نئے صوبوں کی بحث

محسن نقوی کے بیان کے بعد پاکستان کی سیاست میں ایک نیا سیاسی بھونچال آ گیا ہے۔ بحث میں نئے صوبوں کے قیام، انتظامی یونٹس یا مقامی حکومتوں کو مستحکم کرنے کی باتیں سامنے آئی ہیں۔ وزیر ِ داخلہ محسن نقوی نے کھل کر پاکستان کے گورننس بحران کا حل نئے صوبوں سے جوڑ دیا ہے اور ان کے بقول جب تک نئے صوبوں کی تشکیل ممکن نہیں ہوگی، حکمرانی کا یہ بحران ختم نہیں ہوگا۔ اس بیان کے بعد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کافی مشکل کا شکار نظر آتی ہیں اور خاص طور پر پیپلز پارٹی اس فیصلے کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ کیونکہ پیپلز پارٹی سمجھتی ہے کہ سندھ کی تقسیم سے ان کے سیاسی مفادات کو بھی نقصان پہنچے گا۔ مسلم لیگ (ن) بھی نئے صوبوں کے قیام کی حامی نہیں ہے اور وہ اس وقت اس بات پر زیادہ توجہ دے رہی ہے کہ ہمیں نئے صوبوں کے مقابلے میں مقامی حکومتوں کو مستحکم کرنے پر زور دینا چاہیے۔ لیکن واقفانِ حال یہی بتا رہے ہیں کہ طاقت کے حلقے ہر صورت میں نئے صوبے بنانا چاہتے ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اگر طاقتور حلقے نئے صوبوں کی تشکیل کو طاقت ہی کی بنیاد پر حل کرنے کی کوشش کریں گے یا انہیں اسی انداز سے بنائیں گے تو اس سے صوبائی سطح پر ایک نیا سیاسی بحران پیدا ہوگا اور مختلف علاقائی گروہ، علاقائی کارڈ وفاق اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کھیلیں گے۔ اصولی طور پر نئے صوبے بنانے کا معاملہ تمام سیاسی جماعتوں کی مدد سے اتفاقِ رائے کی صورت میں سامنے آنا چاہیے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ نئے صوبوں کا مطالبہ نہ تو پیپلز پارٹی نے کیا ہے اور نہ مسلم لیگ (ن) نے، اور جب محسن نقوی اس پر بات کر رہے ہیں تو لوگوں کا شک یہ جاتا ہے کہ وہ کسی کے اشارے پر نئے صوبوں کی تشکیل کی بات کر رہے ہیں، جس پر بہت سے لوگ اندر کے کھیل کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ سوال بھی اہم ہے کہ اس وقت سیاسی جماعتوں کو مقامی حکومتوں پر زور دینے کی بات تو سمجھ میں آ رہی ہے، لیکن کئی دہائیوں سے یہی سیاسی جماعتیں مقامی حکومتوں کے نظام کو کمزور کرتی رہی ہیں۔ اسی وجہ سے صوبائی سطح پر اضلاع میں مقامی حکومتوں کا نظام کمزور ہے اور لوگوں کو نچلی سطح پر مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی لیے لوگ نئے صوبوں کا مطالبہ کرتے تھے اور ان کو لگتا تھا کہ نئے صوبے کی تشکیل کے بغیر ان کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ لیکن اب سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسٹیبلشمنٹ کے سامنے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نئے صوبوں کی تشکیل کے معاملے پر کوئی بڑی مزاحمت کر سکیں گی یا خاموشی سے سمجھوتا کر لیں گی، یا معاملات میں تاخیری حربے اختیار کریں گے؟ اس وقت مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی پالیسی یہی لگتی ہے کہ نئے صوبوں کی تشکیل پر زیادہ سے زیادہ تاخیر اختیار کی جائے اور محسن نقوی کے بیانات پر زیادہ سخت ردِعمل دینے کے بجائے براہِ راست اسٹیبلشمنٹ سے اپنے تعلقات کو بہتر بنایا جائے اور ان کی مدد سے کوئی ایسا درمیانی راستہ نکالا جائے جو دونوں کے مفاد کو پورا کرتا ہو۔ لیکن کچھ خبریں ایسی بھی سامنے آ رہی ہیں جہاں مسلم لیگ (ن) کے لوگ دبے لفظوں میں نئے صوبوں کی حمایت کر رہے ہیں اور ان کو لگتا ہے کہ ایسا کرنا ان کی مجبوری ہے۔ کیونکہ اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو انہیں اسٹیبلشمنٹ کی ناراضی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ آصف علی زرداری کئی دنوں سے کراچی میں مقیم ہیں اور ان کی کراچی میں مسلسل موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ ایوانِ صدر اور بڑی طاقتوں کے درمیان کچھ مسائل درپیش ہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ آصف علی زرداری نے اسٹیبلشمنٹ کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ نئے صوبوں کے معاملے پر وہ کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے۔ لیکن یہ خبریں بھی عام ہیں کہ بڑی طاقتوں کی جانب سے دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کو تین سے چھے ماہ کا وقت دیا گیا ہے کہ وہ نئے صوبوں کی تشکیل کے معاملے میں ان کی مدد کریں، وگرنہ دوسری صورت میں انہیں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) والے اس وقت کسی بڑی مشکل میں نہیں پڑنا چاہتے، اس لیے وہ کوئی درمیانی راستہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے اپنی سیاسی بقا کو بھی بچا سکیں اور اسٹیبلشمنٹ کو بھی راضی کر سکیں۔ یہ بات بھی ابھی تک سامنے نہیں آ سکی ہے کہ نئے صوبوں کی تشکیل کا فارمولا کیا ہوگا اور اسے سیاسی، انتظامی، قانونی اور مالیاتی بنیادوں پر جن مشکلات کا سامنا ہوگا، ان کو کیسے دور کیا جائے گا۔ قانونی سطح پر 28 ویں ترمیم کی باتیں ہو رہی ہیں، تو کیا نئے صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے اہم ترامیم 28 ویں ترمیم کا حصہ ہوں گی اور اس میں جو بھی رکاوٹیں ہیں، وہ دور کر کے نئے صوبوں کی تشکیل کا معاملہ آگے بڑھایا جائے گا؟ کچھ عرصے سے ہم ملک میں 28 ویں ترمیم کی بازگشت سن رہے ہیں لیکن ابھی تک اس کا کوئی عملی خاکہ سامنے نہیں آ سکا ہے۔ اب کہا جا رہا ہے کہ اگلے دو ماہ میں ملک میں 28 ویں ترمیم منظور ہوگی اور یہی دونوں جماعتیں اس کی منظوری میں پیش پیش ہوں گی۔ وزیر ِ دفاع خواجہ آصف کے بقول دونوں بڑی جماعتیں، یعنی مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی، نئے صوبوں کی تشکیل پر راضی ہو جائیں گی اور یہی نیا نظام ملک میں چلایا جائے گا۔ بلکہ ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے خواجہ آصف کے بقول گوادر اور کراچی صوبوں کے مقابلے میں وفاق کے کنٹرول میں ہوں گے۔ پی ٹی آئی کے لوگ بھی دبے لفظوں میں نئے صوبوں کی حمایت کر رہے ہیں، لیکن ابھی تک تینوں بڑی جماعتوں نے نئے صوبوں کے حوالے سے کوئی واضح پالیسی جاری نہیں کی ہے۔ جبکہ مولانا فضل الرحمن کے بقول موجودہ سنگین ترین حالات میں نئے صوبوں کی تشکیل کا معاملہ چھیڑ کر اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے جو ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ یہ بھی اس نظام کی ناکامی کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ وزیراعظم کے ماتحت کام کرنے والا وزیر ِ داخلہ خود اپنی حکومت کے خلاف چارج شیٹ پیش کر رہا ہے اور اس کے بقول ملک کا نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ لیکن اس سارے معاملے میں وزیراعظم کی بے بسی دیکھی جا سکتی ہے اور کوئی بھی وزیر محسن نقوی کے خلاف بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ کیونکہ سب جانتے ہیں کہ یہ بیان محسن نقوی سے زیادہ کس کا ہے اور کس کے کہنے پر دیا گیا ہے۔ یہی ڈر اور خوف ہے جو اس وقت حکمران جماعتوں کو درپیش ہے اور وہ اس سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اصل میں تو آئین کے اندر مضبوط بنیادوں پر مقامی حکومتوں کے نظام کا تصور موجود ہے۔ اٹھارویں ترمیم کی منظوری کے بعد یہی منطق دی گئی تھی کہ وفاق نے اختیارات صوبوں کو منتقل کیے ہیں اور اب صوبے اپنے سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات مقامی حکومتوں کے نظام کو دے کر اسے مضبوط کریں گے۔ لیکن صوبائی حکومتوں کی ناکامی کی وجہ سے نہ تو گورننس کا بحران حل ہو سکا اور نہ ہی مقامی حکومتوں کے نظام کو طاقت دی جا سکی۔ اس وقت بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ پہلے ہمارے ہاں مقامی حکومتوں کے نظام کو مضبوط کیا جائے اور اس کے بعد نئے صوبوں کی بحث کو طویل مشاورت اور اتفاقِ رائے کے ساتھ آگے بڑھایا جائے۔ کیونکہ اس وقت ہم جن داخلی معاملات میں الجھے ہوئے ہیں ان کے درمیان ہم نئی محاذ آرائی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اس وقت قومی سیاست کو تدبر کی سیاست کی ضرورت ہے اور اس میں سیاسی اور عسکری قیادت کو مل بیٹھ کر ملک کے مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے، نہ کہ ایک دوسرے پر اپنا اپنا ایجنڈا مسلط کر کے آگے بڑھا جائے۔ اگر صوبے بنانا واقعی ناگزیر ہے تو اس کے لیے بتدریج آہستہ آہستہ آگے بڑھا جائے اور اس میں کسی قسم کی سیاسی عجلت کا مظاہرہ نہ کیا جائے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *