پاکستان کا نظام قرآن کے ہاتھ میں ہے

جناب وزیر داخلہ بھی بول پڑے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ بندہ کس کا ہے اور زبان کس کی ہے؟ صدر مملکت جناب آصف علی زرداری انہیں اپنا بیٹا کہتے ہیں، محسن نقوی بھی اس پر فخر کرتے ہیں، ان سے دو چار روز پہلے آزاد کشمیر کی ریاستی اسمبلی کے انتخابات کے نتائج پر جناب بلاول زرداری بھی بولے، ریاست فیصلہ کرے کہ نون لیگ اہم یا کشمیر، میں زرداری کا بیٹا ہوں، پھر بعد میں ایک اور بات کہی میں مرتضیٰ اور شاہ نواز بھٹو کا بھانجا ہوں، ہمیں تو کوئی اعتراض نہیں، بالکل یہ بات سچ ہے کہ بلاول آصف زرداری کے صاحب زادے اور مرتضیٰ، شاہ نواز بھٹو کے بھانجے ہیں۔ ہم نے دیکھا ہے مرتضیٰ اور شاہ نواز کا زمانہ، ہمیں یاد ہیں حافظ اسلم شہید، ہم بھولے نہیں ہیں، بہتر ہے کہ جو خاموش ہیں انہیں خاموش ہی رہنے دیں اور صاف صاف بتائیں کہ کیا چاہتے ہیں؟ اور یہ بھی بتائیں کہ اس بیان کا مقصد کیا ہے؟ جس طرح باقی وضاحتیں پیش کی ہیں اس کی بھی وضاحت تو آہی جانی چاہیے۔

وزیر داخلہ نے ایک نئی بات کہی ہے کہ یہ سسٹم گر چکا ہے اور کاکروچ آگئے تو سب کچھ لپیٹ دیں گے، چھوڑیے جناب، بہتر ہے کہ کوئی اور بات کریں؛ آئین کا مطالعہ کر لیتے ہیں، اس کا دیپاچہ پڑھ لیتے ہیں، اس میں عوام کے حقوق پڑھ لیتے ہیں، ریاست کے فرائض کیا ہیں؟ ان پر نظر ڈال لیتے ہیں۔ اس ملک میں انتخابات کیسے ہوں گے؟ اس بات کا جائزہ لے لیتے ہیں۔ اگر سب کچھ آئین کے مطابق ہی ہوتا رہا ہے تو پھر اس ملک کے سسٹم کو کوئی خطرہ نہیں ہے اور نہ یہ سسٹم گرا ہے۔ ہاں البتہ اگر اس کے برعکس معاملہ ہے تو پھر بھی حل آئین کے اندر رہ کر ہی دیکھیں گے تو حل ملے گا۔ آئین سے باہر کوئی حل نہیں ملے گا، آپ آئین سے باہر رہ دیکھ لیں۔سسٹم لپیٹ دیں، ایک اور تجربہ کر کے دیکھ لیں۔سسٹم پھر بھی نہیں چلے گا۔ سسٹم چلانا ہے تو عوام کا اعتماد بحال کرنا ہو گا۔ عوام کا اعتماد بحال کرنا ہے تو ان کا حق حکمرانی ماننا پڑے گا۔اور عوام کا اعتماد ہو تو پارلیمانی، صدارتی، ٹیکنوکریٹک۔کوئی بھی سسٹم چل سکتا ہے۔ جی صرف عوام کا اعتماد۔

آئین کے مطابق ریاست نہ چلانے کی وجہ سے آج ہم مسائل کا شکار ہیں اور ہماری معیشت مسلسل گر رہی ہے۔ امور مملکت چلانا مشکل ہو رہا ہے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک ہمارے سر پر سوار ہیں، قائد اعظم نے کہا تھا کام کام اور بس کام، اور ہمارے حکمران کہتے رہے کہ قرض، قرض اور بس قرض۔ یہ وہ مسئلہ جس کا حل ہمیں تلاش کرنا ہے۔ ایک جانب شور ہے کہ حکومت نوکریاں نہیں دیتی، یقین جانیے کہ ہر سرکاری ادارے میں کام کرنے والوں کی اکثریت کام چور ہے، جب دن کے گیارہ بجے تک ’’صاحب‘‘ دفتر نہیں آتے تو چھوٹا اسٹاف کیوں وقت پر دفتر آئے گا؟ جب ہمارا وزیر خزانہ ہی ’’باہر‘‘ سے آئے گا تو پھر وہ ملک کے لیے کیوں سوچے گا؟ فارم سینتالیس ہو یا فارم ایک سو سینتالیس، یہ نظام اس وقت تک نہیں چل سکتا جب تک آئین کی مکمل پاس داری نہ کی جائے، آئین کہتا ہے کہ اس ملک میں قرآن اور حدیث کے خلاف کوئی قانون نہیں بن سکتا، پارلیمنٹ نے پھر سود کے بارے میں کیوں نرم گوشہ اپنے دل میں بنا رکھا ہے؟ آئے دن بجلی، گیس اور تیل کے نرخ بڑھائے جاتے ہیں اور ہر حکومت کہتی ہے کہ معیشت کی بحالی پہلی ترجیح ہے مگر معیشت پر سیاست اور عوام کی بھلائی سے حکومتوں کی دوری ملک کے لیے ایک زہر قاتل ہے اور ایسے حکمران ملک و قوم کے خیر خواہ نہیں ہوا کرتے۔

