10 ہزار نوجوانوں کو روزگاری کی فراہمی
الخدمت بنو قابل پروجیکٹ کے تحت چوتھے سالانہ کانووکیشن تقریب تقسیم اسناد میں شریک ہزاروں طلبہ و طالبات سے خطاب کرتے ہوئے جماعت ِ اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ بنوقابل پروگرام گیم چینجر بن گیا ہے، ملک کسی اور آپریشن سے نہیں تعلیمی آپریشن سے آگے بڑھے گا جس کا جو کام ہے وہ اپنے حصے کا کام کرے، پاکستان کے نوجوانوں میں پوٹینشل موجود ہے وہ آئی ٹی کے میدان میں آگے بڑھیں۔ ہم نے بنو قابل پروگرام ذاتی فائدے کے لیے نہیں صرف ملک کے نوجوانوں کے فائدے کے لیے شروع کیا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ نوجوان آگے بڑھیں اور ملک کا نام روشن کریں۔ بنوقابل کورس مکمل کرنے پر ہزاروں طلبہ و طالبات کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، الخدمت بنو قابل پروجیکٹ کا آج گریجویشن کانووکیشن ملکی تاریخ کی سب سے بڑی گریجویشن تقریب ہے۔ ہم نے آئی ٹی یونیورسٹی کا خواب دیکھا اب بہت جلد آئی ٹی یونیورسٹی بنائیں گے۔ تقریب میں الخدمت بنو قابل پروجیکٹ سے گریجویٹ کرنے والے 10 ہزار سے زاید طلبہ و طالبات نے شرکت کی، جن میں اسناد بھی تقسیم کی گئیں۔ بنو قابل نامی جس پروجیکٹ کا آغاز 2021ء میں کراچی سے کیا گیا تھا اس کا دائرہ کار اب ملک کے طول و عرض تک پھیل گیا ہے، پاکستان کے 70 شہروں میں اس پروجیکٹ کے تحت آئی ٹی کے کورسز کرائے جارہے ہیں جبکہ 16 لاکھ نوجوانوں بنو قابل پروگرام میں رجسٹرڈ ہوچکے ہیں جو ایک خوش آئند امر ہے۔ بنو قابل پروجیکٹ کے تحت ابتدائی طور پر ملک بھر میں دس لاکھ نوجوانوں کو آئی ٹی کے مختلف کورسز مفت کرائیں جائیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ پوری دنیا میں جس تیزی کے ساتھ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کو فروغ مل رہا ہے اور جس قدر اس میں جدت آرہی ہے اس تناظر میں پاکستان کے باصلاحیت نوجوانوں کو بلا معاوضہ آئی ٹی کے کورسز کروانا وقت کی اہم ضرورت بھی ہے اور حالات کا تقاضا بھی، اختیار اور اقتدار کے بغیر جماعت ِ اسلامی نے جو بیڑا اٹھایا ہے وہ قابل قدر بھی ہے اور لائقِ تحسین بھی۔