قال اللہ تعالیٰ وقال رسول اللہ ﷺ

اور اے پیغمبرؐ، جو لوگ اس کتاب پر ایمان لے آئیں اور (اس کے مطابق) اپنے عمل درست کر لیں، انہیں خوش خبری دے دو کہ اْن کے لیے ایسے باغ ہیں، جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ان باغوں کے پھل صورت میں دنیا کے پھلوں سے ملتے جلتے ہونگے جب کوئی پھل انہیں کھانے کو دیا جائے گا، تو وہ کہیں گے کہ ایسے ہی پھل اس سے پہلے دنیا میں ہم کو دیے جاتے تھے ان کے لیے وہاں پاکیزہ بیویاں ہونگی، اور وہ وہاں ہمیشہ رہیں گے۔ (سورۃ البقرۃ:25)

سیدنا زید بن ارقمؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہؐ یہ دعا کیا کرتے تھے: (اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں کوتاہی سے، سستی سے، بڑھاپے سے، بزدلی سے، بخل سے اور عذابِ قبر سے، اے اللہ! تو میرے نفس کو تقویٰ عطا فرما اور اس کو پاک کر دے، تو اس کو سب سے بہترین پاک کرنے والا ہے، تو اس کا دوست بھی ہے اور مالک بھی، اے اللہ! میں تجھ سے پناہ طلب کرتا ہوں نہ ڈرنے والے دل سے، سیر نہ ہونے نفس سے، نفع نہ دینے والے علم سے اور قبول نہ ہونے والی دعا سے) (مسند احمد)

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *