تنقید برائے تنقید کیا ہے، کون کرتا ہے؟

تنقید برائے تنقید کے سلسلے میں ایک مشہور و معروف ماہر ِ نفسیات ڈاکٹر عاتش رضا لکھتے ہیں کہ تنقید برائے تنقید اکثر وہ لوگ کرتے رہتے ہیں جو حاسد ہوں، شریر قسم کا شخص ہو، ہر وقت شرارت کے لیے بہانے ڈھونڈتا پھرے اور ساتھ ساتھ کسی کام کا نہیں ہو، اس میں کوئی صلاحیت نہیں ہوتی، کسی محنت، کسی کام کاج کے قابل نہیں رہتا یہاں تک کہ گھر والوں پر وہ شخص بوجھ بن جاتا ہے۔ ایسا شخص جو اپنے گھر والوں سے صحیح رویہ نہ رکھتا ہو، اپنے فیملی کے ساتھ انصاف اور ان کی خدمت تک نہیں کرتا، بال بچوں بیویوں (اگر زیادہ ہوں) تو ان کے ساتھ گزارا نہیں کر سکتا، ذہنی مریض بن کر رہ جاتا ہے۔ ایسے لوگ جو باصلاحیت ہوں، شریف النفس ہوں، علاقے میں ان کی عزت و احترام ہو تو پھر ایسے حاسدین اور شریر لوگ ان پر تنقید برائے تنقید اور کیچڑ اچھالنا شروع کرتے ہیں تاکہ عزت والے کی عزت پر کوئی داغ لگا سکیں۔ وہ لکھتا ہے کہ تنقید برائے تنقید جھوٹ ہے اور جھوٹوں کا عمل ہے اور یہ ایک ایسی سوچ ہے جس میں ہر چیز پر بلاوجہ اعتراض کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد بہتری لانا نہیں بلکہ دوسروں کو نیچا دکھانا یا بے بنیاد بحث کرنا ہوتا ہے۔ تنقید برائے تنقید (Criticism for the sake of criticism) مقصد یہ بحث کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ لوگ صرف اپنی بات سچی ثابت کرنے کے لیے لڑتے ہیں۔ نقصان، یہ دوسروں کو مایوس کرتا ہے۔ اس سے جھگڑے بڑھتے ہیں۔ مثال: اگر ایک مصور تصویر بناتا ہے، تو عام نقاد کہے گا ’’یہ رنگ اچھا نہیں ہے‘‘، مگر وہ یہ نہیں بتائے گا کہ اسے کیسے بہتر کیا جا سکتا ہے۔ تنقید برائے اصلاح (Criticism for improvement): مقصد: یہ کمیوں کو دور کرنے اور نکھار لانے کے لیے ہوتی ہے۔ فائدہ: اس سے کام اور ہنر بہتر ہوتا ہے۔ مثال: اسی مصور کو نقاد کہے گا ’’یہاں پیلا رنگ تصویر کو پھیکا کر رہا ہے، اگر آپ یہاں نیلا رنگ بھریں تو تصویر بہت روشن ہو جائے گی‘‘۔ یہ فرق سمجھنا بہت ضروری ہے کہ اصل تنقید کا مطلب کسی کام کو پرکھنا اور اچھے برے میں فرق کرنا ہوتا ہے، جبکہ ’’تنقید برائے تنقید‘‘ صرف شور مچانے اور نفرت پھیلانے کے کام آتی ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ ہم نے جانے انجانے میں اختلاف رائے کو نفرت اور دشمنی کے مترادف سمجھ لیا ہے۔ انفرادی سوچ کا مختلف ہونا تو کسی بھی معاشرے کی طاقت ہونا چاہیے مگر افسوس کہ ایسے ذہنی مریض، حاسدین اور مفاد پرست لوگ اسے ذاتی انا اور جنگ سمجھتے ہیں اور پھر اس انا، حسد اور شر کی آگ میں خود ہی جلتے رہتے ہیں۔ کسی مفکر سے کسی نے پوچھا کہ غصہ کیا ہے؟ جواب ملا کہ غصہ یہ ہے کہ تم دوسروں کی غلطیوں کی سزا خود کو دے رہے ہو۔ ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ متنبہ فرماتے ہوئے کہتا ہے کہ: اے جن اور انسان کے گروہ اگر تم سے ہو سکے کہ آسمانوں اور زمین کے کناروں سے نکل جاؤ تو نکل جاؤ؛ جہاں نکل کر جاؤ گے اس کی سلطنت ہے۔ (سورہ الرحمن: ۳۳)

مالک کائنات آپ سب کی دلی جائز حاجات کو پورا فرمائے۔ مشکل ہو یا آسانی ہمیں اپنے ربّ کی ہی طرف رجوع کرنا ہے۔ بے شک وہ سب جانتا ہے اور بڑا مہربان کرم کرنے والا ہے۔ بے شک ہر مشکل کے بعد آسانی آتی ہے۔ یا الٰہی ہمیں ایسے لوگوں کی صحبت عطا فرما جو تیرے پسندیدہ ہوں اور ہمیں تیرے قریب کر دیں جو ہمیں تیری یاد دلاتے رہیں اور ہمارے ایمان میں اضافہ کا سبب بنیں۔ آمین یاربّ العالمین

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *