حماس کے نئے سربراہ کا انتخاب
اسلامی تحریک مزاحمت حماس نے ڈاکٹر خلیل الحیہ کو اپنا نیا سربراہ منتخب کر لیا ہے، وہ اس منصب پر عظیم شہید رہنما یحییٰ السنوار کے جانشین کی حیثیت سے اپنی ذمے داریاں سنبھالیں گے۔ ڈاکٹر خلیل الحیہ کا انتخاب تحریک کے ادارہ جاتی طریقہ کار کے تحت عمل میں آیا ہے اور وہ آئندہ عرصے میں سیاسی دفتر کی قیادت کرتے ہوئے تنظیم کی سیاسی، سفارتی اور تنظیمی ذمے داریوں کی نگرانی کریں گے۔ نئی قیادت کا مقصد تحریک کے تنظیمی تسلسل کو برقرار رکھنا اور فلسطینی عوام کے موقف کی نمائندگی کو مزید موثر بنانا ہے۔ ڈاکٹر خلیل الحیہ حماس کی سینئر قیادت میں شمار ہوتے ہیں اور ماضی میں بھی تحریک کے سیاسی اور سفارتی معاملات میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ ان کا تقرر ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ کی صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے اور خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے، جبکہ جنگ بندی کے معاہدے کے باجود اسرائیل غزہ پر اسرائیلی بمباری جاری ہے۔ اسرائیل نے یحییٰ السنوار کو، جنہیں وہ 7 اکتوبر 2023 کے حملے کے اہم منصوبہ سازوں میں شمار کرتا ہے، حملے کے ایک سال بعد غزہ میں شہید کر دیا تھا۔ یحییٰ السنوار کی شہادت کے بعد حماس کے امور ایک کونسل کے سپرد کیے گئے تھے، جس کی سربراہی تحریک کے سینئر رہنما محمد درویش کر رہے تھے۔ خلیل الحیہ 1960 میں غزہ میں پیدا ہوئے۔ 1987 میں حماس کے قیام سے ہی وہ تنظیم کا حصہ ہیں۔ 2008ء میں ان کے بیٹے حمزہ، جو القسام بریگیڈز کے مجاہد تھے، ایک اسرائیلی ڈرون حملے میں جامِ شہادت نوش کر گئے۔ بعد ازاں 2014ء کے معرکے کے دوران ان کے بڑے بیٹے اسامہ، ان کی بہو اور تین پوتے پوتیوں کو اسرائیلی حملے میں نشانہ بنایا گیا۔ جنوری 2024ء میں بیروت میں ہونے والے اس ڈرون حملے میں وہ بال بال بچے جس میں حماس کے نائب سربراہ صالح العاروری شہید ہوئے تھے۔ستمبر 2025ء میں دوحا کے ایک رہائشی علاقے پر صہیونی حملے میں ان کے بیٹے ہمام، ان کے چیف آف اسٹاف جہاد لباد، تین محافظین اور ایک قطری سیکورٹی اہلکار نے شہادت پائی، تاہم خلیل الحیہ اس حملے میں محفوظ رہے۔ بعد ازاں رواں سال مئی میں ان کے ایک اور بیٹے عزام، جو غزہ کے علاقے دراج میں اسرائیلی حملے کے دوران شدید زخمی ہوئے تھے، زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے۔ خلیل الحیہ 1990 کی دہائی کے اواخر میں تقریباً تین سال اسرائیلی جیلوں میں بھی قید رہے، جبکہ 2007 اور 2014 میں ان پر ہونے والی دو الگ الگ قاتلانہ حملوں کی کوششوں میں بھی وہ محفوظ رہے۔ انہوں نے اپنی اعلیٰ تعلیم کا آغاز کرتے ہوئے 1983ء میں اسلامی یونیورسٹی غزہ سے شعبہ اسلامیات میں گریجویشن کی، جس کے بعد 1986ء میں اردن یونیورسٹی سے ماسٹرز اور 1997ء میں سوڈان کی یونیورسٹی سے علومِ حدیث میں پی ایچ ڈی (ڈاکٹریٹ) کی ڈگری حاصل کی۔ عملی زندگی میں وہ اسلامی یونیورسٹی غزہ میں ڈین آف اسٹوڈنٹس افیئرز کے عہدے پر فائز رہے اور فلسطینی علمائے کرام کی تنظیم سے بھی منسلک رہے۔ پہلی فلسطینی انتفاضہ (انقلاب) کے دوران انہیں صہیونی فورسز کی جانب سے بارہا قید و بند اور شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ حماس کی قیادت نے اسرائیلی جبر، تشدد اور کھلی دہشت گردی و سفاکی کے باوجود جس عزم و ہمت سے اور بلند حوصلے سے نہتے فلسطینیوں کی قیادت کی ہے تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی، جنگی حالات اور غزہ پر مسلسل بمباری کے باجود نئی قیادت کا انتخاب اس بات کی علامت ہے کہ حماس کا تنظیمی ڈھانچہ اور سیاسی فیصلے کا نظام مکمل طور پر فعال و متحرک ہے۔ اسرائیلی حملوں اور بے شمار مجاہدین کی شہادت کے باجود اس کا نیٹ ورک مکمل طور پر کام کررہا ہے۔ خلیل الحیہ خود مذاکراتی ٹیم کا حصہ ہیں، ان کے انتخاب سے مذاکراتی عمل میں آسانی پیدا ہوگی، حماس نے نئی قیادت کے انتخاب سے دنیا کو پیغام دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف مزاحمت، اپنے اصولی موقف اور جائز مطالبات سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹے گی۔ یحییٰ السنوار مسلم حکمرانوں سے شکوہ کناں رہے ہیں کہ نہتے فلسطینی اسرائیلی فوجی درندوں سے پتھروں سے لڑ رہے ہیں جبکہ مسلم حکمران فلسطینیوں کی مدد کرنے کے بجائے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، اب بھی مسلم حکمرانوں کی یہی صورتحال ہے۔ فلسطینی صرف اپنی بقا کی جنگ نہیں لڑ رہے بلکہ وہ امت مسلمہ کا فرضِ کفایہ ادا کررہے ہیں، فلسطینی مجاہدوں کو تنہا چھوڑنے والے مسلم حکمران ایک جرم کے مرتکب ہورہے ہیں جس کا خمیازہ انہیں جلد یا بدیر بھگتنا پڑے گا۔ فلسطین میں مزاحمت کی جو بنیاد حماس کے بانی رہنما شیخ یاسین نے ڈالی تھی ان کی شہادت کے بعد جرأت و بہادری کی اس روایت کو ان کے بعد آنے والے جانشینوں نے بھی جاری رکھا اور دنیا پر واضح کیا کہ مزاحمت ہی میں زندگی ہے، ظلم و ستم اور جبر و تشدد سے مزاحمت کا راستہ روکا نہیں جاسکتا۔ خلیل الحیہ کا انتخاب اسی جرأت مندانہ تاریخ اور مزاحمت کا تسلسل ہے۔