سوشل میڈیا کے مضمرات!

بلاشبہ نت نئی ایجادات اور جدید ٹیکنالوجی نے ہماری زندگیوں میں آسانیاں پیدا کر دی ہیں اور ہمیں وہ سہولتیں میسر آ گئی ہیں جن کا ماضی میں تصور بھی محال تھا۔ موبائل فون بھی انہی ایجادات کا ایک اہم حصہ ہے جس کی بدولت فاصلے سمٹ چکے ہیں اور باہمی رابطے و ابلاغ کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور ہو گئی ہیں۔ تاہم یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہر جدید ٹیکنالوجی اپنے ساتھ کچھ منفی اثرات اور مضمرات بھی لاتی ہے۔ اگر ان سے نبرد آزما ہونے کے لیے مؤثر حکمت ِ عملی مرتب نہ کی گئی، تو یہ نقصانات اس کے فوائد پر حاوی ہو جائیں گے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موبائل فون پر مسلسل اسکرولنگ کرنے کی عادت انسانی دماغ پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہے جس سے توجہ اور ذہنی سکون متاثر ہو رہا ہے۔ سوشل میڈیا ایپس کو اس انداز سے ڈیزائن کیا جاتا ہے کہ صارف طویل وقت تک اسکرین سے جڑا رہے۔ ہر نئی پوسٹ اور ویڈیو دماغ کو مسلسل مشغول رکھتی ہے۔ اس عمل سے انسان وقت گزرنے کا احساس کھو دیتا ہے اور عادت پختہ ہوجاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موبائل اسکرولنگ کے دوران انسانی دماغ میں ڈوپامائن نامی کیمیکل متحرک ہوتا ہے۔ یہ کیمیکل خوشی اور نئے انعام کی توقع سے جڑا ہے۔ ہر نئی پوسٹ ایک نئی تجسس پیدا کرتی ہے جو صارف کو اسکرین چھوڑنے نہیں دیتی۔ اس نفسیاتی نظام کو ماہرین جوئے کی سلاٹ مشین سے تشبیہ دیتے ہیں۔ غیر یقینی کی کیفیت صارف کو بار بار اسکرین دیکھنے پر مائل کرتی ہے۔ مسلسل اسکرولنگ کے طویل مدتی اثرات میں ارتکاز کی صلاحیت کا کم ہونا شامل ہے۔ انسان کسی ایک کام پر توجہ دینے سے قاصر رہتا ہے اور اس کی یادداشت بھی متاثر ہوتی ہے۔ گہرائی سے مطالعہ کرنا یا سنجیدہ کام کرنا مشکل ترین مرحلہ بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا کے استعمال کے بڑھتے ہوئے رجحان کے مضمرات کو دیکھتے ہوئے کئی ممالک میں اس حوالے سے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں برطانوی وزیراعظم نے برطانیہ میں 16سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پرپابندی لگانے کا اعلان کیا ہے جبکہ 17 سال کے نوجوانوں کے لیے سوشل میڈیا پر رات 12 سے صبح 6 بجے تک کرفیو نافذ کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ آسٹریلیا میں بھی 16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عاید کی گئی ہے، طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے نمٹنے اور اپنی ذہنی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے روزانہ کا اسکرین ٹائم محدود کرنا اور موبائل کے استعمال کے دوران وقتاً فوقتاً وقفہ لینا انتہائی ضروری ہے۔ موجودہ دور میں روزمرہ زندگی میں ورزش، کتابوں کے مطالعے اور دوستوں کے ساتھ بالمشافہ ملاقاتوں کو ترجیح دینا وقت کا اہم تقاضا بن چکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی ناگزیر ہے کہ نئی نسل کو موبائل اور سوشل میڈیا کے متوازن استعمال کی تربیت فراہم کی جائے؛ جس کے لیے والدین کو خود عملی نمونہ بننا ہوگا اور سرکاری سطح پر بھی ایک واضح حکمت ِ عملی مرتب کرنا ہوگی۔ کسی بھی معاملے میں عدم توازن ذہنی و جسمانی امراض کا سبب بنتا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی ہماری سہولت کے لیے ہے، لہٰذا اسے ہمارے تابع ہونا چاہیے نہ کہ ہم خود اس کے غلام بن جائیں۔ اگر ہم نے بروقت اخلاقی تربیت، نظم و ضبط، ضبط ِ نفس اور مؤثر قانون سازی کو یقینی نہ بنایا، تو نئی نسل فکری انتشار کے ایک ایسے شدید بحران کا شکار ہو سکتی ہے جو کسی قومی المیے سے کم نہیں ہوگا۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *