مشرقِ وسطیٰ میں عالمی جنگ کے منڈلاتے سائے
مشرقِ وسطیٰ کا خطہ تاحال مشکل میں ہے، آبنائے ہرمز، جو عالمی توانائی کی ترسیل اور سمندری تجارت کی رگِ جاں سمجھی جاتی ہے، اس وقت جنگ میں کسی نہ کسی طرح ہے، جس کی وجہ سے اقتصادی مسائل کی لپیٹ میں ہے۔ ایرانی اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ حالیہ بیانات میں صاف کہا گیا ہے کہ امریکی افواج کے مسلسل اور جارحانہ اقدامات کے باعث اس اہم آبی گزرگاہ سے جہاز رانی مکمل طور پر معطل ہو چکی ہے۔ ادھر دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے مکین، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تند و تیز بیانات اور تہران کی عسکری قیادت کے دعوے اس بات کے غماز ہیں کہ یہ تنازع ایک ایسے ہمہ گیر بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے جس کے اثرات پوری دنیا کی معیشت اور سلامتی کو اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز دنیا کی وہ نالی ہے جہاں سے دنیا بھر کا ایک بہت بڑا حصہ تیل اور گیس کی صورت میں گزر کر مختلف عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔ اس آبی راستے کی بندش یا یہاں تجارتی بحری جہازوں کی آمد و رفت کا رک جانا نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک خوفناک اقتصادی دھچکا ہے۔ ایرانی بحری ٹریفک کی نگرانی اور انتظام کرنے والی اتھارٹی نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں واضح کر دیا ہے کہ موجودہ جنگی اور جارحانہ ماحول میں یہاں بحری جہازوں کا محفوظ سفر قطعی طور پر ممکن نہیں۔ ایرانی موقف کے مطابق، جب تک خطے میں امن اور استحکام مکمل طور پر بحال نہیں ہو جاتا، جہاز رانی سے متعلق کسی بھی نئی درخواست کا جائزہ نہیں لیا جائے گا۔ حالات کے معمول پر آنے کے بعد ہی اس آبی گزرگاہ کے استعمال کے لیے اجازت نامے مرحلہ وار جاری کیے جائیں گے۔ دوسری طرف، پاسداران انقلاب نے بھی یہ تصدیق کی ہے کہ امریکی نگرانی میں آبنائے ہرمز کو عبور کرنے کی کوشش کرنے والے دو بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ تہران اس آبی گزرگاہ پر اپنی اسٹرٹیجک برتری کو برقرار رکھنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے، چاہے اس کی قیمت عالمی تجارت کے اکھڑنے ہی کیو نہ ہو۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مؤقف اس بحران میں انتہائی سخت اور جارحانہ رہا ہے۔ کیمپ ڈیوڈ میں کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ واشنگٹن کا واحد اور حتمی مقصد اس جنگ میں فتح حاصل کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا ایران پر انتہائی سخت حملے جاری رکھے گا اور ایک ایسا وقت لایا جائے گا جب تہران کے حکمران یہ محسوس کرنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ وہ اب مزید اس دباؤ کو برداشت نہیں کر سکتے۔ ٹرمپ نے ان تمام رپورٹوں کو یکسر مسترد کر دیا جن میں ایران کو اب بھی ایک مضبوط پوزیشن میں قرار دیا جا رہا تھا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ایران کی معاشی اور عسکری حالت اس وقت انتہائی تباہ کن نہج پر پہنچ چکی ہے۔ ویتنام اور افغانستان کی سابقہ طویل جنگوں کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا اس تنازع میں صرف پانچ ماہ سے شامل ہے، اور اس قلیل عرصے کے دوران انہوں نے ایران کی عسکری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ جب کہ ایرانی پارلیمانی اسپیکر باقر قالیباف نے ایک اہم اور حیرت انگیز بیان میں جنگ میں فتح حاصل کرنے کا دعویٰ کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اس طویل اور کٹھن جنگ میں فتح یاب ہو چکے ہیں، اور اب وقت آ گیا ہے کہ اس فتح کو مضبوط اور دستاویزی شکل دی جائے۔ باقر قالیباف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران کو روشن مستقبل کی امید اور ایک بہتر وژن کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ سلامتی اور دفاعی امور کے بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا اس بحران کے حوالے سے نکتہ نظر کافی سنجیدہ اور حقیقت پسندانہ ہے۔ آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں عرب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلامتی کے معروف ماہر وولف گینگ پسٹائی نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ اس بات کا دور دور تک کوئی امکان نہیں کہ امریکا آبنائے ہرمز اور شمالی بحیرۂ عرب میں بحری جہازوں کو درپیش ایرانی خطرے کا مکمل خاتمہ کر سکے۔ وولف گینگ پسٹائی کے مطابق، امریکا زیادہ سے زیادہ یہ کر سکتا ہے کہ وہ ایران کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے لیے استعمال کیے جانے والے وسائل، لانچ پیڈز اور عسکری تنصیبات کو نشانہ بنا کر ایسے حملوں کی تعداد میں کچھ کمی یا عارضی حد بندی لے آئے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت واشنگٹن کی مجموعی حکمت ِ عملی ’’گرم اور سرد‘‘ طرزِ عمل پر مبنی دکھائی دیتی ہے۔ یعنی جب بھی ایران آبنائے ہرمز کے طے شدہ ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے یا مشکوک جہازوں کو نشانہ بناتا ہے، امریکا اس کے جواب میں بھرپور اور طاقتور جوابی کارروائی کرتا ہے، لیکن اس رسہ کشی کا کوئی مستقل اور پائیدار حل فی الحال اُفق پر نظر نہیں آتا۔ یہ جنگ اب صرف تہران اور واشنگٹن کے مابین دوطرفہ محاذ آرائی تک محدود نہیں رہی، بلکہ اس کی لپیٹ میں خلیجی ریاستیں اور خطے میں موجود دیگر ممالک بھی آ چکے ہیں۔ تہران کی جانب سے جوابی کارروائیوں کے دوران خلیجی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ خطے کا کوئی بھی ملک اس آگ کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ خلیجی ممالک، جو معاشی ترقی اور سیاحت کے فروغ کے لیے پرعزم تھے، اس وقت شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔ ان کی معیشتوں کا دارمدار امن اور مستحکم تجارت پر ہے، لیکن آبنائے ہرمز کی بندش اور دونوں اطراف سے جاری میزائل حملوں نے ان کے تمام معاشی منصوبوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ خطے کے رہنما اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ اگر اس جنگ کو فوری طور پر سفارتی ذرائع سے نہ روکا گیا، تو یہ ایک ایسی تباہ کن علاقائی جنگ کا روپ دھار سکتی ہے جس کی آگ سے پوری دنیا جھلس کر رہ جائے گی۔ آبنائے ہرمز کا بحران اور امریکا تہران کشمکش آج دنیا کا سب سے بڑا سیاسی اور معاشی سر درد بن چکا ہے۔ ایک طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی طاقت کے نشے میں چْور ایران کو مکمل طور پر گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کے درپے ہیں، تو دوسری طرف ایرانی قیادت اپنے نظریاتی اور عسکری طاقت کے ساتھ اس جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کا عزم کیے ہوئے ہے۔ دفاعی ماہرین کی یہ رائے بالکل درست معلوم ہوتی ہے کہ فوجی طاقت کے بل بوتے پر اس خطے سے تناؤ کا جڑ سے خاتمہ ممکن نہیں۔ جنگیں مسائل کا حل نہیں بلکہ نئی تباہیوں کا پیش خیمہ ہوتی ہیں۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری، اقوام متحدہ اور خطے کے پرامن ممالک آگے آئیں اور دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے اپنا موثر کردار ادا کریں۔ اگر ضد، ہٹ دھرمی اور طاقت کے استعمال کا یہ سلسلہ یونہی جاری رہا، تو آبنائے ہرمز کا یہ طوفان نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کو کھنڈر بنا دے گا بلکہ پوری دنیا کو ایک ہولناک اقتصادی بحران اور ممکنہ عالمی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کرے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہوش کے ناخن لیے جائیں اور بات چیت کے ذریعے اس سنگین تعطل کو ختم کیا جائے۔