چہرے نہیں، مشترکہ درد انقلاب لاتے ہیں

تاریخ کا مطالعہ ہمیں ایک بنیادی حقیقت سکھاتا ہے کہ قومیں شخصیات کے گرد زیادہ دیر تک متحد نہیں رہتیں، بلکہ وہ مشترکہ مسائل اور مشترکہ مقاصد کے گرد اکٹھی ہوتی ہیں۔ جب تحریک کسی فرد کی ذات، کسی خاندان یا کسی مخصوص گروہ کے گرد گھومنے لگے تو وہ جلد یا بدیر تقسیم کا شکار ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس جب کسی تحریک کی بنیاد عوام کے مشترکہ درد، انصاف کے مطالبے اور نظام کی اصلاح پر ہو تو وہ معاشرے کی اجتماعی قوت بن جاتی ہے۔ یہی فرق کامیاب اور ناکام تحریکوں کے درمیان حد ِ فاصل کھینچتا ہے۔ حالیہ دنوں بھارت میں نوجوانوں کی ایک غیر معمولی احتجاجی تحریک نے دنیا کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی۔ اس تحریک کی بنیاد کسی سیاسی رہنما کی گرفتاری، کسی جماعت کی انتخابی شکست یا کسی خاندانی اقتدار کے دفاع پر نہیں تھی، بلکہ بے روزگاری، مہنگی تعلیم، امتحانی نظام میں بے ضابطگیوں اور نوجوانوں کی محرومی جیسے مسائل پر تھی۔ یہی وجہ تھی کہ مختلف زبانیں بولنے والے، مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے اور مختلف ریاستوں کے نوجوان ایک ہی مقصد کے لیے یکجا ہوئے۔ ان کے درمیان نظریاتی اختلافات ضرور تھے، مگر ان کا مشترکہ درد ان سب اختلافات پر غالب آ گیا۔ یہاں اصل سبق یہی ہے کہ جب ایک مسئلہ ہر شہری کا مسئلہ بن جائے تو وہ تحریک صرف احتجاج نہیں رہتی بلکہ ایک عوامی شعور میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ دنیا کی بڑی تبدیلیاں بھی اسی اصول پر وقوع پذیر ہوئی ہیں۔ کسی بھی کامیاب عوامی تحریک نے صرف ایک چہرے کو اپنا محور نہیں بنایا، بلکہ پورے نظام میں اصلاح کا مطالبہ کیا۔

پاکستان میں بدقسمتی سے صورتِ حال مختلف نظر آتی ہے۔ یہاں ہر چند ماہ بعد انقلاب کی بات ہوتی ہے، جلسے جلوس نکلتے ہیں، نعرے گونجتے ہیں، مگر کچھ عرصے بعد سب کچھ پہلے جیسا ہو جاتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہماری اکثر تحریکیں کسی نہ کسی شخصیت کے گرد گھومتی ہیں۔ جب تحریک کا مرکز ایک فرد بن جائے تو وہ پورے معاشرے کی نمائندہ نہیں رہتی، کیونکہ ہر شخص اس فرد کے بارے میں یکساں رائے نہیں رکھتا۔ نتیجتاً قوم دو حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے، اور اصل مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ اسی طرح ہمارے ہاں ایک اور المیہ یہ ہے کہ قومی مسائل کو بھی لسانی، صوبائی یا گروہی رنگ دے دیا جاتا ہے۔ بلوچستان کا مسئلہ صرف بلوچوں کا، خیبر پختون خوا کا مسئلہ صرف پشتونوں کا، سندھ کا مسئلہ صرف سندھیوں کا اور شہری علاقوں کا مسئلہ صرف مہاجروں کا بنا دیا جاتا ہے۔ حالانکہ ظلم کسی بھی علاقے میں ہو، ناانصافی کہیں بھی ہو، اس کے اثرات پورے ملک پر پڑتے ہیں۔ جب ہر طبقہ صرف اپنے دائرے تک محدود رہے تو قومی قوت منتشر ہو جاتی ہے، اور یہی تقسیم طاقتور نظاموں کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔ ذرا اپنے اردگرد نظر دوڑائیے۔ بجلی کے ناقابل ِ برداشت بل صرف کسی ایک صوبے کا مسئلہ نہیں، مہنگائی صرف ایک شہر کا مسئلہ نہیں، بے روزگاری صرف نوجوانوں کے ایک طبقے کا مسئلہ نہیں، تعلیم کی زبوں حالی، صحت کی بدانتظامی، پانی کا بحران، کرپشن، انصاف میں تاخیر اور میرٹ کی پامالی پورے پاکستان کے مسائل ہیں۔ ان مسائل نے کسی سندھی، پنجابی، بلوچ، پشتون یا مہاجر میں فرق نہیں رکھا۔ مگر افسوس کہ ان مشترکہ مسائل پر وہ قومی اتحاد پیدا نہیں ہو سکا جو کسی ایک شخصیت یا جماعت کے حق یا مخالفت میں دیکھنے کو مل جاتا ہے۔

