فرسودہ نظام بدلنا ہو گا

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے موجودہ نظام کی تباہی کا اعتراف کرتے ہوئے اس خوف کا اظہار کیا ہے کہ نوجوان یا کاکروچ اکھٹے ہو گئے تو ہر چیز الٹ دیں گے۔ نوجوانوں کو دو چار ہزار کے وظائف یا لیپ ٹاپ دے کر خاموش نہیں کیا جا سکتا، نوجوان میرٹ کی بنیاد پر روز گار کے مواقع اور ایک ’’درست و شفاف نظام‘‘ چاہتے ہیں، اسلام آباد میں پاکستان کی پہلی اکنامک سمٹ سے خطاب میں محسن نقوی نے کہا کہ جس نظام میں ہم رہ رہے ہیں یہ گر چکا ہے، اس میں مسائل حل نہیں ہو سکتے، یہ نظام چلتا رہا تو دس سال بعد بھی ہم بیٹھ کر ان مسائل پر بات کر رہے ہوں گے، جب تک ملک کی بنیادی چیزوں کو ٹھیک نہیں کریں گے مسائل رہیں گے، سوال یہ ہے کہ ان چیزوں کو کون ٹھیک کرے گا؟ جس دن آپ لوگوں نے ٹھیک کرنے کا فیصلہ کر لیا تو یہ نظام ٹھیک ہو جائے گا۔ وفاقی وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ ملک کے عام آدمی کو بنیادی سہولت اور اپنی حکومت کے ساتھ رابطہ چاہیے جو ہم نہیں دے پائے۔ ہم عوام کو بروقت انصاف فراہم نہیں کر رہے، نئی عدالتیں بنی ہیں مگر آج بھی عام آدمی انصاف سے محروم اور اپنے حقوق کا متلاشی ہے، حل ایک ہی ہے، آپ انتظامی یونٹس کہیں یا صوبے جو چاہے نام دیں، اسے عوام کی سطح پر لے کر جانا پڑے گا۔ ہمارے نوجوان صرف ایک چیز مانگتے ہیں کہ اپنا نظام ٹھیک کر لیں، ہمیں انصاف میرٹ، روز گار مل جائے اور اگر سرکاری روز گار ہے تو اس پر ہمیں جائز طریقے سے ہر چیز مل جائے ہمیں نوجوانوں کو، ان کی خواہش کے مطابق میرٹ پر جاب کے مواقع دینا ہوں گے۔ وزیر داخلہ کی اس تقریر پر اس کے علاوہ اور کیا عرض کیا جا سکتا ہے کہ ’’لو وہ بھی کہہ رہے ہیں، بے ننگ و نام ہے‘‘۔ جناب محسن نقوی وفاقی حکومت کا حصہ ہیں، ایک اہم وزارت کا قلمدان سنبھالے ہوئے ہیں اور ملک کے مقتدر و فیصلہ ساز حلقوں کے ترجمان تصور لیے جاتے ہیں چنانچہ انہوں نے اپنے سر پرستوں کی وکالت کا حق ادا کرتے ہوئے یہ صفائی بھی دی ہے کہ نظام ٹھیک نہ ہو تو فیلڈ مارشل کی محنت کا کوئی فائدہ نہیں، اللہ نے ہمیں ایسے شخص سے نوازا ہے جو دنیا بھر سے مواقع لا رہا ہے مگر ریڈ لائن عبور نہیں کرنا چاہتا۔ ریڈ لائن عبور نہ کرنے کا تذکرہ کر کے جناب محسن نقوی نے عوام اور سیاستدانوں کو ایک طرح سے دھمکی بھی دے دی ہے کہ ایک راستہ یہ بھی موجود ہے جو ماضی میں اختیار بھی کیا جاتا رہا ہے تاہم انہیں یہ بات بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ وقت اب خاصا تبدیل ہو چکا ہے اور ضروری نہیں کہ جو اقدام ماضی میں کار گر رہا ہو وہ آئندہ بھی موثر قرار پائے خصوصاً اس پس منظر میں کہ آئین میں ایسے کسی اقدام کی سزا کا واضح تعین بھی کر دیا گیا ہے یہ الگ بات ہے کہ ماضی میں اس پر عمل نہ ہو سکا ہو مگر لازم نہیں کہ ہر بار یکساں سازگار حالات میسر آ جائیں۔ جہاں تک نظام کے ناکارہ اور فرسودہ ہونے کی بات کا تعلق ہے تو یہ کوئی انکشاف نہیں جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمن طویل عرصہ سے قوم کو متنبہ کر رہے ہیں کہ موجودہ نظام کو بدلے بغیر چارہ نہیں یہ نظام مکمل طور پر گل سڑ چکا ہے اور عوام کے مسائل کے حل کی صلاحیت سے عاری ہے۔ حافظ نعیم الرحمن تو باقاعدہ اس نظام سے قوم کو نجات دلانے کی تحریک برپا لیے ہوئے ہیں مگر ہمارے وزیر داخلہ شاید یہ حقیقت فراموش کر رہے ہیں کہ موجودہ نظام جناب نقوی صاحب کے ممدوح سرپرستوں ہی کی سرپرستی کی وجہ سے قوم پر مسلط ہے انہوں نے نظام کو عوام کی سطح پر لے جانے کا تذکرہ بھی کیا ہے مگر کیا یہ حقیقت نہیں کہ جب عوام کو فیصلہ کرنے کا موقع دیا گیا تو اس فیصلہ کے نفاذ کے بجائے اپنی مرضی فارم 47 کی حکومت کی شکل میں عوام پر نقوی صاحب کے سرپرستوں کی جانب ہی سے مسلط کی گئی ہے اور یہ حکومت بلاشبہ موجودہ گلے سڑے نظام کی بہت سی خرابیوں کی ذمے دار بھی ہے۔ جہاں تک نظام کی تبدیلی کے لیے ان کے تجویز کردہ نسخے کا تعلق ہے یہ بھی کوئی نیا نہیں اور ان کے سرپرستوں ہی کی پیشکش محسوس ہوتا ہے کیونکہ نقوی صاحب سے قبل ان ہی کے قبیلے کے بعض دیگر احباب بھی پچھلے کچھ عرصہ سے اس نسخے کی پذیرائی کے لیے مہم برپا کیے ہوئے ہیں اور موجودہ اکنامک سمٹ میں بھی اپنے انہی دوستوں کی تجویز پر اس فارمولے کی تائید وزیر داخلہ کی طرف سے کی گئی ہے تاہم جیسا کہ وزیر داخلہ نے خود نشاندہی کی ہے کہ ان کی حکومت اور فیصلہ سازوں کی سر توڑ کوششوں کے نتیجے میں نئی عدالتیں تو بن گئی ہیں مگر عام آدمی آج بھی انصاف سے محروم ہے سوال یہ ہے کہ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ اگر نئی عدالتوں کے قیام کے بعد بھی عوام انصاف سے محروم اور اس کے متلاشی ہیں تو نئے صوبوں کے قیام سے عوام کو مصائب اور مسائل سے نجات مل جائے گی کسی ٹھوس دلیل کے بغیر وزیر داخلہ کی نئے یا زیادہ بڑی تعداد میں صوبوں کی تجویز کو ’’لولی پاپ‘‘ کے سوا کوئی دوسرا نام نہیں دیا جا سکتا۔ ان کا خیال ہے کہ چھوٹے صوبوں کی صورت میں حکمران رعایا کے قریب تر آ جائیں گے اور وہ مسائل کو بہتر طور پر سمجھ کر انہیں حل کر سکیں گے مگر وہ اس حقیقت کو فراموش کر رہے ہیں کہ نئے صوبوں کے قیام سے اشرافیہ کا ایک وسیع تر طبقہ وجود میں آئے گا جو اپنے لیے موجودہ اشرافیہ ہی کی طرح کی شاندار مراعات کا طلب گار ہو گا اور پھر ہر نئے صوبے کے سربراہ اور ان کے ساتھیوں نے اگر اپنے اپنے لیے گیارہ گیارہ ارب روپے کے جہاز اور نو نو کروڑ روپے کی عالی شان گاڑیاں طلب کر لیں تو انہیں انکار کیسے کیا جا سکے گا؟ اور جناب محسن نقوی سے بہتر کون جانتا ہے کہ پاکستان اس وقت کس قدر بھاری قرضوں اور سود در سود کے ناقابل برداشت بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ وزیر داخلہ نے شاید اس پہلو پر غور نہیں کیا کہ درجنوں کے حساب سے مجوزہ نئے صوبوں کے گورنروں، وزرائے اعلیٰ ارکان اسمبلی اور بیورو کریسی کے لیے مطلوب مراعات کے مالی بوجھ کا یہ مقروض ملک برداشت بھی کر سکے گا یا نہیں اور ان مراعات کے لیے عوام پر کس قدر نئے ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنا پڑے گا؟ یوں ان کی یہ تجویز عملاً عوام کے مسائل اور مصائب میں کمی کا سبب ہو گی یا اضافہ کا؟؟ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ نظام یقینا گل سڑ چکا ہے اور عوامی مسائل کے حل کی صلاحیت اس میں قطعاً موجود نہیں مگر نئے صوبوں کی تجویز یا اس طرح کی وقتاً فوقتاً پیش کی جانے والی قطع و برید کی تجاویز سے اس نظام کو درست نہیں کیا جا سکتا اس کے لیے جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے ہوئے مکمل نظام کو اکھاڑ پھینکنا ہوگا اور اس کی جگہ ایک ایسا انقلابی نظام نافذ کرنا ہو گا جس کی اساس اسلام کے ابدی اصولوں پر اٹھائی جائے اور ملک کو اس راستے پر گامزن کیا جائے جس کا وعدہ اس کے قیام کے وقت مسلمانان برصغیر نے اپنے ربّ سے بھی کیا تھا اور دنیا کو بھی بتایا تھا کہ وہ ایک ایسی تجربہ گاہ اپنے لیے حاصل کرنا چاہتے ہیں جہاں وہ قرآن و سنت کے بتائے ہوئے اصول و ضوابط کے مطابق زندگی بسر کر سکیں اور اس دنیا کے ساتھ ساتھ اخروی فلاح سے بھی ہم کنار ہو سکیں۔ اس وعدے کی تکمیل سے ہمارے مسائل بھی حل ہوں گے۔ مصائب سے بھی نجات ملے گی اور دنیا میں بھی ہم ایک باوقار قوم کی حیثیت سے سر اٹھا کر چل سکیں گے…!!!

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *