امریکا، ایران جنگ: عالمی امن کے لیے سنگین چیلنج
امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگ نے نہ صرف عالمی امن کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے بلکہ پوری دنیا کو بے یقینی اور اضطراب کی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ اب اس جنگ کے اثرات میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہے بلکہ عالمی معیشت بھی اس کی زد میں آ چکی ہے۔ عام آدمی کے لیے باعزت طریقے سے زندگی گزارنا روز بروز دشوار ہوتا جا رہا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں ہمیشہ تباہی، خونریزی اور انسانی المیوں کو جنم دیتی ہیں۔ اگرچہ بعض مواقع پر جنگ بندی کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی اب بھی برقرار ہے۔ ماہرین ِ سیاست پہلے ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو غیر متوقع اور ناقابل ِ اعتماد شخصیت قرار دے چکے ہیں، تاہم اس کے باوجود ہر تنازع کا پائیدار حل مذاکرات ہی میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ پاکستان کی ثالثی کی کوششوں پر ایران نے اعتماد کا اظہار کیا، مگر امریکا اب بھی اپنی پالیسی پر قائم ہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کو جانی اور مالی نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ایک جانب امریکا ایران کو سخت نتائج کی دھمکیاں دے رہا ہے تو دوسری طرف ایران واضح کر چکا ہے کہ اس کی سرزمین پر جہاں جہاں سے حملے کیے گئے، ان ممالک کے خلاف جوابی کارروائی اس کا حق ہے۔ ایران نے بعض عرب ممالک کو بھی خبردار کیا ہے کہ اگر وہ اسی طرح امریکا کے لیے سہولت کار بنے رہے تو اس کے نتائج انہیں بھی بھگتنا ہوں گے۔ پاسدارانِ انقلاب نے حالیہ جھڑپوں میں امریکی فوجیوں، جنگی طیاروں اور ڈرونز کو نشانہ بنانے کے دعوے بھی کیے ہیں۔ یہ کہاوت آج بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ ’’امریکا کی دوستی بھی مہنگی پڑتی ہے اور دشمنی بھی‘‘۔ تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ امریکا نے ہمیشہ اپنے قومی مفادات کو ہر چیز پر مقدم رکھا ہے۔ غزہ، کشمیر، افغانستان، عراق اور اب
ایران تک، مسلم دنیا کے حوالے سے اس کی پالیسیاں مسلسل تنقید کی زد میں رہی ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے امریکا کا بھرپور ساتھ دیا، لیکن اس کے نتائج آج بھی ملک دہشت گردی، معاشی بحران، مہنگائی اور بدامنی کی صورت میں بھگت رہا ہے۔ افغانستان سے انخلا کے وقت بھی امریکا نے پاکستان کے کردار کو وہ اہمیت نہ دی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔
امریکا نے برسوں پہلے اربوں ڈالرخرچ کرکے ایرانی انقلاب کو ’’شیعہ انقلاب‘‘ قرار دے کر مسلم دنیا میں فرقہ وارانہ تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کی، مگر اسے خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ بعدازاں اس نے عرب ممالک کو ایران کے خطرے سے خوفزدہ کر کے ان کی سرزمین پر فوجی اڈے قائم کیے اور انہیں اپنی دفاعی حکمت عملی کا حصہ بنا لیا۔ آج انہی اڈوں سے ایران سمیت دیگر مسلم ممالک پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے، جبکہ ان ممالک کے قدرتی وسائل پر بھی امریکی اثرو رسوخ قائم ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اس پوری کشمکش میں سب سے زیادہ نقصان مسلمانوں ہی کا ہو رہا ہے۔ ایران کی جوابی کارروائی ہو یا امریکی حملے، خون مسلمان ہی بہہ رہا ہے۔ عرب ممالک کو بھی اب سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ جن امریکی ضمانتوں پر انہوں نے اپنے ممالک میں فوجی اڈے قائم کرنے کی اجازت دی، وہ نہ صرف انہیں تحفظ فراہم نہ کر سکیں بلکہ خود ان کے لیے خطرات کا باعث بنتے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب ایران، جو سفارتی میدان میں کافی متحرک رہا، حالیہ جنگ میں داخلی کمزوریوں کا بھی شکار دکھائی دیا۔ متعدد اعلیٰ فوجی افسران اور اہم شخصیات پر دشمن کے لیے جاسوسی کے الزامات سامنے آئے، حتیٰ کہ سابق صدر محمود احمدی نژاد کے بارے میں بھی ایسی خبریں گردش کرتی رہیں۔ یہ صورتحال اس حقیقت کی عکاس ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی خفیہ ایجنسیاں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے انتہائی منظم انداز میں کام کرتی ہیں۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے تیل اور گیس کے وسیع ذخائر عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ امریکا کی معیشت کا بڑا حصہ اسلحہ سازی اور توانائی کے شعبے سے وابستہ ہے، اس لیے جنگی ماحول اس کے معاشی مفادات سے بھی جڑا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امن کے بجائے کشیدگی برقرار رہنے سے امریکا سمیت بعض عالمی طاقتوں کے مفادات وابستہ دکھائی دیتے ہیں۔ اگرچہ میڈیا رپورٹوں کے مطابق دونوں ممالک نے وقتی طور پر جنگ روکنے اور سفارتی ذرائع اختیار کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے اور پاکستان و قطر کی کوششیں بھی جاری ہیں، تاہم اس تنازع کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہو رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق جنگ بندی کے باوجود تازہ ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملوں سے لگتا ہے کہ اب مشرق وسطیٰ کی جنگ دیگر علاقوں تک پھیلنے لگی ہے ایران کی حمایت میں حوثیوں کا سعودی عرب کو نقصان پہنچانے کے جواب میں امریکا اور سعودی عرب نے ملکر عراق میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف حملے کیے ہیں جس کی تہران نے شدید مذمت کی ہے۔ پاسداران انقلاب کے مطابق اس نے ہرمز میں تین آئل ٹینکرز جبکہ امریکی فوج کی جارحانہ کارروائیوں کے جواب میں اردن میں امریکی فوج کے فضائی اڈے اور مرکزی کمان کے مرکز کو متعدد بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایاہے‘ صدر ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اردن میں امریکی اڈوں پر حملے کی ایران کو بھاری قیمت چکانا ہو گی۔ اس طرح کی کشیدہ صورتحال اور ایک دوسرے پر حملوں اور دھمکیوں سے نہیں لگتا کہ یہ جنگ جلدی ختم ہونے والی ہے۔
عالمی امن پہلے ہی خطرات سے دوچار ہے اور اگر یہ جنگ طویل ہوئی تو اس کے نتائج پوری دنیا کے لیے نہایت سنگین ہوں گے۔ خود امریکی صدر ٹرمپ بھی یہ اعتراف کر چکے ہیں کہ ایران کو شکست دینا آسان نہیں، کیونکہ یہ ایک بڑی آبادی، وسیع رقبے اور مضبوط دفاعی صلاحیتوں کا حامل ملک ہے۔ دوسری طرف ایران میں قیادت پر حملوں اور بھاری نقصانات کے باوجود قومی اتحاد مزید مضبوط ہوا ہے، جبکہ امریکا اور اسرائیل کو ایرانی مزاحمت نے حیران کر دیا ہے۔ امریکا کے اندر بھی اس جنگ کے خلاف احتجاج جاری ہیں اور رائے عامہ کا ایک بڑا حصہ اس جنگ کی مخالفت کر رہا ہے۔ آنے والے وسط مدتی انتخابات میں یہ معاملہ ٹرمپ کے لیے سیاسی مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ اسی طرح اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو بھی جنگی جرائم کے الزامات اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تنہائی کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ آئندہ انتخابات ان کے سیاسی مستقبل کے لیے بھی فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ آج وقت کا تقاضا ہے کہ مسلم ممالک باہمی اختلافات کو پس ِ پشت ڈال کر اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کریں اور عالمی ادارے امریکا اور ایران کو مستقل جنگ بندی اور بامعنی مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔ کیونکہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ انسانیت، معیشت اور عالمی امن کے لیے ایک مستقل خطرہ ہے۔ اگر دنیا کو مہنگائی، بھوک، بدحالی اور بدامنی سے نجات دلانی ہے تو طاقت کے بجائے مذاکرات، انصاف اور امن کے راستے کو اختیار کرنا ہوگا۔