میڈیا کی جغرافیائی دھوکا دہی؛ خبروں کے پیچھے کا سچ
عالمی میڈیا میں اکثر خبروں کی اشاعت کے دوران ایک ایسی تکنیک استعمال کی جاتی ہے جس کا مقصد واقعے کے محرکات کو چھپانا اور عوامی رائے کو ایک مخصوص سمت میں موڑنا ہوتا ہے۔ اردن میں امریکی فوجی اڈے پر ہونے والا حملہ اسی رجحان کا تازہ ترین ثبوت ہے۔ جب خبر آئی کہ ’’اردن میں امریکی اڈے پر حملہ ہوا ہے‘‘، تو مغربی اور عرب میڈیا کے بڑے حصوں نے اسے ’’اردن پر حملہ‘‘ قرار دے کر پیش کرنے میں کوئی دیر نہیں لگائی۔ یہ بین الاقوامی تعلقات کی اصطلاح میں ’’فریم اینالسس‘‘ (Frame Analysis) کی ایک منظم کوشش ہے۔
صحافتی دیانتداری کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ جب کسی ملک کی سرزمین پر غیر ملکی فوجی اڈہ موجود ہو، تو اسے ایک متنازع زون کے طور پر دیکھا جائے، نہ کہ اس ملک کا حصہ۔ لیکن یہاں میڈیا نے دانستہ طور پر امریکی فوجی شناخت کو پس ِ پشت ڈال کر میزبان ملک کے نام کو نمایاں کیا تاکہ اسے ایران اور عرب ممالک کے درمیان ایک تصادم کا رنگ دیا جا سکے۔ یہ وہی ’’ایمبیڈڈ جرنلزم‘‘ (Embedded Journalism) ہے، جہاں میڈیا اداروں کے مفادات عالمی طاقتوں کی پالیسیوں سے جڑ جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر، سی این این اور دی نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹنگ میں امریکی فوجی ہلاکتوں کے ساتھ ساتھ اردن کی خودمختاری پر حملے کو مرکزی سرخی بنایا۔ سی این این کے سیکورٹی اینالسٹ پیٹر برگن نے اسے ’’علاقائی عدم استحکام‘‘ کا نام دیا، مگر یہ بتانے سے گریز کیا کہ یہ اڈے خود اس عدم استحکام کی بنیاد ہیں۔ دوسری طرف ’’العربیہ‘‘ اور ’’اسکائی نیوز عربیہ‘‘ نے اسے ’’ایرانی مداخلت‘‘ کے طور پر پیش کیا، جہاں معروف تجزیہ نگار ڈاکٹر عبدل اللہ العساف جیسے مبصرین نے اسے عرب سلامتی پر حملہ قرار دیا، جبکہ اس بات پر خاموشی اختیار کی کہ ان اڈوں کی موجودگی خود ان عرب ممالک کی اپنی پالیسی کا حصہ ہے۔
اس کے برعکس، فارسی میڈیا بشمول ’’پرس ٹی وی‘‘ نے اسے ’’امریکی سامراج کے ٹھکانوں پر ضرب‘‘ کے طور پر رپورٹ کیا۔ ایرانی تجزیہ نگار ’’ڈاکٹر محمد مرندی‘‘ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ امریکی اڈے خطے میں غلبے کے لیے موجود ہیں اور ان پر حملہ براہِ راست امریکی پالیسی پر حملہ ہے۔ اسی طرح ’’مڈل ایسٹ آئی‘‘ کے چیف ایڈیٹر ڈیوڈ ہرسٹ نے اپنے تجزیوں میں انکشاف کیا کہ کیسے امریکا اپنے فوجیوں کی ہلاکتوں کو چھپانے یا اسے ’عرب ایران جنگ‘ کا نام دینے کے لیے میڈیا کا سہارا لیتا ہے۔ یہ میڈیا کا تضاد ثابت کرتا ہے کہ آج کی دنیا میں خبر حقیقت نہیں، بلکہ بیانیہ ہے۔ پروفیسر جان مرشائیمر کا نظریہ یہاں بالکل صادق آتا ہے کہ طاقتور ریاستیں اپنے اسٹرٹیجک مفادات کے لیے میڈیا کو بطور آلہِ کار استعمال کرتی ہیں۔ جب ہم سینٹ کام (CENTCOM) کی اپنی رپورٹ کا جائزہ لیں، تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ 16 امریکی فوجی ہلاکتیں اس بات کی گواہی ہیں کہ یہ جنگ براہِ راست امریکا اور ایران کے درمیان ہے۔
بطور تجزیہ نگار، میرا ماننا ہے کہ جب میڈیا کسی واقعے میں ’’کون‘‘ کو چھپا کر صرف ’’کہاں‘‘ پر توجہ مرکوز کروائے، تو سمجھ لیجیے کہ حقائق مسخ کیے جا رہے ہیں۔ ایک باشعور صحافی کے لیے لازم ہے کہ وہ خبر کے الفاظ کو گنے، اس کے پیچھے چھپے عالمی طاقتوں کے ایجنڈے کو سمجھے۔ ہم نے جان لیا ہے کہ مغربی میڈیا کے پیٹر برگن ہوں یا عرب میڈیا کے ڈاکٹر العساف، ان کا بیانیہ ایک خاص سانچے میں ڈھلا ہوا ہے۔ سچائی صرف ان سرخیوں کے نیچے چھپی ہے جہاں یہ نام، اعداد و شمار اور جغرافیائی حقائق آپس میں ٹکراتے ہیں۔ اب وقت ہے کہ ہم خبروں کے ’’الفاظ کے فریب‘‘ سے باہر نکل کر حقائق کی دنیا کو دیکھیں۔ ایک باشعور صحافی کے لیے لازم ہے کہ وہ خبر کے الفاظ کو گنے، اس کے پیچھے چھپے عالمی طاقتوں کے ایجنڈے کو سمجھے اور قاری کے سامنے وہ حقائق رکھے جو سرخیوں کے نیچے چھپا دیے جاتے ہیں۔ خبر کا تجزیہ کرتے وقت یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ سیاسی طاقتیں ہمیشہ اپنے مقاصد کے لیے زبان کو ڈھالتی ہیں، اور ان کا مقابلہ صرف گہری تحقیق اور حقیقت پسندی سے ہی ممکن ہے۔