مہنگائی کی روز افزوں شرح نے غربت اور بے روزگاری کو مزید بڑھا دیا ہے، جس سے عوام کی قوتِ خرید مکمل طور پر دم توڑ چکی ہے۔ آٹا، دال، چاول، چینی اور دیگر بنیادی اشیائے ضرورت کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، جبکہ بجلی اور گیس کے نا قابل ِ برداشت بلوں نے غریب اور متوسط طبقے کا جینا دو بھر کر دیا ہے۔ دیہاڑی دار مزدوروں کی آمدنی میں مہنگائی کے تناسب سے کوئی اضافہ نہیں ہوا، جس کے باعث عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرنا بھی دشوار ہو چکا ہے، ایسے میں بچوں کی تعلیم کے اخراجات پورا کرنا تو دور کی بات ہے۔ ملک میں روزگار کے مواقع ختم ہونے کی وجہ سے ہنر مند نوجوان بڑی تعداد میں بیرونِ ملک منتقل ہو رہے ہیں، جبکہ بے روزگار افراد شدید ذہنی اضطراب اور مایوسی کا شکار ہیں۔ مزید برآں، صنعتی و تجارتی سست روی سے کاروبار بری طرح متاثر ہوئے ہیں، جس کا براہِ راست بوجھ عوام پر پڑ رہا ہے دوسری جانب خبر ہے کہ حکومت کراچی سمیت ملک بھر کے بجلی صارفین پر 23 ارب کا اضافی بوجھ ڈالنے کی تیاری کر رہی ہے جس کے تحت بجلی کے ایک روپے 99 پیسے فی یونٹ کمی کے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ ریلیف کی مدت رواں ماہ ختم ہو جائے گی جس کے بعد ملک بھرکے لیے اگلے ماہ سے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں بجلی مہنگی ہونے کا خدشہ ہے۔ اس تمام تر صورتحال پر مستزاد یہ کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عوام کو سخت ذہنی اذیت میں مبتلا کر رہا ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ کیے گئے معاہدوں اور بجٹ ہدف کو پورا کرنے کے لیے حکومت نے آسان راستہ یہ چن لیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس، ڈیوٹی اور لیوی عائد کر کے اسے اپنی آمدنی کا اہم ذریعہ بنا لیا جائے، لیکن اس کے نتیجے میں عوام جن شدید مشکلات سے دوچار ہیں، حکومت کو اس کی قطعاً کوئی پروا نہیں۔ اخباری رپورٹوں کے مطابق یہ سنسنی خیز انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ پٹرول اپنی اصل قیمت سے 139 روپے اور ڈیزل 116 روپے فی لیٹر مہنگا فروخت کیا جا رہا ہے۔ دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک لیٹرپٹرول کی بنیادی لاگت 197 روپے 69 پیسے بنتی ہے تاہم اس وقت فی لیٹر قیمت 327 روپے 62 پیسے مقرر ہے تاہم شہری ایک لیٹر پٹرول پر مجموعی طور پر 130 روپے 23 پیسے جبکہ ایک لیٹر ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 116 روپے لیوی، ٹیکس اورمارجنز ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ پٹرول پر 80 روپے پٹرولیم لیوی، 5 روپے کلائمٹ سپورٹ لیوی، 21 روپے 24 پیسے کسٹمز ڈیوٹی، 7 روپے48 پیسے ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن، 7 روپے 87 پیسے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن اور 8 روپے 64 پیسے ڈیلرز مارجن شامل ہے۔ اسی طرح فی لیٹر ہائی اسپیڈ ڈیزل کی بنیادی لاگت 264 روپے 76 پیسے ہے جبکہ اس کی قیمت 380 روپے 86 پیسے فی لیٹر مقرر ہے۔ دستاویز کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل پر مجموعی طور پر 116 روپے کی لیوی، ٹیکس اور مختلف مارجن وصول کیے جا رہے ہیں، ہائی اسپیڈ ڈیزل کے فی لیٹر پر پٹرولیم لیوی 74 روپے 28 پیسے اور کلائمٹ سپورٹ لیوی 5 روپے کے حساب سے عاید ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کے فی لیٹر میں 15 روپے 68 پیسے کسٹمز ڈیوٹی، 4 روپے 63 پیسے ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن، 7 روپے 87 پیسے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن اور 8 روپے 64 پیسے ڈیلرز مارجن شامل ہے۔ مذکورہ بالا اعداد و شمار اس امر کی حقیقت کا کھلا اعلان ہے کہ حکومت کو عوام کے مسائل و مشکلات سے کوئی سروکار نہیں، اسے صرف اپنے بجٹ خسارے کو پورا کرنے سے دلچسپی ہے، حقیقت یہ ہے کہ حکومت اگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں عاید لیوی، ڈیوٹیوں اور ٹیکسوں کو کم کرے تو عوام کو خاطر خواہ ریلیف مل سکتا ہے، حکومت کی ان ہی ظالمانہ پالیسیوں کے خلاف جماعت ِ اسلامی نے گزشتہ دن پورے ملک میں زبردست عوامی احتجاج کیا تھا اور اب اس نے 16 اگست کو چاروں وزرائے اعلیٰ ہائوس کے باہر احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا ہے، حکومت کی بے حسی اور عوام دشمنی کا یہی حال برقرار رہا تو عوام کا احتجاج دوسرا رُخ بھی اختیار کرسکتا ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *