جبری ٹیکس: احتجاج کا اعلان!
حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کے نتیجے میں ہر گزرتے دن کے ساتھ غربت، مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ ہورہا ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے غریب اور متوسط طبقے کے لیے جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل کردیا ہے، رواں سال جون 2026 میں مہنگائی کی ماہانہ شرح 11.01 فی صد ریکارڈ کی گئی ہے، مگر اس کے باوجود حکمرانوں کا دعویٰ ہے کہ ملک کی معیشت ترقی اور استحکام کی راہ پر گامزن ہے صرف یہی نہیں بلکہ رواں سال کو معاشی ترقی اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کا سال قراردیا جارہا ہے، عوام کو طفل تسلی دی جارہی ہے کہ آنے والے دنوں میں انہیں مزید خوشخبریاں ملیں گی۔ مگر حقیقی صورتحال حکومتی دعوؤں کے برعکس ہے۔ پاکستان کے عوام آج جن گوناگوں مسائل و مشکلات سے دوچار ہیں حکمران طبقے کو اس کا قطعاً احساس نہیں۔ افراطِ زر کی شرح میں روز افزوں اضافے بالخصوص پٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے غریب عوام کی رہی سہی کسر بھی پوری کردی ہے۔ حکومت کو دعویٰ ہے کہ وہ غربت کے خاتمے کے لیے کوشاں ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں افراطِ زر کی شرح بھارت اور بنگلا دیش سمیت خطے کے دیگر کئی ممالک سے اب بھی کہیں زیادہ ہے۔ حکومت اگر واقعتا عوام کے مسائل کے حل اور انہیں ریلیف فراہم کرنے میں سنجیدہ ہوتی تو وہ عملاً اپنے شاہانہ اخراجات کم کرتی اور اشرافیہ کی مراعات کو کم کرتی اور ملک کا وہ طبقہ جو ٹیکس نیٹ سے باہر ہے انہیں ٹیکس نیٹ میں شامل کرتی مگر ایسی کوئی جامع منصوبہ بندی حکومت کی ترجیح ہی میں شامل نہیں۔ عوام کو درپیش مسائل و مشکلات کے حل کے لیے جماعت ِ اسلامی نے ہر دور میں اپنی توانا آواز بلند کی ہے، پٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں اضافے سے عوام کو ہونے والی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے جماعت ِ اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے 7 اگست کو ملک بھر کی شاہراہیں بند کرنے کا اعلان کرنے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے حق کے لیے گھروں سے باہر نکلیں، ان کا کہنا ہے کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات پر لیوی کی مد میں جو کچھ لے رہی ہے وہ بھتا ہے حکومت یہ جبری ٹیکس فوری ختم کرے اور پٹرول کی قیمت کم کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام نے 1900 ارب روپے پٹرولیم لیوی کی مد میں جگا ٹیکس ادا کیا لیکن اس لیوی کا پٹرول کی قیمت سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے ایک طرف ہرلیٹر پٹرول پر 125 روپے لیوی اور ٹیکس لے رہے ہیں دوسری طرف آئی پی پی کو سالانہ 2 ہزار ارب روپے نہ بننے والی بجلی کے دے رہے ہیں۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور عاید پٹرولیم لیوی کے خلاف حافظ نعیم الرحمن نے جون کے ماہ میں وفاقی آئینی عدالت میں جو درخواست دائر کی تھی، عدالت نے اس درخواست کو باقاعدہ نمبر الاٹ کردیا۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے فیصلے نے عوام کو سخت ذہنی و جسمانی اذیت میں مبتلا کردیا ہے۔ حکومت اپنے اقدامات سے عوام کی پیٹھ پر صرف مہنگائی کا تازیانہ ہی نہیں برسا رہی بلکہ پٹرولیم منصوعات کی قیمتوں کو ہوا بنا کر عوام میں خوف کی ایسی فضا قائم کی ہے جس سے ان کا سکون غارت ہوکر رہ گیا ہے، غریب عوام کی اکثریت روزانہ اُجرت پر کام کرتی ہے، ان کی اُجرتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ نہیں ہوتا مگر پٹرول کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ ان میں ذہنی اضطراب اور ڈپریشن کا باعث بنتا ہے۔ ایک عام آدمی کی زندگی اس سے بری طرح متاثر ہو کر رہ گئی ہے۔ قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر نظر ثانی عوام پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہے، جب بھی پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے روز مرہ استعمال کی دیگر اشیاء کی قیمتوں بالخصوص پبلک ٹرانسپورٹ اور مال بردار گاڑیوں کے کرایوں کے نرخ میں اضافہ ہو جاتا ہے جو عوام کے لیے دوہری مصیبت کا باعث ہوتا ہے، ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے کا لازمی اثر بنیادی اشیائے ضرورت کی قیمتوں پر بھی پڑتا ہے اور ان کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں۔ المناک صورتحال یہ ہے کہ اس باب میں حکومت مسلسل جھوٹ کا سہارا لے رہی ہے، روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین سے قبل حکومت نے جب بھی قیمتوں میں اضافہ کیا اس کا جواز یہ پیش کیا کہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے حکومت کو دل پر بھاری پتھر رکھ کر یہ فیصلہ کرنا پڑا مگر عالمی منڈی میں جب قیمتیں کم ہوئیں تو اس کا فائدہ عوام کو نہیں پہنچایا گیا، حکومت عالمی اور علاقائی جنگ کی صورتحال کا بہانہ بنا کر عوام پر شب خون مارتی ہے، حالانکہ لیوی اور ناجائز ٹیکسوں کا جنگ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ’’اگر حکومت کی جانب سے عائد کردہ ظالمانہ اور ناجائز ٹیکس ختم کر دیے جائیں، تو ملک میں پٹرول کی قیمت 200 روپے سے زیادہ نہیں ہو سکتی‘‘۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق آج بھی پٹرول لاگت سے 125 روپے 42 پیسے، ہائی اسپیڈ ڈیزل 112 روپے 54 پیسے مہنگا ہے، پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں شامل لیوی، ٹیکس اور مختلف مارجنز کی تفصیلات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک لیٹر پٹرول پر مجموعی طور پر ایک سو پچیس روپے پچانوے پیسے جبکہ ایک لیٹر ہائی اسپیڈ ڈیزل پر ایک سو بارہ روپے چوَّن پیسے لیوی، ٹیکس اور مارجنز وصول کیے جا رہے ہیں۔ دستاویزات کے مطابق ایک لیٹر پٹرول کی بنیادی لاگت 209 روپے 76 پیسے بنتی ہے تاہم حکومت نے فی لیٹر قیمت 335 روپے 18 پیسے مقرر کی ہے، پٹرول پر 80 روپے پٹرولیم لیوی، 5 روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی، 17 روپے 28 پیسے کسٹمز ڈیوٹی، 7 روپے 16 پیسے ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن، 7 روپے 87 پیسے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن اور 8 روپے 64 پیسے ڈیلرز مارجن شامل ہے۔ اسی طرح فی لیٹر ہائی اسپیڈ ڈیزل کی بنیادی لاگت 270 روپے 92 پیسے ہے جبکہ حکومت نے اس کی قیمت 383 روپے 46 پیسے فی لیٹر مقرر کی ہے۔ دستاویز کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل پر مجموعی طور پر 112 روپے 54 پیسے کی لیوی، ٹیکس اور مختلف مارجنز وصول کیے جا رہے ہیں، ہائی اسپیڈ ڈیزل کے فی لیٹر پر پٹرولیم لیوی 70 روپے 82 پیسے اور کلائمٹ سپورٹ لیوی 5 روپے کے حساب سے عائد ہے، ہائی اسپیڈ ڈیزل کے فی لیٹر میں 15 روپے 68 پیسے کسٹمز ڈیوٹی، 4 روپے 53 پیسے ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن، 7 روپے 87 پیسے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن اور 8 روپے 64 پیسے ڈیلرز مارجن شامل ہے۔ ایک لیٹر پٹرول پر ایک سو پچیس روپے پچانوے پیسے اور ایک لیٹر ہائی اسپیڈ ڈیزل پر ایک سو بارہ روپے چوَّن پیسے لیوی، ٹیکس اور مارجن کا وصول کرنا عوام کے ساتھ سراسر ظلم و زیادتی ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت اپنے تمام مالیاتی خسارے کو پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس اور لیوی لاگو کرکے پورا کرنا چاہتی ہے۔ حکومت کے ان عوام دشمن اقدامات کے خلاف جماعت ِ اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے جس احتجاج کی کال دی ہے، یہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بلاشبہ پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی اور بھاری ٹیکسوں نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے۔ لیوی کی مد میں سالانہ 1800 ارب روپے اکٹھے کیے جانا سراسر معاشی دہشت گردی کے مترادف ہے جس کا سارا بوجھ متوسط طبقے اور مزدوروں پر پڑتا ہے، حکومت کو اس صورتحال کے ازالے کے لیے فوری اور ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے چاہییں تاکہ عوام سکھ کا سانس لے سکیں۔