آئی پی پیز کا معمہ!

حکمرانوں کی ناقص اقتصادی پالیسیوں کی وجہ سے غریب اور متوسط طبقہ سخت مالی مشکلات کا شکار ہے۔ ایک طرف پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے مہنگائی کا طوفان برپا کر رکھا ہے، تو دوسری جانب یوٹیلیٹی بلوں کی ادائیگی عوام کے لیے سْوہانِ روح بن چکی ہے۔ پورے ملک میں طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ شدید اذیت کا باعث ہے، مگر اس کے باوجود بجلی کے بھاری بلوں اور اوور بلنگ کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ ایک حالیہ رپورٹ میں ان بھاری بلوں کی اصل وجہ سامنے آئی ہے، جس کے مطابق حکومت نے گزشتہ پانچ سال میں آئی پی پیز کو 13 ہزار 397 ارب روپے کی ادائیگیاں کی ہیں، جن میں سے 7 ہزار 275 ارب روپے نجی بجلی گھروں کو بجلی کی پیداوار کی مد میں دیے گئے، تاہم صارفین سے وصول کی گئی بھاری رقم کا ایک حصہ ایسے آئی پی پیز کو بھی ادا کیا گیا جنہوں نے بجلی پیدا ہی نہیں کی۔ بجلی کی پیداواری لاگت میں مسلسل کمی کے باوجود ان کپیسٹی پیمنٹس میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے، جو بالآخر عوام پر بھاری بلوں کی صورت میں مسلط کیا جا رہا ہے۔ اعدادو شمار کے مطابق بجلی کے فی یونٹ وصول کی جانے والی رقم کا تقریباً 70 فی صد حصہ آئی پی پیزکو ادا کیا جاتا ہے، یہی بوجھ صارفین کے مہنگے بجلی بلوں کی بنیادی وجہ بن چکا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ حکومت آئی پی پیز سے چھبیس ہزار میگاواٹ کے مزید معاہدے کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ مذکورہ صورتحال کا المناک پہلو یہ ہے کہ ایک طرف غربت، مہنگائی اور بے روزگاری کے ہاتھوں ستائے عوام مہنگی بجلی کے بوجھ تلے دبے ہیں تو دوسری جانب اربوں روپے ایسے بجلی گھروں کو ادا کیے رہے ہیں جو بجلی پیدا ہی نہیں کرتے جبکہ مالی سال دوہزار بائیس سے دوہزار چھبیس تک بجلی کی خریداری پر اخراجات میں کمی آئی مگر اس کے برعکس کپیسٹی پیمنٹ میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔ گزشتہ پانچ سال کے دوران سو سے زائد آئی پی پیز کو تیرہ ہزار تین سو ستانویں ارب روپے ادا کیا گیا ہے ان ادائیگیوں میں صرف چھے ہزار ایک سو اکیس ارب روپے بجلی کی اصل قیمت تھی جبکہ باقی سات ہزار دو سو پچھتر ارب روپے سے زائد رقم آئی پی پیز کو کپیسٹی پیمنٹس کی مد میں ادا کی گئی یعنی سات ہزار ارب سے زائد رقم سارفین سے وصول کر کے اس بجلی کے لیے دی گئی جو پیدا ہی نہیں کی گئی تھی۔ گزشتہ دنوں سینیٹ کی خزانہ کمیٹی کے اجلاس میں میں نیپرا کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے گئے، جہاں ایف بی آر کے رکن نے بتایا کہ ہم نے آئی پی پیز کو ٹیکس ہالی ڈے دے رکھا ہے آئی پی پیز انکم ٹیکس بھی ادا نہیں کرتی جس مانیٹرنگ کمیٹی کے ذمے داری ہے کہ ان پلانٹس کو وزٹ کرنا انہوں نے کبھی جا کر انہیں وزٹ ہی نہیں کیا کہ پلانٹس پر بجلی بن بھی رہی ہے یا نہیں، اجلاس میں چیئرمین نیپرا اور ارکان کی تنخواہوں میں از خود اضافے کے معاملے پر بھی بحث ہوئی نیپرا حکام نے بتایا کہ چیئرمین نیپرا کی الاؤنسز سمیت تنخواہ 32 لاکھ روپے ہے سابق قانون کے مطابق یہ تنخواہ و مراعات 11 لاکھ روپے تھے سیکرٹری کابینہ ڈویژن نے از خود اضافے کو بھی غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ تنخواہوں میں اضافے کی منصوری کابینہ سے لینی چاہیے تھی کیوں یہ معاملہ اب بحث ٹیکنیکی یا پالیسی کی بحث نہیں رہا بلکہ ایک مکمل گورننس فیلیئر کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر حکومت کی ایسی کیا مجبوری ہے کہ وہ ان معاہدوں پر نظر ثانی نہیں کرتی؟ نہ ہی حکومت اس حوالے سے کسی چیک اینڈ بیلنس کا نظام وضع کرنے پر آمادہ ہے۔ جب تک حکومت آئی پی پیز کے معاہدوں کی قیدی بنی رہے گی عوام مہنگے داموں بجلی خریدنے پر مجبور ہوں گے۔ اس صورتحال کے ازالے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت فی الفور آئی پی پیز معاہدے ختم کرے، اور ان معاہدوں کا فرانزک آڈٹ کرائے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *