اُٹھو! مری دنیا کے غریبوں کو جگا دو!

جاپان کی بین الاقوامی تعاون کی ایجنسی، جائیکا (جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی) کے صدر ڈاکٹر تاناکا آکی بسیکو کی سربراہی میں ایک نو رکنی وفد آج کل پاکستان کے دورے پر آیا ہوا ہے۔ جائیکا، اور پاکستان کی شراکت اور تعاون کی ایک طویل تاریخ ہے جو کم و بیش سات دہائیوں پر محیط ہے۔ وفد کے ارکان نے بدھ کے روز وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے ملاقات کی۔ اس موقع پر اپنی گفت گو میں وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے بتایا کہ پاکستان نے مشکل معاشی مسائل پر قابو پا لیا ہے اور اب پائیدار ترقی کے لیے اصلاحات کا عمل تیزی سے جاری ہے وزیر اعظم نے اس دوران یہ انکشاف بھی کیا کہ ان کے تین سالہ دور اقتدار میں ٹیکسوں کی وصولی دو گنا ہو گئی ہے صرف تین برس کے عرصہ میں ٹیکس وصولی میں اس قدر اضافہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ وزیر اعظم نے اگرچہ اسے اپنی حکومت کی غیر معمولی کامیابی اور کارنامہ کے طور پر پیش کیا ہے کہ تین برس کے دوران سرکاری محصولات دو گنا کر لیے گئے ہیں مگر در حقیقت یہ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمن کے ان الزامات کی تائید و تصدیق ہے کہ حکومت نے ملک کے غریب اور متوسط طبقے پر اس قدر ٹیکس مختلف ناموں سے مسلط کر دیے ہیں جن سے عوام کا کچومر نکل گیا ہے حکومت نے ان جبری اور بلا جواز ٹیکسوں کے ذریعے اپنی تجوریاں تو بھر لی ہیں تاکہ برسر اقتدار حکمران طبقہ اور اشرافیہ کے عیش و عشرت کا سامان کیا جا سکے مگر ناروا ٹیکسوں کے نفاذ کے ذریعے عوام کے جسم سے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑ لیا گیا ہے حافظ نعیم الرحمن نے اسی حکومتی ظلم کے خلاف جمعہ۔ سات اگست کو ملک بھر میں یوم احتجاج منانے کا اعلان کیا ہے جس کے دوران عوام اپنی اپنی موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں پر گھروں سے نکلیں گے اور سڑک پر آ کر ان گاڑیوں کو بند کر دیں گے یوں اہم سڑکوں پر آمدورفت روک کر ظالمانہ ٹیکسوں کے خلاف تاریخی احتجاج کا آغاز کیا جائے گا۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے بجا طور پر ٹیکسوں کے موجودہ ظلم اور جبر پر مبنی نظام کو ڈاکا زنی اور بھتا خوری کا نام دیا ہے۔ حافظ نعیم الرحمن کا کہنا ہے کہ موٹر سائیکل آج کے دور میں غریب شہری کی سواری ہے جسے استعمال کرنے والے طالب علم، عام آدمی، مزدور، کسان اور محنت کش طبقہ کے لوگوں سے حکومت ہر ایک لٹر پر 125 روپے سے زائد ٹیکس، لیوی اور دیگر ناموں سے جبری بھتا وصول کرتی ہے۔ پاکستان میں اس وقت تین کروڑ موٹر سائیکل ہیں جن میں سے اگر دو کروڑ لوگ بھی روزانہ صرف ایک لٹر پٹرول ڈلوائیں تو یہ سالانہ 912 ارب روپے سے زائد کی ادائیگی کرتے ہیں جب کہ ہوم ڈیلیوری اور رائیڈر وغیرہ کا کام کرنے والے محنت کش روزانہ چار لٹر تک پٹرول استعمال کرتے ہیں یوں وہ حکومت کو روزانہ بلا جواز پانچ سو روپے، ماہانہ پندرہ ہزار روپے اور سالانہ ایک لاکھ اسی ہزار روپے لیوی کے نام پر بھتا ادا کرتے ہیں اسی طرح چھوٹی گاڑیوں میں اگر پانچ لٹر روزانہ پٹرول بھی استعمال ہوتا ہو تو متوسط طبقہ کے یہ لوگ سالانہ 730 ارب کا بھتا حکمرانوں کو ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ عوام صرف پٹرولیم لیوی کی مد میں حکومت کو 1900 ارب روپے کا جگا ٹیکس دے رہے ہیں۔ پٹرول کے مہنگا یا سستا ہونے سے جس کا کوئی تعلق نہیں اسی طرح ڈیزل پر ادا کی جانے والی لیوی کی رقم کا حساب بھی کھربوں تک پہنچتا ہے پٹرول اور ڈیزل پر وصول کیے جانے والے اس بھاری بھر کم بھتے کے علاوہ حکمرانوں کی نا اہلی اور ذاتی مفاد پرستی کے شاخسانہ کے طور پر آئی پی پیز سے کیے جانے والے یک طرفہ معاہدوں کے جرمانہ کی مد میں بھی اس ملک کے غریب اور بے بس لوگ سالانہ دو ہزار ارب روپے اس بجلی کے ادا کرتے ہیں جو نہ کارخانے پیدا کرتے ہیں نہ عوام استعمال کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس قدر خطیر رقم جو حکمران غریب عوام کی جیبوں پر ڈاکا ڈال کر وصول کرتے ہیں، جس پر وزیر اعظم فخر کا اظہار بھی کرتے ہیں کہ ہم نے تین برس میں ٹیکسوں کی وصولی دو گنا کر لی ہے، آخر یہ رقم جاتی کہاں ہے جب کہ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ہی ہر گزرتے دن کے ساتھ ملک پر قرضوں کے بوجھ میں بھی اربوں روپے کا اضافہ ہو رہا ہے۔ آیئے جائزہ لیتے ہیں کہ قوم سے وصول کیے جانے والے کھربوں روپے کے یہ ٹیکس کہاں استعمال ہوتے ہیں جب کہ عوام کے مسائل کے حل اور مصائب میں کمی کی بات ہو تو حکمران وسائل کی عدم دستیابی کا جواز پیش کر کے بری الذمہ ہو جاتے ہیں حقائق کچھ اس طرح ہیں کہ حکومت وسائل کی قلت کا بہانہ بنا کر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں تو بمشکل سات فی صد بلکہ پنجاب میں3½ فی صد اضافہ کرتی ہے مگر اسی عرصہ میں چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی کی تنخواہ میں 535 فی صد وفاقی وزراء کی تنخواہوں میں 140 فی صد، سینیٹرز اور ارکان قومی اسمبلی کی تنخواہوں میں 138 فی صد اور ارکان صوبائی اسمبلی کی تنخواہوں میں آٹھ سو سے نو سو فی صد تک اضافہ کرتے ہوئے کوئی عار محسوس کی جاتی ہے نہ وسائل کی کمی آڑے آتی ہے اسی دوران وزیر اعلیٰ پنجاب اپنے لیے شاہانہ آسائشوں سے آراستہ جہاز گیارہ ارب روپے میں اور چیئرمین سینیٹ پر تعیش کار نو کروڑ روپے میں خریدتے بھی ہیں اور نہایت ڈھٹائی سے اس کو اپنا حق بھی جتاتے ہیں۔ عدلیہ انتظامیہ اور عسکری اداروں کی اشرافیہ کی مراعات کی تفصیل میں جائیں تو بھی عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ کیا یہ پاکستان جیسے کھربوں کے مقروض ملک کے حاکم ہیں؟ بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی، ذرا تحقیق و جستجو کریں تو یہ انکشاف بھی ہوتا ہے کہ اس ملک میں بعض ایسے ادارے اور محکمے بھی ہیں جن کا نام تک کبھی لوگوں کو سننا نصیب نہیں ہوا مگر ان میں براجمان مخصوص طبقہ کے لوگ اس قدر معاوضے وصول کر رہے ہیں کہ پناہ بہ خدا… وزارت خزانہ کی دستاویزات کھنگالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ پاک کویت انویسمنٹ کمپنی کے ایم ڈی کی ماہانہ تنخواہ ایک کروڑ 53 لاکھ سے زائد ہے، زرعی ترقیاتی بینک کے سربراہ کی تنخواہ ساڑھے چون لاکھ، ایگزم بینک کے صدر کی تنخواہ 50 لاکھ، گورنر اسٹیٹ بینک کی 40 لاکھ، فرسٹ ویمن بینک کے صدر کی 22 لاکھ سے زائد، چیئرمین ایس ای سی پی کی ساڑھے 36 لاکھ سے زائد، پرال کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کی تنخواہ 52 لاکھ اور سی ای او پاکستان سنگل ونڈو کی ماہانہ تنخواہ ساڑھے 26 لاکھ روپے ہے ان سب کو ملنے والی دیگر مراعات اور الائونسز ان کے علاوہ ہیں سطور بالا میں پیش کیے جانے والے اعداد و شمار کے بعد کیا کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن کی یہ پکار نامناسب ہے کہ با شعور نوجوانو! اٹھو اور حکمرانوں کو بتا دو کہ ظلم کا نظام اب مزید نہیں چلنے دیں گے۔ غریب لوگو! سڑکوں پر آئو اور ظلم کا پہیہ جام کر دو… حکمرانوں کو بھتا دینے سے انکار کر دو! بقول اقبال: ؎

اٹھو! مری دنیا کے غریبوں کو جگا دو
کاخِ امراء کے درو دیوار ہلا دو

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *