اے ہوس…………اقبال
سلسلہ ہستی کا ہے اک بحرِ نا پیدا کنار
اور اس دریائے بے پایاں کی موجیں ہیں ہزار
اے ہوَس! خْوں رو کہ ہے یہ زندگی بے اعتبار
یہ شرارے کا تبسّم، یہ خسِ آتش سوار
سلسلہ ہستی کا ہے اک بحرِ نا پیدا کنار
اور اس دریائے بے پایاں کی موجیں ہیں ہزار
اے ہوَس! خْوں رو کہ ہے یہ زندگی بے اعتبار
یہ شرارے کا تبسّم، یہ خسِ آتش سوار
اور اے پیغمبرؐ، جو لوگ اس کتاب پر ایمان لے آئیں اور (اس کے مطابق) اپنے عمل درست کر لیں، […]
سْلطانیِ جمہور کا آتا ہے زمانہ جو نقشِ کْہَن تم کو نظر آئے، مِٹا دو جس کھیت سے دہقاں کو […]
صحبت پیر روم سے مجھ پہ ہوا یہ راز فاش لاکھ حکیم سر بجیب ، ایک کلیم سر بکف مثل […]
ہو صداقت کے لیے جس دل میں مرنے کی تڑپ پہلے اپنے پیکرِ خاکی میں جاں پیدا کرے پھْونک ڈالے […]