یہ حقیقت بھی تسلیم کرنا ہوگی کہ پاکستان کے مختلف علاقوں کے اپنے اپنے مخصوص مسائل ضرور ہیں، لیکن ان سب کی جڑ اکثر ایک ہی نظام میں پیوست ہے۔ ایک ایسا انتظامی اور سیاسی ڈھانچہ جو عوام کی خدمت کے بجائے اقتدار کے تحفظ کو اپنی ترجیح سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں مگر عوام کے بنیادی مسائل جوں کے توں رہتے ہیں۔ چہرے تبدیل ہوتے ہیں، پالیسیاں بدلنے کے دعوے ہوتے ہیں، مگر عام آدمی کی زندگی میں بنیادی تبدیلی نہیں آتی۔ اگرچہ پاکستان میں اکثر سیاسی جدوجہد شخصیات کے گرد گھومتی رہی ہے، تاہم حالیہ برسوں میں جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے عوامی مسائل کو قومی سیاست کا محور بنانے کی ایک نمایاں کوشش کی ہے۔ بجلی کے بھاری بلوں، آئی پی پیز کے معاہدوں، مہنگائی، پانی کے بحران، نوجوانوں کے روزگار، تعلیم اور شہری سہولتوں جیسے مسائل پر ان کی مسلسل مہم نے یہ ثابت کیا ہے کہ سیاست صرف اقتدار کی کشمکش نہیں، بلکہ عوام کے حقیقی مسائل کی نمائندگی بھی ہو سکتی ہے۔ خواہ کوئی ان کی جماعت یا سیاسی مؤقف سے اتفاق کرے یا اختلاف، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ عوامی مسائل کو قومی بحث کا مرکز بنانے کی یہ کوشش پاکستانی سیاست میں ایک مختلف رُخ کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ایک قوم اس وقت مضبوط بنتی ہے جب وہ اپنے اختلافات کے باوجود مشترکہ مفاد پر متحد ہو۔ اگر ہر احتجاج صرف اپنے گروہ، اپنی جماعت یا اپنے لیڈر تک محدود رہے گا تو اس کا فائدہ صرف ان قوتوں کو ہوگا جو تقسیم کی سیاست سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔ مضبوط قومیں اپنے اختلافات کے باوجود قومی مفاد پر اکٹھی کھڑی ہوتی ہیں۔

پاکستان کی تاریخ میں بھی اتحاد کی روشن مثالیں موجود ہیں۔ قیامِ پاکستان کی تحریک میں مختلف زبانیں، مختلف علاقوں اور مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے مسلمان ایک مشترکہ نصب العین کے تحت متحد ہوئے۔ ان کے درمیان علاقائی شناختیں موجود تھیں، مگر وہ ان کی اصل شناخت نہیں تھیں۔ اصل شناخت ایک مشترکہ مقصد تھا، اور اسی مقصد نے انہیں ایک قوم بنا دیا۔ یہی وہ سبق ہے جسے آج پھر سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ کسی بھی معاشرے میں تبدیلی صرف احتجاج سے نہیں آتی بلکہ شعور، تنظیم، کردار اور واضح اہداف سے آتی ہے۔ اگر مطالبات واضح ہوں، طریقۂ کار پرامن ہو اور مقصد ذاتی یا جماعتی مفاد کے بجائے قومی مفاد ہو تو تبدیلی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ اس کے برعکس اگر ہر جدوجہد صرف اقتدار کی منتقلی تک محدود رہے تو نظام اپنی جگہ برقرار رہتا ہے اور صرف حکمران بدل جاتے ہیں۔ پاکستان کے نوجوان اس ملک کا سب سے بڑا سرمایہ ہیں۔ اگر ان کی توانائیاں شخصیت پرستی، نفرت انگیز سیاست اور لسانی تقسیم سے نکال کر تعلیم، روزگار، انصاف، شفاف طرزِ حکمرانی، میرٹ، احتساب اور عوامی فلاح جیسے مشترکہ قومی مسائل پر مرکوز کر دی جائیں تو ملک کی سمت بدل سکتی ہے۔ قومیں اسی وقت آگے بڑھتی ہیں جب نوجوان اپنے مستقبل کو کسی فرد کی قسمت سے نہیں بلکہ اپنے اجتماعی مستقبل سے جوڑتے ہیں۔

آج پاکستان کو ایک ایسے قومی بیانیے کی ضرورت ہے جو ہر شہری کو یہ احساس دلائے کہ کسی ایک علاقے پر ہونے والی زیادتی دراصل پورے ملک پر ہونے والی زیادتی ہے، اور کسی ایک طبقے کے حقوق کی پامالی آخرکار سب کے حقوق کو کمزور کرتی ہے۔ جب تک ہم ایک دوسرے کو اپنا حریف سمجھتے رہیں گے، اصل مسئلہ پس منظر میں ہی رہے گا۔ لیکن جس دن ہم یہ طے کر لیں گے کہ ہماری اصل جنگ غربت، ناانصافی، بدعنوانی، بے روزگاری، نااہلی اور فرسودہ نظام کے خلاف ہے، اسی دن حقیقی تبدیلی کی بنیاد رکھ دی جائے گی۔ تاریخ کا فیصلہ بھی یہی ہے کہ انقلاب نعروں سے نہیں آتے، چہروں سے نہیں آتے، بلکہ مشترکہ درد، مشترکہ شعور اور مشترکہ جدوجہد سے جنم لیتے ہیں۔ پاکستان کے لیے بھی کامیابی کا راستہ یہی ہے کہ شخصیت، قومیت اور گروہی تعصب سے اوپر اٹھ کر ان مسائل پر اتفاق کیا جائے جو ہر پاکستانی کا مسئلہ ہیں۔ جب قوم ایک مشترکہ مقصد کے لیے کھڑی ہوگی تو تبدیلی صرف ایک خواب نہیں رہے گی بلکہ ایک زندہ حقیقت بن جائے گی۔ یہی وہ راستہ ہے جو ایک مضبوط، منصف اور باوقار پاکستان کی طرف جاتا ہے۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *