بڑھتی ہوئی مہنگائی، دہشت گردی اور حکومتی دعوے
وزیر اعظم شہباز شریف نے اسمبلی کے فلور اور عوامی جلسوں میں بلند آواز میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ اگر انہیں ملک کی خدمت کا موقع دیا گیا تو وہ 6 ماہ میں ملک کے حالات بہتر کر سکتے ہیں۔ اگر میں ایسا نہیں کروں گا تو میرا نام بدل دینا۔ اس سے قبل انہوں نے مختلف انتخابی مہمات اور عوامی جلسوں کے دوران مخالفین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ انہیں کرپشن کے الزامات پر سڑکوں پر گھسیٹیں گے اور ان کا پیٹ پھاڑ کر لوٹی ہوئی دولت برآمد کریں گے اور آٹا سستا کرنے کے لیے اپنے کپڑے تک بیچنے کا اعلان کیا تھا لیکن یہ سب باتیں کھوکھلے دعوے ثابت ثابت ہوئی ہیں۔ بدقسمتی کے ساتھ لوٹی ہوئی رقم واپس اورگھسیٹے کی باتیں کرنے والے آج ان ہی کے ساتھ اقتدار کے شراکت داربن چکے ہیں، آٹے اور پٹرول کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، معیشت تباہی کا شکار ہے۔ اگرچہ شریف خاندان اس ملک پر کئی بار حکومت کرچکا ہے، وزیراعظم میاں شہباز شریف کے موجودہ سیٹ اپ کو 2 سال سے زیادہ عرصہ گزرچکا ہے، جب کہ پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے بعد اپنے چوتھے سال میں ہے، لیکن ابھی تک مہنگائی، معیشت کی بحالی یا بدامنی اور کرپشن میں کمی کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ ہرآنے والا دن عوام کے لیے نئی مشکلات لیکر آتا ہے۔ اب وفاقی حکومت نے عالمی منڈی میں بڑھتے ہوئے تیل کے بحران کے پیش ِ نظر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین ہفتہ وار کے بجائے روزانہ کی بنیاد پر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اختیار آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو منتقل کر دیا گیا ہے اس پر امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ اور روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کا تعین کرنے والے حکومتی فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے عوام کی جیبوں پر روزانہ ڈاکا ڈالنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اتحادی حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے بجائے پٹرول پر عائد 120 روپے فی لیٹر ٹیکس کا خاتمہ کیوں نہیں کرتی، جن کا پٹرول کی اصل قیمت سے کوئی تعلق نہیں۔ امیرجماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت لیوی کے نام پر عوام سے بھتا وصول کرنا کیوں بند نہیں کرتی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات پر عائد غیر ضروری ٹیکس اور لیوی ختم کرے تاکہ مہنگائی سے پریشان عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
وزیر اعظم نے خیبر پختون خوا کے شہر شانگلہ میں ایک بڑے جلسہ عام میں اعلان کیا تھا کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد ’’اپنے کپڑے بیچیں گے اور آٹا سستا کریں گے‘‘ لیکن آج ان کی حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کے باعث عوام دو وقت کی روٹی کے لیے بھی پریشان ہیں۔ موجودہ حکمران جماعت کے ساڑھے چار سالہ دور حکومت میں عام آدمی کو ریلیف دینے کے بجائے ان کی زندگی مزید مشکل ہو گئی ہے۔ عوام اور اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے بار بار کہا جا رہا ہے کہ حکومت کے کپڑے بیچ کر آٹا سستا فراہم کرنے کے دعوے کے دوران بجلی، پٹرول اور روزمرہ کی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے عوام کی کمر ٹوٹ گئی ہے اور ان کا جینا محال ہو گیا ہے۔ دوسری جانب شہباز شریف حکومت مختصر عرصے میں ریکارڈ ملکی اور غیر ملکی قرضے لینے کے باوجود معیشت کو بحال نہیں کر سکی۔ ایوان بالا میں اقتصادی امور کمیٹی کے چیئرمین سیف اللہ ابڑو کا کہنا ہے کہ ملک پر اتنا قرض چڑھ چکا کہ واپس کرنے کے لیے ملک گروی رکھنا پڑے گا۔ ملکی قرض 40 ہزار ارب سے بڑھ کر 90 ہزار ارب تک جا پہنچا ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق چار سال میں 74 سالہ قرضوں کے 90 فی صد کے برابر قرض لیا گیا۔ ایک طرف وزراء، مشیروں اور ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں 400 فی صد اضافہ کرکے ملک کو دیوالیہ کردیا گیا، دوسری طرف سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں صرف 07 فی صد اضافہ کیا گیا۔ عوام کو کفایت شعاری اور سادگی کا سبق سکھایا گیا اور دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے لیے 11 ارب روپے کا طیارہ خرید لیا گیا۔ اسی طرح پیپلز
پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹ کے چیئرمین یوسف رضا گیلانی کے لیے کروڑوں روپے مالیت کی لگژری گاڑی خریدی گئی۔ امن و امان کی صورتحال ایسی ہے کہ کے پی اور بلوچستان میں دہشت گردی عروج پر ہے اور سندھ میں ڈاکو راج ہے۔ ایک عرصے سے ملک کے دو صوبے بلوچستان اور کے پی کے دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ پر ہیں۔ بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کم ہونے کے بجائے بڑھ رہی ہیں۔ یہی صورتحال کے پی کے میں بھی ہے جہاں سیکورٹی فورسز، مذہبی رہنماؤں، پولیس، مساجد اور مدارس کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ امام بارگاہیں محفوظ نہیں ہیں۔ دہشت گرد جہاں چاہتے ہیں حملے کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کا کوئی سیاسی حل نہیں نکل سکا۔ سیاسی حل نہ ہونے کی وجہ سے ملک میں دہشت گردی کے علاوہ دیگر مسائل جنم لے رہے ہیں۔ امن و امان کے نام پر اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود عوام امن کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ صرف صوبہ سندھ سے پریا کماری، فضیلہ سرکی، اجالا سولنگی سمیت 19 بچے لاپتا ہیں۔ یہ سطور لکھنے تک لواحقین 20 دنوں سے سکھرکے قریب ببرلو بائی پاس پر بچوں کی بازیابی کے لیے احتجاج کر رہے ہیں، لیکن حکومت کے کانوں پرجوں تک نہیں رینگتی۔ ایک درجن سے زائد خفیہ ایجنسیاں ہونے کے باوجود معصوم بچوں کو بھی بازیاب نہیں کرا سکتے۔ کیا وہ اتنے چھوٹے چوروں کو ختم نہیں کر سکتے جتنے آپ انگلیوں پر گن سکتے ہیں؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ یا تو سرکارکے لوگ خود اس کاروبار میں ملوث ہیں یا وہ اسے ختم نہیں کرنا چاہتے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے مطابق سندھ میں ڈاکوؤں کے خاتمے کے لیے گزشتہ سال 78 کروڑ روپے خرچ کیے گئے تاہم ڈاکو راج بدستور موجود ہے اور پرتشدد کارروائیوں میں مصروف ہے۔
پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔ گزشتہ سال گندم کی بھرپور فصل ہوئی تھی۔ حکومت نے کسانوں سے 3200 روپے فی من کے حساب سے گندم خریدی۔ لیکن آج حکومتی ناکامی، تاجروں اور ذخیرہ اندوزی مافیا کے گٹھ جوڑ کے باعث یہ 5600 روپے فی من فروخت ہو رہا ہے جس کی وجہ سے آٹے کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ 2100 روپے کا مارجن کون کھا رہا ہے۔ یعنی کیا آٹا، بجلی، آئی پی پییز کمپنیاں، شوگر مافیا، گیس، پٹرول مافیا حکومت سے زیادہ طاقتور ہیں یا خود حکومت کے لوگ ملوث ہیں؟ اس ساری صورتحال میں شہباز حکومت اپنے دعوؤں میں سچی نظر نہیں آتی۔ ملک کو کئی بحرانوں کا سامنا ہے، عوام کے حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے بعد جب پی ڈی ایم کی قیادت کو فارم 47 کے زور پر اقتدار سونپا گیا تو ملک کے محب وطن لوگوں نے اس وقت ہی اپنے خدشات وتحفظات کا اظہار کردیا تھا مگر موجودہ سیاسی اور معاشی بحران نے سچ ثابت کیا ہے۔ اس حکومت کے پاس، وی آئی پی پروٹوکول، کرپشن اور جو جتنا طاقتور اتنا ہی آئین وقانوں سے بالاترہے۔ پارلیمنٹ میں 26 ویں اور 27 ویں ترامیم کی ربڑ اسٹیمپنگ اور اعلیٰ عدلیہ کو بے اختیار کرنے کے باوجود موجودہ حکومت گڈ گورننس، عوام کو ریلیف دینے اور ملک میں معاشی اصلاحات لانے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی ہے۔
امریکا ایران جنگ کے خاتمے میں حکومت پاکستان کے ثالثی کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا لیکن بلوچستان، کے پی اور آزاد کشمیر تک گھر کے مالکان کو کم از کم اپنے گھر کی توخبر لینی چاہیے۔ سابق وزیراعظم خان کے مقدمات سے لے کر بلوچستان کی شورش اور کشمیر میں ہونے والے مظاہروں کو مذاکرات کے ذریعے ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جب تک ملک میں امن، سیاسی، معاشی استحکام اور انصاف کا ماحول نہیں ہوگا، بیرونی سرمایہ کاری نہیں آئے گی اور ملک ترقی نہیں کر سکے گا۔ سیاسی قیادت کو چاہیے کہ وہ سیاسی اور ذاتی اختلافات سے بالائے طاق ہوکر کر قومی مکالمے کے ذریعے ملک کی بھلائی کا روڈ میپ بنائے تاکہ ملک کے مشکل دن ختم ہوں اور عوام بھی کوئی سکھ وچین کا سانس لے سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اپنی مرضی اور طاقت کے ذریعے من مانی اور بے اختیار حکومتیں بنانے کے بجائے عوام کو اپنی پسند کی قیادت منتخب کرنے کا موقع دیا جائے تاکہ انتخابات اور بیلٹ پیپرز پر عوام کا اعتماد بحال ہوسکے!۔