دہشت گردی ایک بڑا سنگین مسئلہ ہے، پاکستان کی پارلیمنٹ فیصلہ کرے کہ اسے کیا کرنا ہے؟ دہشت گردی چار دہائیوں سے جاری ہے، پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے ایک ایک کر کے سب اس جنگ سے جان چھڑا کے بھاگ گئے ہیں مگر پاکستان آج بھی وہیں کھڑا ہے پاکستان کو تین اطراف سے دہشت گردی اور جارحیت کا سامنا ہے۔ ایک طرف ہمار دشمن بھارت ہے، دوسری جانب ہمارے مسلم ہمسایہ ملک ہیں، جس کے نتیجے میں کے پی کے اور بلوچستان میں شورش ہے، پاکستان کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ ملک ترقی نہ کر سکے، اور ہم کہہ رہے ہیں کہ سسٹم گر چکا ہے۔ محسن بھائی پہلے عوام کے ووٹ سے براہ راست منتخب ہوں، پھر بات کریں۔

Similar Posts

  • | |

    媒体、人文交流与致中国人民的巴基斯坦声音(第四部分)

    在当今世界,外交已不再局限于高堂华屋、政府部委与官方协议。现代国家间关系的真正根基,建立在民间交往、学术交流、文化融通与有担当的新闻传播之上。如果说两国政府打开了友谊的大门,那么媒体、高校、作家、艺术家、教师、学生以及广大普通市民,就是将这份友谊真正送入彼此心田的使者。 巴中两国关系之所以历久弥坚,一个重要原因在于两国不仅在官方层面,更在民间层面持续付出努力,以求相互理解、日益亲近。学习中文的巴基斯坦青年与日俱增,数以千计的巴基斯坦留学生在华深造,来到巴基斯坦的中国专家、工程师、教师和投资者源源不断,两国间频繁的文化与教育交流,更为这一传统友谊赋予了全新的时代内涵。 媒体:信任的默默建设者 在这个信息飞速传播的时代,媒体不仅是新闻的传递者,更是构建国家间信任的有力桥梁。一名恪守职责的新闻人、一篇客观公正的深度分析、一部真实详实的纪录片或一篇严谨的调研文章,都能在千万人心中塑造出一个国家的真实形象。 正因如此,巴中两国媒体肩负的责任比以往任何时候都更加重大——我们应当杜绝耸人听闻的炒作,转而大力弘扬真实客观、深度研究与积极正向的体验。将中国的科技进步、工业变革、教育体制、绿色环保项目以及社会秩序展现给巴基斯坦民众固然至关重要;同样地,向中国人民展示巴基斯坦的多彩文化、热情好客、青年潜力、媒体活力与发展前景也不可或缺。 作为一名新闻从业者,我深知笔端的责任绝不仅仅是撰写新闻,更是要在不同民族之间架起一座信任、尊重与对话的桥梁。 十人巴基斯坦媒体代表团:友谊的新篇章 本篇随笔收尾之际,恰逢一支由十人组成的巴基斯坦媒体代表团即将启程,赴中华人民共和国进行考察与友好访问。这支代表团不仅是一个记者群体,更承载着巴基斯坦人民对中国人民的深情厚谊、美好祝愿与赤诚之心。 此次访问旨在近距离观察、理解中国的经济发展、科技成就、现代工业、媒体生态、文化教育、技术创新、城市规划及社会民生,并将这些切身体验真实、客观地呈现给巴基斯坦民众。此类访问能够有效消除隔阂、增进互信,进一步筑牢两国民意的纽带。 我有幸作为代表团一员参与此次中国之行。在我看来,这不仅是一项专业的工作职责,更是一份代表巴基斯坦人民出访的至高荣誉。我将竭尽所能,亲眼见证中国的蓬勃发展、人民的勤劳自律、科研的卓越突破以及文化的独特魅力;归国后,我也必将本着求真、严谨与负责的态度,将这一切分享给我的读者。 致中国人民的巴基斯坦声音 若能有幸直接与中国人民对话,我首先想表达最诚挚的谢意——感谢你们在过去七十五年间,无论风雨欢笑,始终与巴基斯坦风雨同舟、并肩前行。在巴基斯坦人民心中,这段情谊绝非普通的外交关系,而是信任、真诚与相互尊重结出的累累硕果,是两国深厚交情的生动象征。 我们对中国举世瞩目的发展成就、科技突破、工业变革、严谨秩序与勤劳品质致以崇高敬意。我们坚信,这条繁荣之路不仅属于中国,更为整个亚洲注入了强大信心。 我们深切期盼,在未来的岁月里,巴中关系的内涵将远远超越政府与机构的框架,进而在学生、教师、科学家、记者、艺术家、作家、企业家以及广大青年之间展现出同样的勃勃生机与热忱。当两国人民能够深入了解彼此,信任便会更加坚实,未来也会愈发光明。 友谊之旅,未完待续 早在多年前,伟大诗人阿拉玛·穆罕默德·伊克巴尔(Allama Muhammad Iqbal)就曾预言东方复兴的曙光: “睁开双眼吧!看这大地,看这苍穹,看这浩瀚无垠的空间, 且看那轮东方冉冉升起的旭日。” […]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *